اسپیکر نے تنازعہ ختم کر دیا

بدھ کی صبح بلایا گیا قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کے زیر صدارت مقررہ وقت سے تھوڑی تاخیر سے شروع ہوا، الیکشن بل 2017 کے بارے میں سپیکر نے کہا کہ منظوری کے دوران ارکان اسمبلی کے حلف نامہ میں کلریکل غلطی ہوئی ہے اس معاملہ کو آج ہی حل کریں گے۔ جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے معاملہ پر غور کیلئے پارلیمانی راہنماؤں کا اجلاس بلا لیا۔
پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ تمام جماعتوں نے ختم نبوت کے معاملے پر ترمیم بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون بن گیا ہے اب اس میں دوبارہ ترمیم کی جائے گی۔ ترمیم سے متعلق بل ایوان زیریں اور ایوان بالا میں پیش کیا جائے گا جبکہ قانون کو پرانی حالت میں بحال کرنے پر اتفاق ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ
قانون میں پہلے سےموجود الفاظ دوبارہ بحال کئے جائیں گے۔ ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ نے کورم کی نشاندہی کی ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ ن لیگ کے جنرل کونسل اجلاس میں تمام وزرا موجود تھے اور ایوان کی کوئی وقعت نہیں۔ نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ
آج تو شیخ آفتاب بھی تھک گئے ہیں پہلے چون وزراء تھے، اب ساٹھ سے زائد ہیں ۔
اپوزیشن لیڈر نے خورشید شاہ نے کہا کہ اجلاس ملتوی کیا جائے ایسے ایوان چلانے کا کیا فائدہ جس کا کورم اپوزیشن لیڈر پورا کرتا ہے_
حکومتی چیف وھپ نے بھی اپوزیشن لیڈر کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ میں ان سے سو فیصد متفق ہوں ۔ انھون نے ڈ پٹی سپیکر سے مطالبہ کیا کہ
وزراء کے نہ آنے پر رولنگ دیں۔
اس ایوان میں وزراء نہیں آتے یہ اس ایوان کی توہین ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے بھی دھکمی دی کہ اگر وزراء نے پارلمنٹ کو عزت نہ دی تو اس ایوان میں ان کاداخلہ بند کردیں گے۔
بجلی کے نرخوں میں تین روپے نوے پیسے اضافے کے خلاف پیپلز پارٹی کا توجہ دلائو نوٹس ایجنڈے کا حصہ تھا جس پر اظہار خیال کرتے ہوئے نوید قمر کا کہنا تھا بجلی کے نرخوں میں اضافہ ناقابل قبول ہے ۔ افتاب شیخ نے جواب دیتے ہو ئے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں صرف 48 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے _

اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق دیگر جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کیلئے آئے اور کہا کہ نئے قانون میں جہاں غلطی ہوئی ہے اس کی تصحیح پر ساری جماعتوں نے اتفاق کیا ہے_

متعلقہ مضامین