نامزدگی فارم اور حقائق

الفاظ کا چناؤ قانونی معاملات میں بہت اہمیت رکھتا ہے، جس معاشرے میں ہم سانس لیتے ہیں یہاں کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ یہاں الفاظ کے غلط استعمال (جانے انجانے) پر لوگوں پر غلط عقائد اور کفر تک کے فتوی لگائے گئے ہیں، دوسری جانب الفاظ کی ہی ہیرا پھیری سے عدالتوں میں ٹیکنیکل پوائنٹس اُٹھا کر ایسا ہیر پھیر کیا جاتا ہے کہ اصل مالک صرف کمزور الفاظ استعمال کرنے پر اپنے حق سے محروم ہو جاتا ہے اور الفاظ کا ہیر پھیر جاننے والے فنکار قانونی طور پر میں کامیاب قرار دیئے جاتے ہیں،جبکہ وہ کامیابی انکی نہیں بلکہ ڈاکہ زنی کی ہوتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہمیں انتخابی اصلاحاتی بل میں موجود نامزدگی فارم میں بھی کرنا پڑا ہے۔ پہلے ہمیں پس منظر کو بیان کرنا ہو گا اس سے حقائق جاننے میں آسانی ہو جائے گی۔ کیا یہ کام حکومت یا وفاقی وزیر قانون نے سرانجام دیا تھا؟ اسکا جواب ہمیں انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں ملتا ہے، یہ کمیٹی 2014 میں بنائی گئی، اس کمیٹی میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی،یہ کمیٹی 36 اراکین پر مشتمل تھی،اس کمیٹی میں ہر جماعت اور فرد نے اپنی تجاویز پیش کرنا تھیں،اُن پر سب نے ملکر قانونی بحث و مباحثہ کرنا تھا، اس کمیٹی کے کل 126 اجلاس 3 سال میں منعقد ہوئے،ان تمام اجلاسوں میں انتخابی اصلاحات بل کے ایک ایک صفحہ،ایک ایک حرف،جملہ اور ڈرافٹ پر باقاعدہ بحث کی جاتی رہی ہے،چونکہ ہمارا موضوع نامزدگی فارم ہے تو ہم اپنی گفتگو اس فارم تک محدود رکھیں گے۔اس فارم میں تبدیلی کی تجاویز الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اقلیتی اراکین پارلیمنٹ کے اعتراضات کے باعث پیش کی گئی تھیں،یہ فارم وفاقی حکومت یا وفاقی وزیر قانون نے نہیں بلکہ انتخابی اصلاحاتی کمیٹی جو کہ 36اراکین پر مشتمل تھی اُس نے اسکی ڈرافٹنگ کی تھی،اس میں حکومت،اُسکے اتحادی اور اپوزیشن کے تمام اراکین شامل تھے۔نئے فارم کے ڈرافٹ پر سینٹ میں اعتراضات جے یو آئی کے حافظ حمد اللہ نے سب سے پہلے اُٹھائے تھے،یہ وہی اعتراضات تھے جن پر آج سب بحث و مباحثہ کر رہے ہیں۔ حافظ حمد اللہ کے اعتراضات درج ذیل تھے،پُرانے فارم پر درج تھا Declaration and oath  جبکہ نئے فارم میں and oath کے الفاظ حذف کر کے صرف Declaration  کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے،دوسرا اعتراض تھا کہ خاتم نبوت کی شق کے ساتھ حلف نامہ کی سطر میں solemnly, swear کے الفاظ تھے،یہ کیوں حذف کیئے گئے ہیں،انکی وجوہات بیان کی جائیں،کس کا فائدہ ہوگا؟ کس کا نقصان ہو گا؟۔ ان اعتراضات پر وفاقی وزیر قانون نے جواب دیا کہ اُنہیں حافظ حمد اللہ کی ترمیم سے اختلاف نہیں ہے،البتہ یہ بل قومی اسمبلی سے متفقہ آیا تھا،اسے قومی اسمبلی کے ذریعہ متفقہ طور پر بحال کیا جائے گا تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔اس پر اسپیکر سینٹ نے رولنگ دی کہ آپ حافظ حمد اللہ کی پیش کردہ ترمیم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں۔ اس پر اقلیتی رکن ہری رام نے اعتراضات اُٹھایا کہ ہم نے ہمیشہ ایک ہی حلف اُٹھایا ہے،یہ کبھی نہیں ہوا کہ مسلمان الگ اور غیر مسلم الگ حلف لینگے،ہم پاکستانی پہلے ہیں،مذہب تو انسان کی پہچان ہے،ہمیں تو بالکل پیچھے دھکیل دیا جا رہا ہے،جیسا کہ ہم پاکستانی ہیں ہی نہیں۔ اس پر سینیٹر اعتراز احسن نے کہا وہ پہلے بھی اس پر بات کر چکے ہیں،کہ یہ حلف نامہ مسلمانوں کی حد تک تو بالکل درست ہے اور اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ جو اقلیتی اراکین (ہندو،سکھ،عیسائی،پارسی) ہیں وہ کیسے یہ حلف دے سکتے ہیں؟ میرا خیال تھا کہ وفاقی وزیر قانون اس کی مخالفت کرینگے لیکن اُنہوں نے حافظ حمد اللہ کی ترمیم کی مخالفت نہیں کی ہے،میں سمجھتا ہوں کہ یہ اقرار نامہ مسلمان سے تو لیا جا سکتا ہے البتہ غیر مسلم سے لینا شاید ممکن نہ ہو۔
اس پر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ وہ اعتزاز احسن سے متفق ہیں اور تجویز دیتے ہیں کہ اس حلف نامہ کے ساتھ بریکٹس میں لکھا جائے کہ یہ صرف مسلمان اراکین کیلئے ہو گا۔ اس پر زاہد حامد نے کہا کہ یہ نقطہ کمیٹی میں بھی اُٹھایا گیا تھا،اقلیتی اراکین solemnly,swear کی تصدیق نہیں کرتے تھے جبکہ مسلمان اراکین کرتے تھے،لہذا ہم نے کہا کہ اسے برابر کر دیں۔اگر آپ False Declaration  دینگے تو you are guilty for corrupt practice اور اس کے خلاف you are penalized   لہذا یہ خیال تھا کہ to give a false declaration will be an offence  لیکن اگر حافظ حمد اللہ وہ الفاظ (solemnly,swear,oath)واپس لانا چاہتے ہیں،اگر اتفاق ہے تو بالکل ٹھیک ہے،نیز یہ کہ نئے نامزدگی فارم میں یہ چیز درج کر دی گئی ہے کہ یہ حلف نامہ صرف مسلمان اراکین کیلئے ہو گا۔ اسکے بعد اسپیکر سینٹ نے پوچھا کہ کیا آپ اس ترمیم کی مخالفت کرتے ہیں؟ جس پر زاہد حامد نے کہا کہ نہیں وہ حافظ حمد اللہ کی ترمیم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں۔پھر ووٹنگ کا عمل شروع کرایا گیا،ترمیم کے حق میں 13 جبکہ مخالفت میں 34 ووٹ ڈالے گئے اور یوں الفاظ تبدیلی کی یہ ترمیم سینٹ میں مسترد کر دی گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے،نامزدگی فارم میں الفاظ کی تبدیلی کس نے کی تھی؟یہ فرد واحد کا نہیں بلکہ انتخابی اصلاحتی کمیٹی کا کام تھا،جب یہ فارم کمیٹی کے سامنے پیش ہوا تو وہاں اعتراضات کیوں نہ اُٹھائے گئے؟اگر وہاں سب متفق تھے پھر سینٹ میں جب اعتراضات ہوئے اور وفاقی وزیر قانون نے ترمیم کے حق میں بات کر دی تھی اور اقلیتی اراکین والے اعتزاز احسن کے اعتراض کو دور کر دیا تھا تو پھر یہ ترمیم مسترد کیوں کی گئی؟ وہ 34 اراکین کون تھے جنہوں نے تمام اعتراضات دور ہونے کے باوجود ترمیم کی مخالفت کی تھی؟  فارم میں پہلے اقرار نامہ لیا گیا پھر آخر میں حلف نامہ بھی لیا گیا،اور اقلیتی اراکین کا اعتراض بھی دور کر دیا گیا تھا،یہاں تک تو نیا فارم بالکل درست تھا۔جہاں تک حلف نامہ کے الفاظ پر اعتراض تھا جو قانون اور انگریزی جانتے ہیں وہ بخوبی واقف ہیں کہ solemnly Affirm اور solemnly,swear میں کوئی فرق نہیں،یہ دونوں الفاظ پُرانے حلف نامہ میں بھی درج تھے۔لیکن اصل اعتراض کی بات یہ ہے کہ فارم کے اوپر اُسکی Heading  میں Declaration and oath  میں سے and oath  کے الفاظ کیوں نکالے گئے؟اور وہ 36 اراکین پر مشتمل کمیٹی نے اسے کیوں منظور کیا؟گو کہ وفاقی وزیر قانون نے بالکل واضح کر دیا تھا کہ غلط اقرار نامہ پر بھی سزا ہوتی ہے اس لیئے ہم (انتخابی اصلاحاتی کمیٹی) نے کہا اسے یکساں کر دیا جائے۔ قانون کی دُنیا میں تو اقرار نامہ یا حلف نامہ  دونوں سے مکرنے پر ایک جیسی سزا ہے، لیکن مذہبی نقطہ نظر مختلف ہے، وہاں اقرار نامہ سے کوئی شخص منحرف ہو تا ہے تو وعدہ خلافی کہلایا جائے گا اور سزا کیلئے عدالت سے رجوع ہو سکتا ہے لیکن حلف نامہ سے مکرنا ناممکن ہوتا ہے کیونکہ حلف قرآن پاک پر دیا جاتا ہے،اور قرآن کی جھوٹی قسم کی سزا وعدہ خلافی کی سزا سے یکسر مختلف اور کڑی ہے۔ غلط فہمی یہ ہوئی کہ یہ قانون کے الفاظ تھے جس کی تشریح ہم نے مذہب کی ڈکشنری میں کر ڈالی۔ نئے فارم میں بالکل حلف نامہ موجود تھا،یہ غلط بات ہے کہ حلف نامہ موجود نہ تھا،البتہ ہیڈنگ سے (حلف) کا لفظ حذف کیا گیا تھا اور یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب فارم میں حلف نامہ ہے تو فارم کی ہیڈنگ سے (حلف)کا لفظ کیوں حذف کیا گیا؟جبکہ اقلیتی اراکین کو بھی حلف پر اعتراض نہیں تھا۔یہ کم از کم کلیریکل غلطی نہیں تھی، اگر ہوتی تو سینٹ اور کمیٹی میں نشاندہی پر درست کر دی جاتی جبکہ کمیٹی نے متفقہ طور پر اور سینٹ میں اکثریت نے منظور کیا۔

متعلقہ مضامین