ملزم اسحاق ڈار حاضر ہو

صبح سویرے جوڈیشل کمپلیکس پہنچا، جہاں سیکورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جاری تھی، قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھیڑ تھی۔ جیسے ہی عدالت کی جانب بڑھا تو بتایا گیا ابھی میڈیا کو داخلے کی اجازت نہیں، تاہم کچھ دیر کی بحث وتکرار کے بعد پولیس نے مشروط اجازت دی، کہا موبائل فون باہر جمع کرا دیں اور کمرہ عدالت میں چلے جائیں، ایسے میں اسحاق ڈار اپنے وکلاء کے ہمراہ جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ اور ساتھ ہی آواز لگی ملزم اسحاق ڈار حاضر ہو، اور یوں ملکی خزانوں کا امین بطور ملزم جج کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ حکومت کو ہر مشکل سے نکالنے والے اسحاق ڈار خود تو خاموش تھے مگر ان کی باڈی لینگویج بہت کچھ بتا رہی تھی۔ اسحاق ڈار کمرہ عدالت میں ہاتھوں کو دباتے، تو کبھی ناخن کو چباتے، جس سے اندازہ کیا جاسکتا تھا وہ خاصے دباو کا شکار ہیں۔ نیب پراسیکوٹر نے اپنے دلائل کا آغاز نیب کی اسحاق ڈار کے گھر پر چھاپوں کی خبر سے کیا جس کی نیب کے ترجمان نے دھڑلے سے تردید کی تھی کہ نیب نے تو کوئی چھاپہ نہیں مارا۔ پراسیکوٹر بولے اسحاق ڈار کے لاہور اور اسلام آباد کے گھر پر نیب نے چھاپے مارے مگر ملزم نہیں ملا، آج اچانک سے عدالت میں پیش ہو گیا۔ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔جس پر عدالت نے کہا ملزم تو پیش ہو گیا اب وارنٹ گرفتاری کا کیاک ریں گے، اس طرح عدالت نے نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو دس لاکھ روپے کے ضمانی مچلکے جمع کرانے کا حکم سنا دیا۔ اور ساتھ ہی ٹرائل میں حاضری یقینی بنانے کے لیے 50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرنے کے احکامات بھی دیے۔ عدالت نے حکم دیا 27 ستمبر کو ملزم دوبارہ پیش ہو تاکہ فرد جرم عائد کی جائے، تو اسحاق ڈار کے وکیل بولے قانون کے مطابق فرد جرم عائد کرنے کے لیے کم سے کم سات دن دیے جاتے ہیں، ویسے بھی 23 والیم فراہم کیے گئے ہیں ایک دن میں پڑھنا ناممکن ہے۔ جس پر عدالت نے دلچسپ ریمارکس دے اور کہا کیا آپ نے جرم قبول کرنا ہے، ویسے بھی سپریم کورٹ نے چھ ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے رکھا ہے، اگر ریفرنس پڑھنے میں مہینہ گزار دیں تو ٹرائل مکمل کیسے ہوگا، وکیل نے جواب دیا میں تو صرف ایک ہفتہ مانگ رہا ہوں، عدالت نے استدعامسترد کرتے ہوئے کہا اتنا وقت کافی ہے۔ حکم صادر کرنے کے بعد اسحاق ڈار کی عدالت میں حاضری لگائی گئی۔ اور سوچوں میں گم اسحاق ڈار نشست پر بیٹھ گئے۔ عدالتی کارروائی ختم ہوئی تو عدالت نے کہا آپ جاسکتے ہیں کیونکہ اب دیگر کیسز بھی سننے ہیں، مگر سوچوں میں گم اسحاق ڈار کو سنائی ہی نہ دیا۔ ایسے میں ساتھ بیٹھے بیرسٹر ظفر اللہ نے انہیں پکڑا اور کہا کہ چلیں، جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یوں ملک کا وزیرخزانہ فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کروا کر واپس سرکاری فرائض سرانجام دینے کے لیے اپنی وزارت کے دفتر چلا گیا ۔

متعلقہ مضامین