دلچسپ مرحلہ

جس ملک میں کرپشن کے لحاظ سے معاشرے کی اجتماعی حالت یہ ہو کہ ناقص مٹیریل کے سبب نئے بنے پل زمیں بوس ہوجاتے ہوں، فروٹ کی پیٹیوں میں اوپر تازہ اور نیچے گلا ہوا پھل بھرا ہو، خالص غذائی اجناس کی تلاش مشن امپاسبل کا درجہ رکھتی ہو، فائیو سٹار ہوٹلوں میں مردہ مرغی اور گدھے کا گوشت پک رہا ہو اور وی آئی پیز what a delicious food کہہ کر اسے سند اعتبار بخش رہے ہوں، ڈاکٹر انسانی اعضاء کی بلیک مارکیٹ کھولے بیٹھے ہوں اور بیرون ملک سے گاہک دوڑے چلے آرہے ہوں، میڈیکل سٹوروں میں جعلی ادویات کی بھرمار ہو اور ڈاکٹر فرماسیوٹیکل کمپنیوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہوں، سب سے بڑے شہر کے تھانوں کے ریٹ مقرر ہوں اور ایس ایچ اوز من پسند تھانے میں تبادلے کے لاکھوں روپوں میں نذرانے پیش کرتے ہوں، وکیل مؤکل سے کہتے ہوں کہ کیس لڑنا ہے تو اتنی فیس ہوگی لیکن اگر حق میں فیصلہ درکار ہے تو پھر یہ فیس ہوگی، عدالتوں میں کچھ مقدمات کے فیصلے تو ہفتوں میں ہوجاتے ہوں اور کچھ پر سالوں کی گرد جم جاتی ہو، جیلوں پر بھی چھاپے پڑتے ہوں اور ان چھاپوں میں الیکٹرونکس آلات اس بھاری مقدار میں برآمد ہوجاتے ہوں کہ لے جانے کے لئے ٹرکوں کی ضرورت پڑجاتی ہو، حاضر سروس ایئرکموڈور پی آئی اے کو 500 ملین کا چونا لگاجاتا ہو اور کسی میں ایکشن لینے کی ہمت نہ ہو، اراکین پارلیمنٹ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلاتے ہوں اور ایکسائز والے منہ موڑ لیتے ہوں، گاڑیاں تو گاڑیاں طیاروں کے خفیہ خانوں سے بھی منوں کے حساب سے منشیات برآمد ہو جاتی ہو اور کسی کی صحت پر کوئی فرق نہ پڑتا ہو اسی عظیم ملک میں صادق و امین چیئرمین نیب کے تقرر کا مرحلہ درپیش ہوا۔

نئے چیئرمین نیب کے لئے ایک فہرست حکومت نے پیش کی جس میں شامل افراد اس کے خیال میں صادق و امین تھے، کچھ نام اپوزیشن لیڈر نے پیش کئے جو ان کی عینک کے مطابق صادق و امین تھے اور کچھ صادق و امین پی ٹی آئی کی پٹاری سے بھی برآمد ہوگئے حالانکہ ان کے ہاں سے تو شائستہ جملہ برآمد ہونا بھی قریب قریب ناممکنات میں شامل ہوچکا چہ جائکہ سالم صادق و امین ہی برآمد ہوجائے۔ مختلف رنگ و نسل اور مہارتی پس منظر والی ان صادق و امین شخصیات میں سے جسٹس جاوید اقبال کے نام قرعہ فال نکل آیا ہے۔ 92 نیوز کے ایک ٹی وی پروگرام میں رؤف کلاسرا صاحب نے اپنے مخصوص سٹائل میں جسٹس جاوید اقبال کی دہلائی فرمائی ہے۔ کچھ اسی طرح کا رویہ سپریم کورٹ کی کوریج کرنے والے رپورٹروں نے بھی سوشل میڈیا پر دکھایا ہے جس سے ان کے صادق و امین ہونے پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ دہلائی درست ہے یا غلط اس سے ہمیں فی الحال کوئی سر و کار نہیں، ہماری دلچسپی کا محور تو بس یہ پہلو ہے کہ جسٹس جاوید اقبال صاحب کے نصیب میں بھی وہ ماہ سال رہے ہیں جب ان کی شان میں لب کشائی سے قبل الفاظ سوچ سمجھ کر منتخب کرنے پڑتے اور پھر ان منتخب الفاظ کو عرق گلاب میں دھو کر عودی بخور کی دھونی دینی پڑتی۔ اور اگر خدا نخواستہ ایسا نہ ہوتا تو یہ ’’توہین عدالت‘‘ کا معاملہ ہوجاتا۔ پھر وہ بھی ایک روز ہر جج کی طرح ریٹائرڈ ہوگئے۔ مالک کا شکر ہے کہ ریٹائرڈ جج کے ساتھ کلاسروی انداز اختیار کرنا توہین عدالت نہیں حق گوئی کے زمرے میں آتا ہے سو بتا نہیں سکتے کہ کچھ حق گوئیوں کے لئے ہمیں وقت گزرنے کا کس شدت سے انتظار ہے۔ کچھ حق گوئیاں ہم مارچ 2018ء کے فورا بعد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے تو کچھ کے لئے ہمیں 2023ء تک خواری اٹھانی پڑے گی سو اٹھانی تو پڑے گی۔
ہماری رائے میں جسٹس جاوید اقبال اختیارات کے جملہ مراکز کے لئے قابل قبول ہیں سو یوں وہ ایک ہر دل عزیز شخصیت کا درجہ رکھتے ہیں، اب یہ آپ شیخ سعدی سے پوچھ لیجئے کہ ہردل عزیز کون ہوتا ہے۔ اگر آپ یہ امید باندھ بیٹھے ہیں کہ وہ کرپشن کے خلاف کوئی انقلابی اقدامات اٹھا کر تاریخ رقم کردیں گے تو للہ یہ امید دل سے نکال پھینکئے ورنہ گل سڑ کر یہ آپ ہی کے دل کو آلودہ کردیگی۔ کل حقیقت بس یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے عدلیہ کے ساتھ بڑی نفیس واردات کردی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز نے گزشتہ چند ماہ میں نیب کی جس طرح دل کھول کر دہلائی کی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ سیاستدانوں نے موجودہ ججز کے ایک سابق سینئر کو چیئرمین نیب کا منصب دے کر صورتحال کو دلچسپ بنادیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے ایام میں بھی نیب کے خلاف اسی طرح کے کمنٹس آتے ہیں یا نہیں ؟ اور اگر آجاتے ہیں تو اس صورتحال کے لئے جسٹس جاوید اقبال سے زیادہ موزوں آدمی کون ہو سکتا ہے جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی عدلیہ کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں کہ کون کتنا صادق و امین ہے اور کون وہ ہے جنہیں کانفرنسز سے خطاب کے دوران خود مختلف چیف جسٹس ’’عدلیہ کی کالی بھیڑیں‘‘ قرار دیتے آئے ہیں۔ خدا ہی جانے کہ ان آنکھوں کے مقدر میں وہ دن ہے بھی کہ نہیں جب یہ نئے آنے والے چیئرمین نیب بھی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں۔ عدلیہ کے زیر عتاب ادارے کے سربراہ کے لئے سپریم کورٹ ہی کے سابق قائمقام چیف جسٹس کا یہ تقرر دلچسپ تو اس حوالے سے بھی ہے کہ شریف فیملی کے خلاف چل رہے کیسز میں سپریم کورٹ نے ایک نگران جج بھی مقرر کر رکھا ہے لیکن اس دلچسپی پر لب کشائی سے پر جلنے کا اچھا خاصا اندیشہ ہے اور پر جلنے والے معاملات میں ہماری سمجھداری شک و شبہ سے بالا تر ہے، بس اتنا سمجھ لیجئے کہ یہ صادق و امین والا کھیل اب بہت ہی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
(بشکریہ روزنامہ 92 نیوز)

متعلقہ مضامین