ہم آپ سے عاجز آ چکے

سویلین بالادستی کو روندتی جرنیلی یلغار آج کل وزارت خزانہ کی کمزور فصیلوں پر دستک دے رہی ہے۔ وہ کس آئینی اختیار کے تحت ایسا کر رہے ہیں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں لیکن یہ سوال تو ان سے ہو سکتا ہے جو آئین کے احترام پر یقین رکھتے ہوں۔ جرنیلوں نے آئین کو تسلیم ہی کب کیا ہے کہ ان سے ان کے اقدامات کی آئینی حیثیت کا سوال ہو ؟ سو آئینی بحث کو طاق نسیاں پر رکھ کر جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی خدمت میں ان کے معاشی ارشادات عالیہ کے پس منظر میں ہم  اس امید کے ساتھ 10 سوال رکھنا چاہتے ہیں کہ ہماری اس گستاخانہ حرکت سے قومی سلامتی کو نزلہ، زکام اور کھانسی لاحق نہ ہوگی۔

(01) پہلا سوال یہ ہے کہ 12 اکتوبر 1999ء کو جب آپ کے ادارے نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اس روز بھی اس ملک پر قرضوں کا ایک بوجھ تھا، پھر دس سال بعد جب آپ کے ادارے سے اقتدار واپس سویلینز نے حاصل کیا تو اس روز بھی اس ملک پر قرضوں کا ایک بوجھ تھا، کیا جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی تازہ تازہ حاصل کردہ معاشی مہارت کو کام میں لاتے ہوئے ہمیں آگاہ فرمانا پسند فرمائیں گے کہ جب 2008ء میں ان کے ادارے سے اقتدار واپس لیا گیا تو اس روز پاکستان پر واجب الاداء قرضے 1999ء سے کم ہوچکے تھے یا ان میں اضافہ ہو چکا تھا ؟

(02) صرف قرضے ہی نہیں بلکہ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال 1999ء میں بہتر بلکہ بہت بہتر تھی یا 2008ء میں اس وقت بہت بہتر تھی جب فوج سے اقتدار واپس لیا گیا ؟ کیا آپ کے ترجمان میں حوصلہ ہے کہ اپنے ادارے کے اقتدار پر قبضہ کرنے اور قبضہ چھوڑنے والی تاریخوں کی معاشی شرح نمو اور روپے کی قیمت کا ہی فخریہ تقابل ہی پیش کر سکیں ؟

(03) جب 1999ء میں آپ کے ادارے نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اس روز پاکستان کے ایسے کسی بھی ایک گھر میں لوڈ شیڈنگ نہیں تھی جہاں واپڈا کی تار کی رسائی تھی۔ جب آپ کے ادارے سے اقتدار کا قبضہ چھڑایا گیا تو اس ملک کے ہر شہر میں 12 گھنٹے اور ہر دیہات میں 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی، کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ ملکی صنعتوں کا پہیہ روک دینے والی اس بدترین غفلت کا ذمہ دار کون تھا ؟

(04) جب 1999ء میں آپ کے ادارے نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اس ملک میں امن و امان کی صورتحال یہ تھی کہ یہ قوم نہ خودکش حملوں کو جانتی تھی اور نہ ہی شہروں میں ناکے لگے ہوئے تھے، فوجی افسران اپنی بے شکن وردیوں میں دفاتر اور بازار آیا جایا کرتے تھے۔ 2008ء میں جب آپ کے ادارے سے اقتدار چھڑوایا گیا تو پورا ملک دھماکوں سے گونج رہا تھا، عوام کی ہلاکتیں تو ایک طرف خود سیکیورٹی اداروں کی حالت یہ ہوچکی تھی کہ سپاہی تو سپاہی اعلیٰ فوجی افسران بھی جانوں سے ہاتھ دھو رہے تھے، فوجی افسران وردی گاڑی میں رکھ کر دفتر لے جاتے اور وہاں پہنتے، اسی طرح گھر واپس بھی سادہ کپڑوں میں آتے۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت کا یہ عالم تھا کہ ڈرون آزادنہ انہیں روند رہے تھے۔ کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ اس ہولناک دہشت گردی نے ہماری معیشت کو فائدہ دیا یا ناقابل تلافی نقصان ؟ اور کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ملک میں ہونے والی اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے ؟

(05) آپ ملکوں کے ٹوٹنے کا مرکزی ذمہ دار خراب معیشت کو قرار دیتے ہوئے اس کے لئے سوویت یونین کی مثال دیتے ہیں۔ جو ملک خود ایک بار ٹوٹ چکا ہو اسے کسی دوسرے ملک کی مثال کی کیا ضرورت ؟ کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ جب 1971ء میں مشرقی پاکستان ٹوٹ کر الگ ہوا اور ہمارے 90 ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تو اس کا سبب ملک کی خراب معیشت تھی ؟ ان سالوں میں تو پاکستان ایشیا کا رائزنگ سٹار تھا، پھر ملک ٹوٹا کیوں جنرل صاحب ؟ کیا حمود الرحمن کمیشن نے ملک ٹوٹنے کا سبب خراب معاشی حالت بتائی ہے ؟ اب ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کے ادارے نے ان غلطیوں سے کچھ سیکھا ہے ؟ کیا آپ کے ادارے نے سیاست میں مداخلت بند کردی ہے ؟

(06) لوڈ شیڈنگ کے خاتمے بغیر معاشی ترقی کا تصور ہی ممکن نہیں، جب صنعتیں ہی بند پڑی ہوں تو معیشت ترقی کیسے کر سکتی ہے۔ 2008ء میں آپ کے ادارے سے اقتدار چھڑوایا گیا تو اس کے بعد ایک سویلین حکومت آئی، اس حکومت نے پانچ سال میں لوڈشیڈنگ میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ پھر موجودہ حکومت آئی جس نے فوجی حکومت سے ملا لوڈشیڈنگ کا جن آج واپس بوتل میں قید کردیا ہے۔ ملکی صنعتیں سالہا سال بعد تینوں شفتوں میں پچھلے دو سال سے چلنا شروع ہوئی ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں ان دو سالوں میں ملک کے سارے قرضے اتر جانے چاہئے تھے جو یہ حکومت نہ اتار سکی اور یہ اس کی ناکامی کا ثبوت ہے ؟

(07) کیا یہ سچ نہیں کہ پنامہ سکینڈل کے عروج حاصل کرنے سے عین قبل ہماری سٹاک مارکیٹ ایشیا کی نمبر ون سٹاک مارکیٹ بن چکی تھی ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اس سازشی سکینڈل سے قبل معاشی مانیٹرنگ کے تمام بین الاقوامی ادارے پاکستان کو دنیا کی سات تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں گن رہے تھے ؟ کیا یہ آزاد بین الاقوامی ادارے جھوٹ بول رہے تھے ؟ اور کیا ترقی کا یہ عمل کسی کی محنت اور انتھک کوششوں کے بغیر "خود بخود” ہی ہو رہا تھا ؟

(08) جس ارسطو نے آپ کے لئے معاشی تقریر لکھی تھی کیا اسی نے آپ کو بتایا ہے کہ معاشی ترقی حاصل کرنے والے ممالک نے یہ منزلیں محض پانچ پانچ سال میں حاصل کر رکھی ہیں ؟ جب آپ خود دس دس سال حکومت کرنے کے باوجود سوائے ناقابل تلافی نقصان کے اس ملک کو کچھ نہیں دے سکے تو پھر آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ آپ سول حکومتوں کے پانچ سالوں پر سوال اٹھائیں ؟

(09) آئین میں آپ کے ادارے کا ایک متعین کردار اور ذمہ داریاں طے ہیں۔ آپ اپنی ذمہ داریوں پر فوکس کیوں نہیں کرتے ؟ کیا دہشت گردی ختم ہوچکی ؟ کیا فوج مخدوش حالات والے علاقوں سے واپس بیرکس میں جا چکی ؟ کیا آپ یقین دلا سکتے ہیں کہ اگر فوج کو بیرکس میں واپس جانے کا حکم دیدیا جائے تو وہ علاقے واپس دہشت گردوں کے کنٹرول میں نہیں جائیں گے ؟ اگر نہیں تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی اصل ذمہ داریاں آپ نے پوری کردیں ؟

(10) آخری اور سب سے کلیدی سوال یہ کہ 2008ء میں جب آپ کے ادارے سے اقتدار واپس لیا گیا تو اس روز ملکی معیشت بہتر حالت میں تھی یا آج بہتر حالت میں ہے ؟ جب 2013ء میں موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی اس روز ملکی معیشت جس حالت میں تھی آج اس سے زوال کی طرف جا چکی ہے یا ترقی کی جانب ؟

آخری میں ہاتھ جوڑ کر جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے ادارے سے التجا ہے کہ آپ کو آپ کے شہیدوں کے خون کا واسطہ ہم سویلینز اور ہمارے اداروں کی جان بخش دیجئے، خدا گواہ ہے ہم آپ سے عاجز آچکے !

متعلقہ مضامین

تبصرے

  1. حقائق کی بہترین تصویر کشی کی گئی ہے۔ آرمی نے اس ملک پر 34 سال ھکومت کی ہے۔ ان 34 سالوں میں ملک نے کونسی ترقی کی۔ کونسے کارہائے نمایاں انجام دئے گئے۔میں نے اپنے تبصرے کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر فوجی حکومتیں ملکوں کو ترقی سے ہمکنار کر سکتیں تو مصر اور پاکستان آج صفِ اول کے ترقی یافتہ ملک شمار ہوتے۔ ہمارے ہمسائے بھارت نے کیوں ترقی کر لی ہے صرف اس لئے کہ وہ فوجی دستبرد سے محفوظ رہا ہے۔ اللہ تعلیٰ ہمارے جرنیلوں آئین کی پاسداری کا ج﷽ہ پیداکرے۔ اگر ملک ہے تو یہ عہدے ہیں

  2. حقائق کی بہترین تصویر کشی کی گئی ہے۔ آرمی نے اس ملک پر 34 سال ھکومت کی ہے۔ ان 34 سالوں میں ملک نے کونسی ترقی کی۔ کونسے کارہائے نمایاں انجام دئے گئے۔میں نے اپنے تبصرے کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر فوجی حکومتیں ملکوں کو ترقی سے ہمکنار کر سکتیں تو مصر اور پاکستان آج صفِ اول کے ترقی یافتہ ملک شمار ہوتے۔ ہمارے ہمسائے بھارت نے کیوں ترقی کر لی ہے صرف اس لئے کہ وہ فوجی دستبرد سے محفوظ رہا ہے۔ اللہ تعلیٰ ہمارے جرنیلوں آئین کی پاسداری کا جذبہ پیداکرے۔ اگر ملک ہے تو یہ عہدے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے