فیصلے بدلے نہیں جاتے

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
پندرہ ستمبر کو پاناما فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت کا آخری دن تھا اور اس کا ہمیں پہلے سے معلوم تھا کہ فیصلہ آئے گا کیونکہ جج جلدی میں تھے اور خاص طور پر جسٹس آصف سعید کھوسہ گزشتہ دو دن سے کہہ رہے تھے کہ کیس کی سماعت کسی صورت موخر نہیں کی جائے گی یہ بات سب وکیل سن لیں۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ججوں نے اب مزید کوئی فیصلہ نہیں دیناتھا اور جسٹس آصف کھوسہ نے بیرو ن ملک دورے پر جانا ہے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار آج اپنے کمرہ عدالت میں نہیں تھے اس لیے پانچ رکنی بنچ کمرہ عدالت نمبر ایک میں براجمان ہوا، آرام دہ کرسیوں پر ہمیں بھی جگہ ملی اور یہاں کا ساﺅنڈ سسٹم بھی باقی تمام عدالتوں سے ہزار گنا بہتر ہے۔
ساڑھے نو بجے حسن، حسین، مریم اور کیپٹن صفدر کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل کا آغاز کیا، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بنچ کی تشکیل اور نیب ریفرنسز و نگران جج سے متعلق خواجہ حارث کے زیادہ تر دلائل اپناتاہوں کہ میرا مقدمہ بھی وہی ہے۔ سلمان اکرم نے کہاکہ کیپٹن صفدر کا لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ سے کوئی تعلق نہیں، عدالت نے فیصلے میں ان کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے حکم دیا، جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کیپٹن صفدرکا لندن فلیٹس سے کوئی تعلق نہیں بتایاتھا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ رپورٹ کا متعلقہ حصہ پڑھ لیں، ٹرسٹ ڈیڈ کو بھی دیکھ لیں۔ وکیل بولے کہ اگر کیپٹن صفدر نے مریم اور حسین کے درمیان ہونے والی ٹرسٹ ڈیڈ پر بطور گواہ دستخط کیے بھی ہوں تب بھی یہ فلیٹ ان کی ملکیت نہیں، اس لیے ان کے خلاف بھی مالکان کی طرح ریفرنس دائر کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ مجھے نہیں معلوم کہ آخر میں اس الزام کا عدالت میں کیا نتیجہ نکلے گا کیونکہ مقدمہ ٹرائل میں ہے مگر کیپٹن صفدر کا تعلق ہے، کیپٹن صفدر کی اہلیہ نے بھی شروع میں ملکیت سے انکار کیا تھا مگر وجن آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل کے خط سے تصدیق ہوئی کہ ملکیت ہے، جو بھی تعلق ہے اس کی تفتیش کی ضرورت ہے، ہمیں نہیں معلوم اس لیے ٹرائل میں ثبوت آنے دیں وہاں فیصلہ ہو جائے گا۔ وکیل نے کہاکہ یہی کہہ رہاہوں کہ تفتیش و تحقیق ہونی چاہیے مگر یہاں تو ریفرنس دائرکرنے کا فیصلہ دے دیا گیاہے، پہلے انکوائری کرنے دی جاتی، جب سپریم کورٹ نے حکم دے دیا تو شفاف ٹرائل کا حق ہی ختم کردیا گیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ملزمان کے تمام حقوق کا تحفظ ہوگا، ٹرائل کسی بھی صورت متعصبانہ نہیں ہوگا۔وکیل نے کہاکہ جب سپریم کورٹ نے خود ہی تمام شواہد اور گواہوں کے بارے میں اپنے فیصلے میں تعین کردیا تو ٹرائل کورٹ کیسے مختلف فیصلہ کرسکے گی۔ جسٹس کھوسہ نے کہاکہ بے نظیربھٹو کیس میں بھی سپریم کورٹ نے اسی طرح کا فیصلہ دیاتھا اور ٹرائل کورٹ نے اپنا فیصلہ دیا تھا، یہاں ہم مقدمات کے آئینی رخ یا حصے کو دیکھتے ہیں، مقدمے کے فوجداری حصے کو دیکھنا ٹرائل کورٹ کا کام ہے، ہم نے اسی لیے جعلی دستاویزات کے معاملے پر اپنے فیصلے میں کچھ نہیں لکھا اور یہ رخ فوجداری ہے ٹرائل کورٹ سنے گی۔جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ہم یہاں سپریم کورٹ میں ملزمان کی ضمانت کے مقدموں میں بھی آبزرویشن دیتے ہیں مگر ان کا ٹرائل متاثر نہیں ہوتا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہم بہت محتاط ہو کر بولتے اور لکھتے ہیں تاکہ ٹرائل متاثر نہ ہو۔ وکیل نے کہا کہ عدالت نے فیصلے میں ایسی آبزرویشن دیدی ہے کہ ٹرائل آزادانہ اور شفاف نہیں ہوسکے گا، ٹرائل کورٹ کو ہدایت کرنی چاہیے تھی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر نہ ہو۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے؟ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ٹرائل شفاف ہوگا، ملزمان کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور ٹرائل کسی بھی صورت متاثرنہیں ہوگا۔غیرجانبدارانہ ٹرائل کو ہرصورت ممکن بنانے کیلئے اور آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی کے پابند ہیں۔ وکیل نے دوبارہ اپنی بات کہی تو جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ کیا ہم اب آپ کو بیان حلفی لکھ کردیں؟۔جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہماری کسی آبزرویشن سے ٹرائل متاثر نہیں ہوگا، ٹرائل کورٹ کا جج ہم کسی صورت جانبدار نہیں ہونے دیں گے۔
سلمان اکرم راجا نے کہاکہ اس طرح کے مقدمات میں جب معاملہ ٹرائل کورٹ میں جانا ہوتاہے فیصلے میں محتاط الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کے کہنے سے بھی زیادہ محتاط ہیں۔ وکیل نے بھارتی سپریم کورٹ کے گجرات فسادات میں دیے گئے فیصلے کا حوالہ دیا کہ اس میں اعلی عدلیہ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے کیا لکھا، جسٹس عظمت سعید نے وکیل کو فورا روکتے ہوئے کہاکہ بھارت کے اس کیس کا حوالہ نہ دیں معاملہ کہیں اور نکل جائے گا، پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی حوالے دیدیں۔ جس کے بعد سلمان اکرم راجا نے کئی مقدمات کے حوالے دیے۔
جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ جن نکات پر آپ دلائل دے رہے ہیں خواجہ حارث تفصیل سے بات کر چکے ہیں ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے مسکراتے ہوئے کہاکہ آپ کی بدقسمتی ہے کہ سب سے آخر میں دلائل کی باری آئی۔ جسٹس عظمت ہنستے ہوئے بولے کہ اس سے بھی زیادہ بدقسمتی یہ ہوئی کہ خواجہ حارث جیسے وکیل کے بعد آپ کی باری آئی جنہوں نے ہرنکتے کو تفصیل سے بیان کیا۔ سلمان اکرم راجا نے آدھے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کرلیے جس میں زیادہ دیر جج ہی بولتے رہے۔
اس کے بعد شیخ رشید کی حدیبیہ پیپرز ملز اپیل دائر کرنے کیلئے نیب کے خلاف درخواست کی باری آئی۔شیخ رشید نے کہاکہ پانامہ فیصلے سے پہلے نیب نے سات دن میں یہ اپیل دائر کرنے کا بیان دیاتھا، عدالت کے فیصلے میں وہ حصہ شامل ہے مگر اب یہ لوگ کسی کے کہنے پر مکر گئے ہیں، اخبارات کی ہیڈلائن بھی اپنی درخواست کے ساتھ لگائی ہیں۔عدالت نے کہاکہ نیب کی جانب سے پیش ہونے کیلئے پراسیکیوٹر جنرل کو بلایاجائے۔شیخ رشید نے کہاکہ سپریم کورٹ میں بیان دینے کے بعد بھی اگر وہ کام نہیں کیا جاتاتو پھر یہ ملک اللہ کے حوالے ہے۔اس ملک میں چھ ادارے ہیں جو ٹھیک ہوجائیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا، نیب، ایس ای سی پی، ایف بی آر، پیمرا، اور الیکشن کمیشن میں ہر حکومت اپنے درباری بٹھاتی ہے۔شیخ رشید نے کہاکہ آٹھ ادارے ٹھیک ہونا ضروری ہیں۔ جسٹس کھوسہ نے پوچھا کہ نام گنوادیں۔ شیخ رشید پہلے لیے گئے ناموں میں سے چار ہی گنوا پائے اور پانچویں پر اپوزیشن لیڈر کی طرف چلے گئے۔ شیخ رشید نے کہاکہ جہاں عدالت نے اتنا احسان کیا ہے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا طریقہ کار بھی تبدیل کردے تو اس ملک پر احسان ہوگا۔حدیبیہ پیپرز میں بارہ سو ارب معاملہ ہے۔ یہ ادارے جب حکمرانوں کے جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بن جائیں گے تو کچھ نہیں بچے گا، پیمرا میں ایف اے پاس کو لگادیاجاتاہے۔میں سات بار وزیر رہا، مجھے معلوم ہے کہ یہ کیسے کرپشن کرتے ہیں، انہوں اسحق خان کے ذریعے مجھے ہٹاکر اسحاق ڈار کو لگایا کیونکہ میں پیسے ادھر سے ادھر نہیں کرتاتھا۔
کافی دیر سے سیاسی تقریر کیلئے اوور ٹائم دینے والے ججوں میں سے جسٹس کھوسہ بولے کہ شیخ صاحب، آپ ایسے الزام نہ لگائیںاپنے کیس پر فوکس کریں۔ اسی دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار عدالت پہنچے تو استفسار پر بتایاکہ اپیل دائرکرنے کا فیصلہ کیاجاچکاہے، چیئرمین نیب نے منظوری دیدی ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہاکہ آپ لکھ کر لائے ہیں؟۔ وقاص ڈار نے کہاکہ پراسیکیوٹر جنرل ہوں، عدالت میں کھڑا ہوں میر ی بات کا اعتبار اور اہمیت ہونی چاہیے۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ کب دائر کریں گے، عدالت میں بیان دینے سے وقت کے اندر عمل کرنا ہوگا۔ شیخ رشید نے کہاکہ یہ لوگ عدالت میں کہی بات پر عمل نہیں کرتے، کچھ لوگ جھوٹ بولنے میں پی ایچ ڈی ہوتے ہیں۔ پراسیکیوٹر نے اس بات پر ناراضی کا اظہار کیااور کہاکہ سات دن میں اپیل دائر کردی جائے گی۔ جسٹس کھوسہ نے شیخ رشید کو کہاکہ آپ اس طرح بات مکمل ہونے سے پہلے کسی پر الزام نہ لگائیں۔ شیخ رشید بولے کہ وقاص قدیر کی بات نہیں کررہا، یہ اچھے آدمی ہیں میرے شہر راول پنڈی کے ہیں۔ پراسیکیوٹرجنرل نے کہاکہ شیخ صاحب نے مجھے بھی اپنی درخواست میں نہیں بخشا۔
جسٹس آصف کھوسہ نے شیخ رشید سے کہاکہ نیب نے یقین دہانی کرادی ہے کیا اب بھی اپنی درخواست پر زور دیتے ہیں؟۔ شیخ رشید نے کہاکہ عدالت مطمئن ہے تو میں بھی مطمئن ہوں۔ عدالت نے نیب کی یقین دہانی پر شیخ رشید کی درخواست نمٹادی۔ جسٹس کھوسہ نے خواجہ حارث سے کہاکہ کیا آپ کی تمام درخواستوں پردلائل مکمل ہوگئے ہیں؟۔ وکیل نے کہاکہ دلائل دیے ہیں عدالت فیصلہ کرے کو پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ ہی حتمی ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ اس وقت سوادس بجے ہیں، گیارہ بجے آکر بتاتے ہیں کہ ہم نے کیا کرناہے اس پر آپس میں مشاورت کریں گے۔
گیار بج کر دس منٹ پر پانچ رکنی بنچ عدالت میں آیا، جسٹس آصف کھوسہ نے ایک جملے میں کہاکہ، وہ وجوہات جو بعد میں لکھی جائیں گی ان کے تحت یہ تمام نظرثانی درخواستیں خارج کی جاتی ہیں‘۔
اور اس کے ساتھ ہی ہم ٹی وی رپورٹروں نے بریکنگ نیوز دینے کیلئے عدالت کے دروازے کی طرف دوڑ لگادی ۔

متعلقہ مضامین