محاز آرائی کون کر رہا ہے؟

نوازشریف اداروں سے محاز آرائی کر رہے ہیں۔ عدلیہ اور اداروں کے اقدامات پر نوازشریف اور اس کی بیٹی سوال اٹھاتے ہیں؟ حکمران جماعتوں اور پارٹی سربراہان کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ کسی سے الجھنے کی بجائے سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ تلخ باتوں کا شیریں الفاظ میں جواب دیں ۔ حکمران کا کردار گھر کے سر براہ کا ہوتا ہے ۔ جسے اپنے ماتحت اداروں کو سمجھ داری کے ساتھ اپنے کنٹرول میں رکھنا ہوتا ہے، نہ کہ ان سے برابری کی سطح پر اتر کر جھگڑا کریں ۔
یقینا ہم نے حالیہ تاریخ میں دیکھا کہ عدلیہ نے اپنے فیصلوں میں نوازشریف کو جھوٹا، سسلین مافیا اور گاڈ فادر کہا، جواب میں نوازشریف کبھی خاموش رہے اور کبھی برسے لیکن اکیلے وہ خود ہی محاز آرائی کا مرتکب ٹھہرے، وجہ یہ ہے کہ وہ بڑے ہیں ۔ اور بڑوں سے تحمل اور صبر کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
ن لیگ کے حمایتیوں کی یہ رائے ہے کہ عدلیہ کے ‘ہیرے’ جب وٹس ایپ کال سے چنے گئے اور نواز شریف ان کی قابلیت پر سوال اٹھائے تو کہا گیا کہ نواز شریف اسٹیبشلمنٹ کو ٹارگٹ کر رہے ہیں ۔ کچھ ایسے افراد جو جے آئی ٹی کا حصہ نہیں تھے وہ حسین نواز کی پیشی کی تصویر لیک کر دیں، اور نواز شریف کا خاندان پوچھے کہ تصویر کس نے لیک کی، تصویر لیک کرنے والے کا نام پوچھنے کے باوجود حکومت کو نہ بتایا جائے تو نواز شریف ادارے سے محاز آرائی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ن لیگ کے سپورٹرز کا موقف ہے کہ ڈان لیکس کے ذریعے کچھ حقیقی باتیں سامنے آ گئیں تو نواز شریف نے اداروں کے گلے شکوے پر معاملے کی تحقیقات کروائیں کیونکہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے تھے، جواب میں تحقیقیات پر ‘ریجیکٹڈ’ کی ٹوئٹ آئی تو بھی نواز شریف خاموش رہے ۔ لیکن پھر بھی الزام لگا کہ نواز شریف نے ادارے سے محاز آرائی کی ۔ کارکن تنقیدی انداز میں کہتے ہیں کہ عدلیہ نے پاناما کیس پر فیصلے میں وزیراعظم کو گاڈ فادر لکھ کر ہرگز بغض کا اظہار نہیں کیا لہذا محاز آرائی کی مرتکب نہیں ٹھہری ۔ نہال ہاشمی مقدمے میں جج صاحب وزیراعظم کو پھر سسلین مافیا کہہ دیں تو وہ ہرگز محاز آرائی نہیں کر رہے ۔ سابق وزیراعظم کی نظرثانی کی اپیل پر ایک مرتبہ پھر فیصلے میں سابق وزیراعظم کو جھوٹا کہا جائے، تب بھی جج ہرگز محاز آرائی کے مرتکب نہیں ٹھہرے؟ کارکنان کا یہ موقف حق بجانب کہ نواز شریف نے کبھی محاز آرائی میں پہل نہیں کی بلکہ ہمیشہ خاموش رہ کر صبر سے ادروں کی بات سنی ۔ لیکن اس کے باوجود ہمیشہ انھیں محاذ آرائی کا ذمہ دار ٹھہرانا انصاف نہیں ۔
البتہ ایک حقیقت ہے کہ نواز شریف پارلیمنٹ کے ادارے سے محاز آرائی کے ذمہ دار ہیں ۔ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت نہ کی، اپنے وزراء کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ نہ بنایا ۔ اجلاس کے کورم پورا نہ کروا کے پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا ۔ شائد اگر آپ پارلیمنٹ کے ادارے کو عزت بخشتے تو آپ پر محاز آرائی کا الزام لگانے والے شائد آپ سے اس قدر آسانی سے محاز آرائی نہ کر پاتے ۔
سیاستدانوں پر محاز آرائی کرنے کا الزام ہمیشہ لگا، لیکن حمکران تو بدلتے رہے ہیں، لیکن جن اداروں سے وہ محاز آرائی کر کے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں وہ ستر برسوں سے وہی ہیں ۔
( نوٹ) غیر جانبداری کوئی چیز نہیں ۔ یا بات درست ہوتی ہے یا غلط ۔ اس کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے