سرسید اور میرا تاثر

1991ء میں اپنے شیخ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ کے ہاں ان کے معاون کی حیثیت سے کام شروع کیا تو تب تک سر سید احمد خان کا بالواسطہ مطالعہ تو تھا لیکن براہ راست مطالعہ نہ تھا۔ سرسید کے افکار کی نشر و اشاعت کے حوالے سے سب سے قدیم ادارہ آل ہند سر سید کانفرنس ہال تھا جو قیام پاکستان کے بعد دو حصوں میں تقسیم ہوا اور اس کی پاکستانی برانچ "آل پاکستان سر سید کانفرنس ہال” کے نام سے قائم ہوئی۔ اس ادارے کے منتظمین و اکابر ہمارے محلے سے تھے اور اس کا دفتر بھی محلے کے بالمقابل ہی تھا۔ والد صاحب کے ہاں چونکہ جمعہ پڑھانے کی ذمہ داری درجہ رابعہ سے ہی میرے ذمہ لگ چکی تھی، میری اس نو عمری کے خطبات سے شاید انہیں یہ شبہ ہوا کہ یہ لونڈہ عام مولویوں سے تھوڑا سا مختلف مولوی بن کر ابھر رہا ہے لھذا اسے قریب کرکے سر سید کے عشق میں مبتلا کرنا بہت مفید ثابت ہوگا۔ مجھ پر عمر کے مختلف مراحل میں ڈورے ڈالنے کی جو کوششیں ہوئیں ان میں یہ اولین کوشش تھی۔ ان بزرگوں کی سر توڑ کوشش رہی کہ مجھے کسی طرح اس ادارے کی دہلیز پار کرا دیں اس کے بعد کام آسان ہوجائے گا۔ یہ کوشش میں نے ان کی کامیاب نہ ہونے دی تو انہوں نے سر سید کے حوالے سے چھوٹا موٹا لٹریچر فراہم کرنا شروع کردیا۔ جو بات وہ مجھ سے بہت تواتر کے ساتھ کہا کرتے تھے وہ یہ لگا بندھا جملہ تھا کہ "سر سید مسلمانان ہند کے عظیم محسن ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ کو ان کے کام سے آشنا کرائیں” ادھر یہ کوششیں بڑھنے لگیں اور ادھر میری حضرت لدھیانوی شہید کے ہاں ملازمت شروع ہوگئی۔ حضرت کی لائبریری میں موجود کتب کا بغور جائزہ لیا تاکہ یہ بات اچھی ذہن میں بیٹھ جائے کہ کونسی کتاب کہاں موجود ہے اور بوقت ضرورت اس تک رسائی میں وقت ضائع نہ ہو۔ اس جائزے کے دوران یہ دیکھ کر مسرت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا کہ ایک گوشے میں سر سید کی تصانیف بھی موجود تھیں۔ یوں سر سید کے براہ راست مطالعے کی بیٹھے بیٹھے صورت بن گئی۔

تہذیب الاخلاق اور مقالات سر سید کے مطالعے سے فارغ ہوا تو 21 برس کی اس عمر میں دو نتائج ہی اخذ کر پایا۔ پہلا یہ کہ سر سید کے ہاں علم غائب ہے۔ وہ اپنے جملہ خیالات کا اظہار کسی پیغمبرانہ شان کے ساتھ کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ انہیں محض اس لئے قبول کر لیا جائے کہ یہ ان کے فرامین ہیں۔ دوسرا نتیجہ یہ اخذ کیا کہ وہ کسی لاگ لپیٹ کے بغیر نہ صرف استعمار کی غلامی کا درس دیتے ہیں بلکہ اس درس میں وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ مسلمان گھٹیا ترین سطح تک گر کر ملکہ وکٹوریہ اور فرنگی معاشرت سے وابستہ ہوجائیں۔ اس مطالعے کی روشنی میں سترہ صفحات پر مشتمل ایک مقالہ لکھا اور جب شائع ہوا تو آل پاکستان سر سید کانفرنس ہال کے ان کار پردازوں کے ہاتھ پر رکھدیا۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ انہیں یقین کامل میسر آگیا کہ مولانا محمد عالم کا یہ لونڈہ ان کے کام کا نہیں۔ چنانچہ اب وہ دور سے سلام کرکے گزر جاتے اور میرے کان ان کی دعوت سے محفوظ رہتے۔

آج کل ملک کے بڑے شہروں میں سر سید احمد خان کی دو سو سالہ جشن پیدائش کی تقریبات جاری ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب کا اہتمام انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے دو روزہ سیمینار کی صورت کیا۔ اگر دل کی بات کہوں تو جب اس کا دعوت نامہ موصول ہوا تو یوں لگا جیسے مجھ غریب کو ایک بار پھر آل پاکستان سر سید کانفرنس ہال میں داخل کرنے کی ترکیب ہو رہی ہے۔ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر عزیز ابن الحسن صاحب بے پناہ شفقت فرماتے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر ہفتے نہیں تو دوسرے ہفتے لازما فون کرکے خیریت پوچھتے ہیں جو میری اوقات سے بہت بڑھ کر ہے۔ اب اس درجے شفیق اور مہربان بزرگ کی دعوت پر نہ جانا جنہیں میں استاد کا درجہ بھی دیتا ہوں ایک مشکل کام تھا سو اس تصور کے ساتھ گیا کہ اگرچہ کلیدی خطبہ استاذ احمد جاوید صاحب کا ہے لیکن میں ایک کان کا داخلی دروازہ تو نیم وا رکھوں گا مگر دوسرے کان کا خارجی دروازہ پوری طرح کھولا۔ احمد جاوید صاحب کا خطبہ شروع ہوا تو دو تین منٹ میں ہی مجھے دوسرے کان کا خارجی دروازہ دھڑام سے بند کرنا پڑ گیا۔ استاذ نے سر سید احمد خان کے بت پر بہت پیار سے فلسفے اور عقلی علوم کا ہتھوڑا چلانا شروع کیا تو کچھ ہی دیر میں انہیں احساس ہوا کہ اس ٹوٹتے بت سے جو دھول اڑ رہی ہے اس سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہو سکتی ہے۔ چنانچہ انہوں فورا اس بت پر تعریف کا تھوڑا سا پانی ڈالا تاکہ دھول نہ اڑے اور پھر معاشرتی اساس کی تین بنیادوں تصور خدا، تصور انسان اور تصور دنیا کے تناظر میں سر سید کے اس بت کو پاش پاش کرنا شروع کردیا۔ جب یہ بت پوری طرح ٹوٹ گیا تو وہ یہیں نہ رکے بلکہ اس کے سنگریزوں کا پاؤڈر بنایا اور اپنے اس تاریخی جملے کی پھونک مار کر اس پاؤڈر کو ہوا میں اڑا دیا

"ہم تب تک آگے بڑھ ہی نہیں سکتے جب تک سر سید کو اس مقام سے نہ ہٹائیں جس پر انہیں کالجز اور یونیورسٹیز میں بٹھا دیا گیا ہے”

اکیس برس کی عمر میں سر سید کے مطالعے سے مجھے ان کے ہاں ناپید علم کا جو پہلا احساس میسر آیا تھا اس کے نتیجے میں ان کا قد کاٹھ پھر بھی میری نظر میں کچھ فٹ کا تھا، آج احمد جاوید صاحب کو سن کر احساس ہوا کہ میں غلطی پر تھا، ان کا قد کاٹھ فٹوں میں نہیں انچوں میں ہے۔ مجھ کو پوری طرح احساس ہے کہ میری یہ تحریر آپ میں سے بہت سوں کی طبیعت پر بہت گراں گزرے گی۔ میری درخواست ہے کہ میرے ان خیالات کو ایک طرف رکھدیجئے۔ لیکن آپ نے اگر دوسروں کے خیالات کی بنیاد پر سر سید کے متعلق کوئی تصور قائم کر رکھا ہے تو اسے بھی کچھ دیر کے لئے ایک طرف رکھدیجئے اور تہذیب الاخلاق و مقالات سر سید کا مطالعہ کر لیجئے۔ اگر آپ کے خمیر میں "حریت” کی ادنیٰ سی بھی رمق ہوئی تو آپ سر سید کو مسترد کئے بغیر رہ ہی نہیں سکیں گے۔ میں اگر چاہتا تو سر سید کی "تفسیر القراں” کی بات بھی کر سکتا تھا لیکن میں نہیں چاہتا کہ آپ کو یہ تاثر دوں کہ میں سر سید کو مولویانہ بنیاد پر مسترد کرتا ہوں۔ آپ ایک حریت پسند سیکولر ذہن سے بھی اگر سر سید کو پڑھیں تو مسترد کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچتی۔ اقبال نے انہی کے تصورِ تجدید کے لئے کہا تھا

لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازہ تجدید
مشرق میں ہے تہذیب فرنگی کا بہانہ

اور علی گڑھ یونیورسٹی کے اساتذہ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ اقبال نے ہی کہا تھا

میں ہوں نو مید تیرے ساقیانِ سامری فن سے
کہ بزم خاوراں میں لے کے آئے ساتگیں خالی

نئی بجلی کہاں ان بادلوں کے جیب و داماں میں
پرانی بجلیوں سے بھی ہے جن کی آستیں خالی

متعلقہ مضامین