ایک وارنٹ اور سہی

اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا، اسحاق ڈار کے ساتھ بھی تو کچھ ایسا ہی ہوا، سوچا 7 بارمسلسل حاضری دی ہے، ایک دن پیش نہ بھی ہوئے تو کیا ہوگا، کون سمجھائے، اب وہ وقت کون لائے، جب جسٹس قیوم کو فون گھما کر مرضی کے فیصلے لیے جاتے تھے، یا پھر ہوسکتا ہے کہ کسی نے بتایا ہوگا سابق صدر آصف زرداری بھی تو نیب میں ایک بار ہی پیش ہوئے تھے، اور انہیں استثنی مل گیا تھا، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف بھی تو یہاں ہی ٹرائل چل رہا ہے، وہ بھی ایک بار حاضری کے لیے پیش ہوئے، ان کے خلاف گواہان بھی ان کی عدم موجودگی میں بیانات ریکارڈ کرا رہے ہیں، جب انہیں اتنی رعایت دی گئی ہے میں تو وزیرخزانہ ہوں ، اتنا تو اپنا بھی حق بنتا ہے، علاج لندن کروا آوں،شاید یہی بات ڈار صاحب کو مروا گئی سوچا ہوگا وہ تو سات بار پیش ہوچکے، ایک دن کا استثنیٰ تو ملے ہی ملے، انہیں خبر نہیں اب نیب وہ نیب نہیں رہا ، بدلا بدلا لہجہ بہت کچھ بیان کررہا ہے، خواجہ حارث نے بتایا محترم وزیر کی طبیعت ناساز ہے، طبی معائنے کے لیے لندن میں موجود ہیں، استثنیٰ دے دیا جائے، نیب پراسیکوٹر نے مخالفت میں دلائل دیے، اور بتایا جمع کرایا گیا میڈیکل سرٹیفکیٹ ایک ماہ پرانا ہے، ویسے بھی بیرون ملک جانے سے قبل عدالت کو آگاہ کرنا چاہیے تھا، ٹی وی پر خبریں ہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی لندن پہنچ چکے تو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی منزل بھی وہی ہے، تو وزیرصاحب کیسے پیچھے رہتے،درخواست مسترد کریں اور وارنٹ گرفتاری جاری کردیں، خواجہ حارث نے ڈوبتی نیاں کو بچانے کے لیے آخری پتہ پھینکا، کہا گواہوں کے بیانات قلمبند کروانے کو تیار ہیں، بس ڈار صاحب کو دونومبر تک کا وقت دے دیا جائے، مگر عدالت نے استدعا مسترد کردی،ملکی خزانے کے امین اسحاق ڈار کے ایک بار پھر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، ساتھ ہی ساتھ ان کے ضامن کو نوٹس بھی جاری کردیا، یوں ایک بار پھر وزیرخزانہ کے ماتھے پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا جھومر سجا دیا گیا، وکیل صفائی روانہ ہوئے، نیب ٹیم نے خوشی سے پھولی نہ سمائی، مگر یہ وارنٹ واضح پیغام ہیں، دس بار پیش ہوں، مگر ایک بار پیش نہ ہوئے تو عدالت پھر بھی رعایت نہیں کرے گی، اسحاق ڈار کو سوچنا ہوگا، انہیں کیسز کا بھرپور تیاری سے سامنا کرنا ہوگا، اگر کسی غیبی مدد کا انتظار ہے تو پھر وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں، وقت بدل چکا، حالات سازگار نہیں، اقتدار کی کشتی آخری ہچکولے کھارہی، مخالفین پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، سپریم کورٹ احتساب عدالت کی نگرانی کررہی، ایسے میں صرف ایک ہی راہ بچتی ہے، ڈار وزارت سے الگ ہوجائیں، ملکی کی خدمت کرنے والے اور بہت، وہ اپنے کیس پر توجہ دیں، رسیدیں ڈھونڈیں، اپنے اثاثے جائز ثابت کرنے میں جت جائیں، بھلے لندن جائیں، دوبئی جائیں،اور یہ نہ بھولیں وقت بھاگ رہا، استغاثہ کے گواہ ایک ایک کرکے گواہی دے رہے، نیب کی اور احتساب عدالت کی رفتار ایسی کہ رہے رب کا نام، بس پھر خود پر لگے داغ دھونے کا طریقہ وہی کہ خود معصوم ثابت کرو، اسی رفتار سے ثبوت ڈھوںڈو جس رفتار سے نیب گواہ پیش کررہی،، ورنہ ایک وارنٹ اور نہیں بلکہ اڈیالہ جیل ہوگی،!!!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button