سنو، منادی سنو

ڈھن، ڈھن، ڈھنا ڈھن …..ڈھول کی تھاپ اور ڈنکے کی چوٹ پر برسرعام یہ منادی کی جاتی ہے ’’لوگو سنو، سنو لوگو سنو، ڈھن ڈھنا ڈھن….. خلق خدا کی، ریاست عوام کی، حکومت عباسی کی، حمایت ن کی، شفقت اداروں کی۔ ڈھن ڈھنا ڈھن….. یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی جاری رہے گی نہ کوئی ٹیکنو کریٹ حکومت بنے گی اور نہ ہی کوئی غیر آئینی اقدام کیا جائے گا، اداروں کا احترام کریں محاذ آرائی سے گریز کریں ٹیکنو کریٹ حکومت کے لئے شیروانیاں سلوانے والے گھر جا کر سو جائیں ابھی دور دور تک ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے‘‘۔
’’خبردار، ہوشیار، سازشوں سے پرہیز کریں۔ ڈھن ڈھنا ڈھن وہ عناصر جو یہ سوچ رہے ہیں کہ دھوکہ دیکر مارچ تک حکومت چلالیں گے سینیٹ میں اکثریت لیں گے اور پھر سینیٹ اور قومی اسمبلی کی اکثریت استعمال کر کے فوج بہادر اور عدالت خان کے خلاف ترامیم کر لیں گے کہیں عدالت خانوں کی عمر بڑھانے کی سازش کی جائے گی اور کہیں ان کی عمر کم کرنے کی، تاکہ اپنی مرضی کے عدالت خان لائے جاسکیں۔ خبردار ہوشیار ڈھن ڈھنا ڈھن خبردار! ایسا کچھ نہیں ہونے دیا جائے گا اداروں کے خلاف سازش کو سختی سے کچل دیا جائے گا اور اگر ایسی سازش کی ابتدا ہوئی تو اس بار 1453کریمنل سیاستدانوں کو انقلاب فرانس کی طرح چوکوں پر لٹکایا جائے گا اور سیاست سےجرم کو الگ کرنے (Decriminalisation of Politics)کے پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ یاد رکھیں! ’’جھاڑو پھرے گی جھاڑو‘‘
’’اے لوگو سنو ڈرو مت پریشانی کی کوئی بات نہیں۔اس ملک میں مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں افواج پاکستان ایسا کرنے ہی کے خلاف ہیں ڈھن ڈھنا ڈھن….. اس بار تاریخ بدلے گی سیاست بہتر ہوگی اور نظام آگے کو چلے گا کوئی بھی اسے تلپٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا‘‘۔
’’ڈھن ڈھنا ڈھن….. ریاست پاکستان کی طرف سے غداروں اور سازشیوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ احتجاجی اور باغیانہ سیاست بند کریں فیصلوں کا احترام کریں، نااہل لوگوں کو پارٹی کی صدارت دینا غلط ہے، متنبہ کیا جاتا ہے کہ کسی ایک فرد کی ذات کے لئے پارلیمان کے قانون کو استعمال کرنا انتہائی غلط اقدام ہے اسے ٹھیک کرنا ریاست کا فرض ہے اس کا نتیجہ جلد ہی آپ کے سامنے ہوگا…..
’’خلق خدا کی اور شفقت اداروں کی…..ڈھن ڈھنا ڈھن….. عباسی حکومت چلتی رہے گی، شہباز شریف کے لئے سیاسی راستہ کھلا ہے وہ مفاہمتی سیاست کریں تو ان کے لئے دروازے کھلتے جائیں گے وگرنہ ان کا انجام بھی سابق وزیراعظم اور ان کے بچوں جیسا ہوگا۔آخر قانون کی حکمرانی ہے۔
’’اے لوگو، اے عقل مندو سنو! ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے اس وقت ایک قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جس میں سیاسی اور فوجی قیادت بیٹھ کر مستقبل کا لائحہ عمل آئین کی روشنی میں طے کرے، الیکشن کب ہونے ہیں؟ وقت سے پہلے کروانے کے کیا فوائد ہیں اور کیا نقصانات ؟ نگران حکومت میں کون ہوگا؟ مشاہد حسین سید اور ڈاکٹر عشرت حسین تو ہر صورت میں ہونگے اور کسے کسے شامل کیا جائے؟ ڈھن ڈھنا ڈھن۔ لوگو بتائو یہ تجویز درست ہے یا غلط….. (چوک میں کھڑے لوگ زور زور سے تالیاں بجا کر قومی ڈائیلاگ کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک شخص آگے بڑھ کر کہتا ہے آئین اور جمہوریت پر کوئی اختلاف نہیں۔ اس کے مطابق جو بھی فیصلہ ہوگا سب کو قبول ہوگا) تالیاں….. ڈھن ڈھنا ڈھن۔ ارے لوگو آپ تو واقعی بہت عقل مند ہو۔ آیئے سب مل کر بات کریں کہ قومی ڈائیلاگ جلد شروع ہو‘‘۔
’’اے خلق خدا، اداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ مشاورتی اجلاس میں منصفانہ احتساب، اداروں کا احترام، آئین کی پابندی اور قانون کی حکمرانی پر گفتگو ہوگی۔ کیا آپ کو قبول ہے؟ تالیاں تالیاں۔ لوگو آپ قومی ڈائیلاگ اور ایجنڈے کے حامی ہیں حکمران ٹرائیکا۔ سیاست خان، عسکری خان اور عدالت خان سب اس ڈائیلاگ میں شریک ہوں گے۔ ملک کی متفقہ معاشی پالیسی بنانے پر بھی اتفاق رائے ہونا چاہئے ڈھنا ڈھن ڈھنا ڈھن تالیاں۔ آوازوں کا شور…..
’’سنو اے لوگو یہ ریاستی منادی ہے اسے غور سے سنو، شرپسندوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ یا تو ملک سے باہر رہیں یا پھر چپ چاپ عدالتوں کا سامنا کریں۔ 40گاڑیوں کے ساتھ احتساب عدالتوں میں حاضری نہیں چلے گی یہ تو عدالتوں اور اداروں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ڈھن ڈھنا ڈھن ….ریاست کی طرف سے ان لوگوں کو آخری وارننگ دی جارہی ہے کہ اگر یہ باز نہ آئے تو ریاست اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان کے خلاف آئین اور قانون کا اطلاق کرے گی یاد رکھیں یہ آخری انتباہ ہے نومبر آگیا ہے ساتھ ہی ساتھ ریاست کی سیاست بدلنے کا موسم بھی آگیا ہے۔ ڈھن ڈھنا ڈھن (اسی دوران ایک گلی سے چند نوجوانوں کی ایک ٹولی نکلی اور اس نے منادی والے کے سامنے مسلم لیگ ن زندہ باد اور شہباز شریف زندہ باد کے نعرےلگانے شروع کردیئے۔ منادی والے کے پاس کئی صفحات پر مشتمل ہدایات تھیں اس نے صفحات کو الٹا پلٹا اور ایک صفحہ نکال کر عبارت پڑھنی شروع کردی) ریاست کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو توڑنے کی کوشش نہیں کی جارہی اس طرح کی جتنی بھی افواہیں ہیں وہ سب غلط ہیں ڈھن ڈھنا ڈھن….. ہر محب وطن بشمول چودھری نثار اور شہباز شریف سب چاہتے ہیں کہ محاذ آرائی ختم ہو اور ملک آگے چلے (ٹولی نے تالیاں بجائیں) ڈھن ڈھنا ڈھن پاکستانیو، سنو! ریاست بیرونی خطرات اور بین الاقوامی ریشہ دوانیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے اسی لئے ریاست نے امریکہ بہادر کے ساتھ مذاکرات ایک ہی میز پر بیٹھ کر کئے قومی اتحاد کا تصور دیا اور واضح کردیا کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزائم بالکل واضح ہیں۔ البتہ ڈو مور ڈو مور کہنے سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ پیچیدہ ہونگے ہمارے دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف توسیعی عزائم نہیں ہیں ہم پرامن ملک ہیں اور پرامن طور پر ہی رہنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی دشمنوں کو بھی واضح کرنا چاہتے ہیں اگر کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھ ہی نکال لی جائے گی ’’ڈھن ڈھنا ڈھن‘‘۔
’’سنو لوگو سنو، ڈھنا ڈھن ڈھن….. خلق خدا کی، ریاست عوام کی اور شفقت اداروں کی۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے بھرپور قومی مشاورت کی جائے تاکہ ایک دفعہ پاکستان کی سمت متعین ہو جائے تو پھر باقی چھوٹے موٹے معاملات چلتے رہیں گے۔ ملک میں کوئی بحران پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا، قانون کی حکمرانی جاری رہے گی اور اس سلسلے میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا اسے مثال بنا دیا جائے گا ڈھن ڈھنا ڈھن سب کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ ریاست کی نرمی اوراحتیاط سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش خطرناک ثابت ہوگی ایسے لوگوں کو عبرت ناک سزا ملے گی ڈھن ڈھنا ڈھن…..

بشکریہ روزنامہ جنگ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے