چیف جسٹس کا واٹس ایپ

جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کی رپورٹنگ کے لیے وقت سے قبل ہی کمرہ عدالت میں موجود تھا، عدالتی گھڑی پر ساڑھے گیارہ بجے ہی تھے کہ ہرکارے نے آواز لگائی، کورٹ آ گئی ہے، ججز عقبی دروازے سے اپنی سیٹوں پر براجمان ہو گئے، آج  جمعرات کی سماعت بظاہر نااہلی کیس سے ہٹ کر رہی، شریف فیملی اور ن لیگ کی جانب سے فیصلہ کے بعد تنقید اور اس تنقید پر چیف جسٹس کو معاملہ از خود نوٹس لینے کے لیے ایس ایم ایس کیے جانے کا انکشاف ہوا، چیف جسٹس نے کہا وہ ٹی وی دیکھنے سے گریز کرتے ہیں، اس کے باوجود عدالت میں بیٹھے کچھ دوست مجھے واٹس اپ پر کچھ نہ کچھ بھیج دیتے ہیں جو ان کے موقف کو سپورٹ کرتا ہے، انہوں نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس میں عدالتی آبزرویشنز پر اظہار خیال کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت آرٹکل باسٹھ ون ایف کے سکوپ، معیار اور اطلاق کا جائزہ لینا چاہتی ہے، مقدمہ میں فریقین کے وکلاء معاونت کریں۔
جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کا آغاز چیف جسٹس ثاقب نثار کی اس وضاحت کے ساتھ ہوا کہ گزشتہ روز انہوں نے ایسی آزبرویشنز نہیں دی جو میڈیا پر ہائی لائیٹ ہوئی، عدالتی آبزرویشنز ایشو کو سمجھنے کے لیے ہوتی ہے ۔آبزرویشنز فیصلہ نہیں ہوتیں، دونوں مقدمات کی کارروائی محتاط انداز سے چلا رہے ہیں، غٰیر ضروری آبزرویشنز دینے سے بھی گریز کرتے ہیں، وکیل سکندر بشیر نے کہا انہیں یقین ہے کہ عدالت میڈیا ہیڈ لائن سے قطع نظر اپنی بصیرت پر فیصلہ کرے گی، جہانگیر ترین کے پاس ایس ای سی پی ایشو کے معاملہ پر دفاع موجود تھا لیکن وہ اس تنازعہ میں پڑنا نہیں چاہتے تھے اس لیے ایس ای سی پی کو ازالہ کی رقم ادا کی، رقم واپس کرنا جہانگیر ترین کی ایمانداری کو ظاہر کرتا ہے، آرٹیکل باسٹھ ون ایف ان کا راستہ روکتا ہے جو صادق اور امین نہ ہوں، سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کا سیکشن پندرہ اے اور بی آئین کے آرٹیکل تہتر سے متصادم ہے، غیرقانونی قانون پر ان کے موکل کے خلاف فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، چیف جسٹس نے ثاقب نثار نے کہا آپ کا موقف ہے جس قانون کے تحت رقم واپس لی گئی وہ غیر قانونی ہے اگر بنیاد ہی غیر قانونی ہے تو اس بنیاد پر جہانگیر ترین کو نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا ،وکیل نے کہا میرا موقف یہی ہے ،چیف جسٹس نے کہا فرض کریں قانون آئین سے متصادم نہیں ہے تو پھر آپ کا موقف کیا ہو گا ،وکیل سکندر بشیر نے کہا پھر میرا موقف ہو گا کہ جہانگیر ترین کے کاگذات نامزدگی کو کسی نے چیلنج نہیں کیا ،نہ ہی ان کے خلاف کسی عدالتی فورم کا فیصلہ موجود ہے جس کی بنیاد پر جہانگیر ترین کو آرٹیکل باسٹھ ون ایف پر نا اہل کیا جائے، چیف جسٹس نے کہا سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کی جن شقوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے ان پر اٹارنی جنرل کو موقف ضروری ہے، انہیں نوٹس جاری کریں گے،الزام ہے کہ جہانگیر ترین نے ملازمین کے ذریعے کمپنی کے شیئرز خریدے، ملازمین آک کو موکل کے بے نامی دار تھے ،عدالت نے اس مقدمہ میں کسی کی ایمانداری کا جائزہ لینا ہے،چیف جسٹس نے مثال پیش کی کہ والد کے گھر موجودگی پر بچے کا باہر گھنٹی بجانے والے کو جاکر یہ کہنا پاپا گھر پر نہیں ہے کیا یہ بھی ایک قسم کی بے ایمانداری ہے ،کیا گھر پر نہ ہونے کا کہہ دینا صادق اور امین کے ذمرے میں اتا ہے، بے ایمانداری کی ایک صورت کرپشن بھی ہے ،آرٹیکل باسٹھ کے ایک ایک لفظ کا جائزہ لینا ہو گا، فریقین کے وکلاء عدالت کی معاونت کریں، وکیل سکندر بشیر نے کہا آرٹیکل باسٹھ صرف کرپشن سے متعلق نہیں،عدالت نے جعلی تعلیمی اسناد پر بھی ارکان پارلیمان کو نا اہل قرار دیا ،چیف جسٹس نے کہا آرٹیکل باسٹھ کے تحت ایمانداری کے سکوپ،معیار اور اطلاق کی نوعیت کو سمجھنا چاہتے ہیں،مقدمہ میں آئے روز نئی دستاویز سامنے آجاتی ہیں،اس لیے مقدمہ پر اتنا وقت صرف کیا ہے ،عدالتی کاروائی ٹرائل سے بڑھ کر ہو رہی ہے، عدالت کوئی ہارڈ ایند فاسٹ رولز نہیں بنا سکتی، انہوں نے کہا کہ وہ آج کل ٹی وی نہیں دیکھتے لیکن عدالت میں بیٹھے چند دوستوں پر پاس میرا موبائل نمبر ہے،وہ مجھے واٹس اپ پر چیزیں بھیج دیتے ہیں جو کسی نہ کسی موقف کو سپورٹ کر رہی ہو تی ہے ،آرٹیکل باسٹھ کا جائزہ کیس ٹو کیس لیا جاتا ہے ،وکیل سکندر بشیر نے کہا جہانگیر ترین رکن قومی اسمبلی ہے،انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا ،، کیا چیٹنگ اور فراڈ بھی بے ایمانداری کے زمرے میں آتی ہیں،وکیل نے کہا یہ دونوں باتیں کسی نی کسی حد تک ایمانداری سے ہی وابستہ ہیں،عدالت کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت ایمانداری سے متعلقہ فیصلے پڑھے ہیں، فیصلوں میں ڈکشنری کے میننگ کو بھی دیکھا گیا ،کسی فیصلے میں اتنی باریک بینی سے آرٹیکل باسٹھ کا جائزہ نہیں لیا گیا جتنا اس مقدمہ میں لیا جا رہا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی آبزرویشنز پر لوگ اپنے انداز تبصرہ کرتے ہیں،جج کی آبزرویشنز اور وکیل کی دلیل کو تیسرا فرد اس انداز سے نہیں سمجھ سکتا، درست ہے کہ عدالتی کاروائی کو رپورٹ کرنے والے کافی عرصہ سے یہاں رپورٹنگ کر رہے ہیں، وہ قانون اور بہت سی باتوں کو سمجھتے بھی ہیں، لیکن اس انداز سے چیزیں نہیں دیکھ سکتے جیسے ایک جج دیکھتا ہے، انہوں نے کہا مجھے لوگ ایس ایم ایس کرتے ہیں کہ موجود حالات پر ایکشن نہ لے کر میری ساکھ متاثر ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے مزید کہا لوگوں کے میسج اپنی جگہ، میں نے ملکی مفاد اور ادارے کی ساکھ کو بھی دیکھنا ہے،میں جذباتی ہو کر کام نہیں کرتا، ،ہمارے معاشرے میں بہت سے چیزوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے،پارلیمان کی تزلیل نہیں کرنی ،فیصلہ خلاف آئے تو قبول کرنا چاہیے، فیصلے پر جائز تنقید ہو سکتی ہے، تنیقد کرنے والے دیکھیں عدلیہ ان کا بھی ادارہ ہے، عدلیہ پر تنقید کرنے والے ہوش کے ناخن لیں، ججز اور ادارہ کا حترام ہونا چاہیے، میڈیا کو احتیاط سے کام لینے کا کہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا ہم نے ابھی تک مقدمہ کا مکمل جائزہ نہیں لیا لیکن ایک صاحب نے اپنے آرٹیکل میں مقدمہ کا سارا جائزہ پیش کر دیا ہے، مقدمہ کی مزید سماعت تیئس اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button