ذاتی کام

ملکی سیاست اچانک ایک ’’ذاتی کام‘‘ پر مرکوز ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی لندن پہنچے ہیں جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ’’ذاتی کام سے لندن آیا ہوں‘‘ جس ذاتی کام سے وہ لندن پہنچے ہیں اسی ذاتی کام سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی لندن پہنچے ہیں اور اطلاع ہے کہ اسی ذاتی کام سے خواجہ آصف کا بھی وہاں پہنچنے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ جب یہ سب اس ذاتی کام سے بخیر و خوبی نمٹ چکیں گے تو پھر یہ اس سیاسی کام سے پاکستان لوٹ آئیں گے جو فی الوقت جملہ نواز مخالف قوتوں کی حسرت ہے۔ پچھلے تین ماہ کے سیاسی منظر نامے نے ایک بات اچھی طرح واضح کردی ہے کہ نواز شریف کو میدان سے آؤٹ کرنا جتنا آسان سمجھ لیا گیا تھا وہ اتنا آسان ثابت ہوا نہیں۔ 28 جولائی کے عدالتی فیصلے نے نواز شریف کو وزیر اعظم ہاؤس سے تو بے دخل کردیا لیکن یہ فیصلہ انہیں اپنے ووٹرز کے دلوں سے نہیں نکال سکا اور یہی جملہ نواز مخالف قوتوں کی مشترکہ مشکل ہے۔ ایسے میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ کی یہ آبزرویشن بڑی معنی خیز ہوجاتی ہے کہ جمہوری نظام میں حتمی فیصلہ ووٹر کا ہوتا ہے اور ووٹرز کو اختیار ہے کہ وہ کسی نااہل شخص کو بھی منتخب کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ تو اس انوکھے لاڈلے کے لئے اطمینان بخش ہے جو زبان حال سے فرمائش کرتا رہا ہے کہ اگر کوئی نواز شریف کے ہاتھ پیر باندھ دے تو وہ انہیں آنے والے الیکشن میں شکست دے کر دکھائے گا اور نہ ہی ان کے لئے جو ہاتھ پیر باندھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ عمران خان کی فرمائش پر نواز شریف کے ہاتھ پیر باندھ تو دیئے گئے مگر اس کا کیا کیجئے کہ عوامی حمایت اور پارلیمانی بل کی مدد سے وہ اپنے پیر کھولنے میں کامیاب ہوچکے جس کا نتیجہ ان کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی صورت ظاہر ہوچکا۔ اب ہاتھ کھلنے کی کسر باقی ہے اور تمام دیدہ و نادیدہ قوتیں اس تگ و دو میں لگی ہیں کہ کہیں ان کے ہاتھ بھی نہ کھل جائیں۔ اس حوالے سے بے چارگی کا یہ عالم ہے کہ اب تمام اندرونی و بیرونی مخالفین خود نواز شریف کی منت سماجت پر اتر آئے ہیں کہ للہ آنے والے الیکشن تک ہاتھ کھولنے کی ضد ترک کردیجئے تاکہ باندھنے والوں کو سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک بار الیکشن ہوجائیں تو ملک میں ایک تازہ دم نیا سیاسی ماحول ہوگا، ہوائیں رخ بدل چکی ہوں گی اور خزاں کی جگہ بہار کی آمد آمد ہوگی سو ایسے ماحول میں آپ کے ہاتھ کھولنے میں کسی کی سبکی نہ ہوگی۔ یہ ہے وہ ’’ذاتی کام‘‘ جس کے لئے مسلم لیگ نون کی اعلیٰ قیادت لندن میں جمع ہے۔

ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے حقارت بھرے لہجے میں دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف لندن سے انہیں فون کرتے ہیں جو وہ اٹینڈ نہیں کرتے۔ چند ہی دن میں صورتحال اتنی بدل چکی اب اسی پیپلز پارٹی کے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نواز شریف کو پبلکلی یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ آپ مزاحمت ترک کر دیجئے ، خود کو سیاسی طور پر طاقت ور سمجھنے والے کو وہی ہٹا دیں گے جو اسے لے کر آئے ہیں۔ اس یقین دہانی کا ایک پس منظر ہے۔ ایسی ہی ایک یقین دہانی اکتوبر 2012ء میں بھی نواز شریف کو سعودی مداخلت پر کرائی گئی تھی اور تب سب کچھ حسب وعدہ ہی انجام پایا تھا۔ 2011ء میں اسٹیبلشمنٹ نواز شریف سے مسلسل یہ یقین دہانی طلب کر نے لگی کہ وہ اقتدار میں آ نے کے بعد کارگل پر کمیشن بنا کر انتقامی کار روائی نہیں کریں گے۔ نواز شریف یہ یقین دہانی کرانے کو تیار نہ تھے۔ تب اچانک تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے کو کسی سامری نے کرشماتی غذا فراہم کرنی شروع کردی۔ پندرہ برس کی اس تانگہ پارٹی نے زور پکڑنا شروع کیا تو اس وقت کے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو پارلیمنٹ کے فلور سے نشانے پر رکھ لیا اور اگلے ایک سال تک ایسی گولہ باری کی سعودیوں کو بیچ میں کود کر صلح صفائی کرنی پڑی۔ یہ اکتوبر 2012ء تھا جب نواز شریف سے کسی نے اس وقت کی سب سے اہم ملاقات کی۔ نواز شریف سے کارگل کمیشن نہ بنانے کی یقین دہانی مانگ کر بدلے میں پی ٹی آئی کے گھوڑے کو پنجاب میں مزید کرشماتی غذا فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ تب یہ تک کہا گیا ’’ہم پی ٹی آئی کو کے پی کے میں ایڈجسٹ کر لیں گے‘‘ اس ملاقات کے دو تین ماہ بعد اچانک عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کو نشانے پر لے لیا جن کی جماعت کے پی کے کی متوقع فاتح تھی۔ عمران خان کے پی کے میں الیکشن تک مولانا فضل الرحمن کو مستقل نشانہ بناتے چلے گئے اور اس کے باوجود جے یو آئی سولہ صوبائی سیٹیں لینے میں کامیاب ہوگئی۔ اگر پی ٹی آئی کو کے پی کے میں ایڈجسٹ کرنے کے فارمولے پر عمل نہ ہوتا تو جے یو آئی یقینی طور پر کے پی کے کی پہلی پوزیشن والی جماعت ہوتی اگرچہ حکومت اسے مخلوط ہی بنانی پڑتی۔

2014ء میں پی ٹی آئی کے گھوڑے کو ایک بار پھر پنجاب میں کرشماتی غذا کی فراہمی شروع ہوئی اور یہ تادم تحریر فراہم ہو رہی ہے اگرچہ پلان کے مطابق مقصد حاصل ہوتے ہی غذا کی یہ فراہمی بند ہوجانی تھی مگر مشکل یہ آنپڑی کہ نواز شریف نے اپنے چار سالہ دور میں جو کچھ ڈیلیور کیا ہے عوام میں اس کی پذیرائی زوروں پر ہے جس کی کسی کو توقع نہ تھی اور نواز شریف اسی پذیرائی کے دم پر نادیدہ قوتوں کو نام لئے بغیر نشانہ بناتے آرہے ہیں جس نے ان کے ہر طرح کے حریف کے اوسان خطاء کر رکھے ہیں۔ سیاست کا اصل کھیل تو پردوں کے پیچھے چل رہا ہوتا ہے۔ پردوں کے پیچھے باپردہ قوتوں کا حال دیکھنا ہو تو اس کی بہترین صورت یہی ہے کہ عمران خان اور شیخ رشید کی زبانی اور باڈی دونوں طرح کی لینگویجز پر نظر رکھئے۔ جو ان کا حال ہے وہ ان کا نہیں کسی اور کا حال ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ دونوں کو بڑے زور کا بخار ہے سو جو ان کا بخار ہے وہ کسی اور کا بخار ہے۔ عمران خان اور شیخ رشید کی اس بڑھ کر اور کیا ناکامی ہوگی کہ ان کا زور نواز شریف کے اعصاب توڑنے کے لئے ناکافی ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’سیاست کے لئے مذہب کا استعمال‘‘ اس بدترین شکل میں نظر آ رہا ہے کہ ایک مذہبی گروہ کو بھی ختم نبوت کے مقدس نام پر کرشماتی غذا کی فراہمی شروع ہو گئی ہے۔ لکھ رکھئے کہ سید خورشید شاہ کی یقین دہانی کے مثبت نتائج نکلے اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، شہباز شریف اور خواجہ آصف جس ذاتی کام سے لندن گئے ہیں اگر اس میں سرخ رو لوٹے تو شیخ الحدیث علامہ آصف جلالی بھی علامہ طاہر القادری کی طرح اچانک ملک و قوم کے عظیم تر مفاد میں دھرنے بازی ختم کرکے بخاری شریف کا درس دینے درسگاہ لوٹ جائیں گے۔ آخر بخاری شریف پڑھانا بھی تو ایک بہت بڑا ذاتی کام ہے !

بشکریہ روزنامہ  ۹۲ نیوز

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے