وکیل کے سوالات کی بمباری

کمرہ عدالت نمبر ایک میں عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت کے لیے ججز پہنچے تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری موجود نہ تھے، چیف جسٹس نے لیگل ٹیم کے رکن فیصل چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نعیم بخاری کی عدم موجودگی میں عدالتی کارروائی کے نوٹس کون لے گا، وکیل انور منصور جو ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کی نمائندگی کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بخاری صاحب نے کچھ دستاویز جمع کرانی ہے ،وہ دستاویز گزشتہ روز نہیں ملی تھیں،ہو سکتا ہے وہ اس کام میں مصروف ہوں،چیف جسٹس نے حنیف وکیل کو کہا شیخ صاحب آپ اللہ کا نام لیکر جواب الجواب کا آغاز کریں،اکرم شیخ نے جواب الجواب میں سب سے پہلے عمران خان کے دو خطوظ پر اٹیک کیا ،جو انہوں نے جمائمہ کو قرض کی ادائیگی ثابت کرنے کے لیے عدالت میں جمع کرائے تھے،اکرم شیخ نے کہا ان دونوں خطوط پر عمران خان کے دستخط ،فیکس نمبر،ایڈریس مختلف ہیں،وکیل کے اٹھائے اعتراض پر چیف جسٹس نے ایک مرتبہ پھر فیصلہ چوہدری کو مخاطب کیا ،اکرم شیخ بڑے سیریس نکات اٹھا رہے ہیں،کوئی تو ہونا چاہیے جو ان سوالات کا جواب دیں،اکرم شیخ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بنی گالہاراضی پر تعمیر کے لیے نقشہ بنوایا گیا ،اس نقشہ کی فیس اناسی ہزار پاونڈز ادا کی گئی ،وکیل عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ یہ رقم عمران خان نے ادا کی یا جمائمہ خان،اس رقم کی ادائیگی کے لیے پیسہ کہاں سے آیا،عمران خان نے 1982 سے 2002 تک اپنی آمدن اکیس ملین ظاہر کی،بنی گالہ کی تعمیر پر 70 ملین کی رقم خربچ ہو ئی،آمدن سے زیادہ یہ رقم عمران خان کہاں سے لیکر آئے،اس دوران فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ نعیم بخاری راستہ میں ہے کچھ دیر میں وہ عدالت میں ہونگے،چیف جسٹس نے اکرم شیخ سے مکالمہ میں کہا شیخ صاحب آپکا مقدمہ آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے کا ہے ،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ شیخ صاحب کیا آپ کے مقدمہ میں دیگگر نکات پر دلائل کمزور ہیں جو آپ ان اکاونٹنگ کے نکات پر زور دے رہے ہیں،ججز سے اکاونٹنگ کا کام نہ کروائے،آپ کے منہ سے قانون ی بات اچھی لگتی ہے ،جسٹس فیصل عرب نے کہا نیازی سروسز لمیتڈ کو کوئی دوسرا اثاثہ سامنے نہیں آیا،وکیل اکرم شیخ نے کہا موقف اپنایا میرے پاس اتنے وسائل نہیں کہ نیازی سروسز کا کوئی دوسرا اثاثہ سامنے لا سکتا ،عدالت سے استدعا کی تھی نیازی سروسز لمیٹڈ کا ریکارڈ طلب کیا جائے،وہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ،نیازی سروسز کمپنی 2015 تک فعال رہی،عمران خان 2013 کے عام انتخابات میں اپنی آف شور کمپنی کو ظاہر کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ،چیف جسٹس نے بے بسی کا اظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ان حالات میں اہم کیا کر سکتے ہیں،کیا عدالت کے پاس غیر ملکی ریکارڈ طلب کر سکتی ہے؟ وکیل نے کہا کمپنی کے اکاونٹ میں پڑے ایک لاکھ پاونڈز کس کے تھے،کمپنی اکاونٹ میں پڑے اثاثوں کو کبھی بھی ظاہر نہیں کیا گیا ،اس موقع پر جسٹس فیصل عرب نے بڑی دلچسپ بات کی،انہوں نے کہا کہ کسی کا پیسہ کہیں بھی رکھا جائے اس میں کسی دوسرے کا کیا جاتا ہے ،وکیل اکرم شیخ نے کہا کسی کو کچھ جاتا ہو یا نہ ہو لیکن قانون کا ضرور کچھ جاتا ہے ،عدالت خود دیکھ لیں نیازی سروسز کو ظاہر کیا گیا یا نہیں،عمران خان نے جمائمہ کو قرض کی رقم سے ایک لاکھ اسی ہزار ڈالرز زیادہ ادا کیے ،ہونا تو یہ چاہیت تھا جتنی رقم قرض لی اتنی ہی واپس کی جاتی،اتنی اثناء میں نعیم بخاری میں تشریف لے آئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے وہ تاخیر سے پہنچے،دیر سے آنے پر وہ معذور خواہ ہیں،اکرم شیخ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمائمہ کی جانب سے رقم راشد خان کے اکاونٹ میں بھیجنے کو ایشو کو ٹچ نہیں کیا ،کیونکہ ہو سکتا ہے دونوں کے فیملی تعلقات ہوں،صرف ان نکات پو ذور دونگا جو ثابت شدہ ہیں،عمران خان کا جمائمہ سے قرض لینا ثابت شدہ ہے،اس قرض کو عمران خان نے اپنے انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا ،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا یہ رقم کا معاملہ میاں اور بیوی کے درمیان تھا ،اکرم شیخ نے کہا معاملہ باپ بیٹے کا ہو یا میاں بیوی کا ،دیکھا قانون کی نظر سے جائے گا ،عمران خان نے خود تسلیم کیا انہوں نے جمائمہ سے قرض لیا ،چیف جسٹس نے اس مقع پر ریمارکس دیے کہ قرض کو ظاہر نہیں کیا گیا لیکن بنی گالہ اراضی کو جمائمہ کے نام گوشواروں میں ظاہر کیا گیا ،وکیل نے کہا عمران خان کے پہلے تحریری جواب میں نہیں لکھا انہوں نے یہ زمین اپنی اہلیہ کے لیے خریدی،چیف جسٹس نے اکرم شیخ کو مخاطب کرکے کیا یہ بات انہوں نے اپنے ضمنی جواب نمیں لکھی ہے ،وکیل نے کہا عمران خان نے زمین کی خریداری پر تین موقف اختیار کیے ہیں،آخری جواب میں عمرا خان نے زمین کی خریداری سے لا تعلقی کا اظہار کہا وہ کہتے ہیں یہ زمین جمائہ نے خریدی،چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا عمران خان کے تحریری جواب میں تضآد کدھر ہے،مان لیں اراضی بے نامی تھی لیکن مالک تو جمائمہ خان تجھی،بے نامی اراضی کو کسی فورم پر چیلنج بھی نہیں کیا گیا ،دیکھ رہے کوئی منی لانڈرنگ تو نہیں ہوئی،اس مقدمہ میں کسی کی ایمانداری کا جائزہ لینا ہے ،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا عمران خان نے بنی گالہ کی اراضی کے لیے رقم برطانیہ سے آنے کا ریکارڈ دے دیا ہے،انہوں نے پیسٹھ لاکھ جمائمہ کو پہلے اور پانچ لاکھ باسٹھ ہزار پاونڈز میں بعد میں تحفہ کیے ،وکیل نے گزشتہ سماعتوں کی طرح ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے پنامہ کیس کا حوالہ دے ڈالا،اکرم شیخ نے کہا پھر آپ کہتے ہیں کہ میں پانچ ججز کے فیصلے کو حوالہ دیتا ہو،کیا وہاں نواز شریف کا تنخواہ لینے کا رادہ تھا ؟ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا پنامہ فیصلے کو پڑھ لیں،آپ سے یہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے ،چیف جسٹس نے کہا ہو سکتا ہے پنامہ کا فیصلہ اس مقدمہ سے متعلقہ نہ ہو ،کیونکہ یہاں معاملہ میاں اور اہلیہ کے درمیان ہے،وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ اگر اسیا ہے تو عدالت کہہ دیں میاں بیوی کے درمیاں قرض کا معاملہ قانونی طور پر ڈکلیئر کرنے کی ضرورت نہیں، وکیل نعیم بخاری اور عمران خان خود کہہ رہے کہ انہوں نے جمائمہ سے رقم قرض لی،عدالت اس کو تحفہ کیسے کہہ سکتی ہے؟ چیف جسٹس نے اکرم شیخ کے دلا۴ل میں جذباتی پن کو دیکھتے ہوئے ریمارکس میں عدالت کو بتایا گیا کہ آف شور کمپنی فلیٹ خریدنے کے لیے بنائی گئی،آف شور کمپنی کے اکاونٹ میں دیگر آمدن کا پیسہ بھی آتا رہا،2003 میں عمران خان نے کمپنی اکاونٹ میں پڑی ایک لاکھ پاونڈ کی رقم کو ظاہر نہیں کیا ،درخواست گزار کے وکیل کہتے ہیں انہیں یہ رقم ظاہر کرنا چاہیے تھی ،وکیل اکرم شیخ نے ایک مربہ پھر کہا کہ عمران خان نے قرض لیا تھا تو انہیں یہ قرض اپنے انتخابی گوشواروں میں ظاہر کرنا چاہیے تھا،اس موقع پر نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ جمائمہ کو قرض کی رقم ادا کرنے کی دستاویز مل گئی ہے ،بدھ کے روز وہ دستاویز عدالت میں جمع ہوجائے گی،اس دوران اکرم شیخ جو نعیم بخاری کے عدالت سے بات کرنے کی وجہ سے اپنی نشت پر بیٹھ چکے تھے ،وپ اپنی سیٹ سے اٹھے اور کہا عدالت کے کہنے پر پنامہ کا فیصلہ دوبارہ دیکھا ہے ،جسٹس عمر عطاء بندیال نے پنامہ فیصلے کی بات وکیل کی جانب دوبارہ دوہرانے پر ریمارکس میں کہا پنامہ میں معاملہ ایف زیڈ کمپنی اور بورڈ چیرمین کے درمیاں تنخواہ کا تھا ،وہاں تنخواہ کا معاملہ باپ بیٹے کے درمیان نہیں تھا ،وکیل نے کہا وہاں کمپنی میں کوئی دوسرا حصہ دار نہیں تھا ، خاندانی کمپنی تھی،عمران خآن اپنے موقف پر قائم نہیں رہتے ہیں بار بار موقف بدلتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اہلیہ سے قرض لینے اور واپس کرنے میں بظاہر کوئی بد نیتی یا فراڈ نظر نہیں آتا،عدالت کو کمپنی کے سال 2003 کے اکاونٹ کی تفصیل نہیں فراہم کی گئی،کیا اس وقت اکاونٹ میں پڑی رقم عمران کان کا اثاثہ نہیں تھی ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کمپنی اکاونٹ میں پڑی رقم عمران خان کی نہیں،بلکہ کمپنی کا اثاثہ تھی یہ رقم فلیٹ کی قانونی چارہ جوئی پر خرچ ہوئی،یہ رقم عمران خان کے کنٹرول میں نہیں تھی ،چیف جسٹس نے ایک مرتبہ پھر کہا عدالت کسی کی ایمدانداری کو دیکھ رہی ہے ،عمران خان ایک پاونڈز کی رقم مانگ سکتے تھے ،جسٹس فیصل عرب نے کہا کیا عمران خان کو 2002 میں الیکشن فارم غلط بھرنے پر ڈی سیٹ کردیں؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی جسٹس فیصل عرب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا یہ بتائیں عمران خان نے 2013 کے الیکشن میں کیا چھپاپا،2002 کے الیکشن پر نا اہلی کا وقت گزر چکا ہے ،عمران خان کہتے ہیں کمپنی ان کے نام نہیں تھی ،وکیل اکرم شیخ نے کہا کیا عدالت نے عمران خآن کا موقف تسلیم کر لیا ؟ حالیہ عام انتخابات میں انہوں نے آف شور کمپنی کو ظاہر نہیں کیا ،یہ کمپنی ایک اثاثہ تھی،فروکت ہو تی تو اس کا فائدہ عمران خان کو ملنا تھا،عدا لت ماضی کی غلط بیانی پر متعدد اراکین اسمبلی کا نا اہل کر چکی ہے ،چیف جسٹس نے اکرم شیخ پر اعتراض اٹھایا آپ کی درخواست میں جمائمہ سے قرض کو ظاہر نہ کرنے کا نقطہ نہیں اٹھایا گیا ،اکرم شیخ اپنی دلیل کے مسترد ہونے پر تھوڑا جذباتی ہوگئے،انہوں نے کہا کیا ایک شخص کو سات خون معاف ہیں ،وہ جو مرضی کرے کسی نے نہیں پوچھنا ،عمران خان پہلے آف شور کمپنی کے پیچھت چھپتے تھے اب وہ اپنی اہلیہ کے پیچھے چھپ رہے ہیں،عدالت پانچ ججز کے فیصلے انکار نہیں کر سکتی،عمران خان ملک کے وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں، مرد بنے ،اپنے اثاثے کو ظاہر کریں، سینہ تان کر اپنے اثاثے ظاہر کریں، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا غیر قانونی اقدام کی نشاندہی کریں ،چیف جسٹس نے کہا کہ شیخ صاحب ہم نے نوٹ کر لیا کہ عمران خان نے ایک لاکھ پاونڈ ز کا اثاثہ ظاہر نہیں کیا ،وکیل نے کہا عمران خان نے گرینڈ حیات ٹاور میں فلیٹ کی ادا ایڈوانس ستر لاکھ کی رقم بھی 2014 کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کی،عدالت نے پنامہ میں تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر نا اہلی کا فیصلہ دیا،عمران خان بھی تسلیم کلرتے ہیں انہوں نے ایڈوانس رقم کو گوشواروں میں ظاہر نہیں کی،عدالت کے سامنے مقدمہ پنامہ سے مختلف نہیں،عمران خان کو عدالت کو اپنا موقف پیش کرنے کے اٹھارہ مواقع دیے ،نواز شریف کی نا اہلی وصول نہ کی گئی تنخواہ پر ہوئی،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا وہ تنخواہ گوشاروں میں ظاہر نہیں تھی،پنامہ میں پان ججز نے الگ الگ فیصلہ دیا ،وکیل نے کہا پانچ ججز کی رائے الگ الگ ہو سکتی ہے لیکن کورٹ آرڈر ایک ہی تھا ،عدالت نے ججز کی رائے کو نہیں ،کورٹ آرڈر کو دیکھنا ہے ،عدالت جو فیصلہ دے گی سر خم تسلیم کریں گے،فلیٹ کی ایڈوانس رقم اثاثہ تھی جو ظاہر کرنا قانونی ذمہ داری تھی ،اکرم شیخ کے دلائل مکمل ہونے پر چیف جسٹس نے کہا اس مقدمہ کی کاروائی مکمل ہوگئی،لیکن فیصلہ محفوظ نہیں کررہے،جہانگیر ترین کا مقدمہ بھی آف شور کمپنی کا ہے،اس مقدمہ کی سماعت کے دوران کوئی سوال ذہن  میں آیا تو دونوں جانب کے وکلاء سے جواب پوچھ سکتے ہیں،سپریم کورٹ میں اب جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت کا دوبارہ سے آغاز ہو گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے