نواز شریف کے وکیل کا غصہ

وہی ہوا جس کی امید تھی، یعنی سماعت کا آغاز حسب روایت نئی درخواست سے ہوا ۔ نواز شریف اور مریم نواز ہمیشہ کی طرح فرنٹ نشستوں پر بیٹھے اور کیپٹن صفدر کو آخری بینچ پر جگہ ملی ۔ سابق وزیراعظم کو دیکھ کر سوال و جواب کا خیال آیا، ایک رپورٹر نے کہا یہاں نواز شریف تنقید کریں گے، عمران خان کا نام لے کر برسیں گے، کپتان کی ضمانت پر تبصرہ چاہا، نواز شریف نے سر ہلایا، ساتھ کھڑے رپورٹرز نے پوری بات بتائی، میاں صاحب پھر میسنے بن گئے، مجھ سمیت باقی رپورٹرز نے تھوڑی تھوڑی کر کے عمران خان کی ضمانت سے متعلق پوری کہانی سنا دی۔ تب میاں صاحب بولے، وہاں پر موجود ساتھی نے کہا دیکھنا خان پر تنقید ہوگی، نام لے کر ہوگی، مگر سابق وزیراعظم سب کچھ بولے مگر وہ نہ بولے جو خواہش تھی، خواہش شاید پوری ہو جاتی مگر جج صاحب کمرہ عدالت میں آ گئے، نئی درخواستوں سے متعلق فیصلہ ہوا کہ بعد میں دلائل دیے جائیں گے، استغاثہ کی گواہ سدرہ منصور نے حلف اٹھایا جو کہوں گی سچ کہوں، سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گی، حدیببہ پیپر ملز کی سالانہ آڈٹ رپورٹس پیش کیں، خواجہ حارث کے سوال پر بتایا جو دستاویزات پیش کیں ان کی نقول موجود ہیں، اصل دستاویزات دے سکتی ہوں، خواجہ حارث نے کہا کب، بتایا ابھی، فراہم کیں، ساتھ کھڑے امجد ایڈووکیٹ نے باغور جائزہ لیا، خواجہ حارث کو بتایا یہ اصل نہیں بلکہ نقول ہیں، خواجہ حارث نے اعتراض اٹھایا، بولے یہ فوٹو کاپیاں ہیں، نہ تو ہم بے وقوف ہیں نہ ہم بنیں گے۔ نیب پراسیکوٹر نے اعتراض اٹھایا کہ یہی دستاویزات ہوتی ہیں، تاہم خواجہ حارث کے اصرار پر لکھ دیا کہ جمع کرائی گئی دستاویزات اصل نہیں بلکہ نقول ہیں۔ خواجہ حارث نے پوچھا یہ بتائیں نواز شریف حدیبیہ پیپر ملز کے کبھی ڈائریکٹر یا شئیرز ہولڈرز رہے۔ سدرہ منصور نے ایک ایک فارم دیکھ کربتایا شروع کیا، ہر فارم پر جواب ملا نہ سابق وزیراعظم شئیر ہولڈررہے نہ ہی کبھی ڈائریکٹر، نیب پراسکیوٹر افضل قریشی کو شاید گمان گزرا کہ معاملہ ان کے خلاف جا رہا ہے تو بولے ریفرنسز میں شامل دیگر ملزمان کا بھی پوچھ لیں کہ وہ کبھی شئیرز ہولڈر اور ڈائریکٹر رہے یا نہیں۔ اس پر خواجہ حارث اور امجد پرویز ایڈووکیٹ بھڑک اٹھے، کہا یہ کیا بات کر رہے ہیں، آپ ہمیں نہ بتائیں ہم نے کیا پوچھنا ہے کیا نہیں، ہمارا کیس خراب کرنے کی کوشش ہے۔ نیب پراسکیوٹر سردار مظفر بھی معاملے کی نزاکت کو سمجھ گئے اور جان گئے غلطی اپنے پراسیکوٹر کی ہے۔ انہوں نے کہا آپ پوچھیں گواہ موجود ہے، اپنی مرضی سے پوچھیں۔ خواجہ حارث نے جواب دیا نیب پراسیکوٹر کو تھوڑا ذمہ دار ہونا چاہیے، یہ رویہ درست نہیں، جج نے کہا آپ مداخلت نہ کریں، یوں معاملہ آگے بڑھا۔ استغاثہ کے دوسرے گواہ نے بھی بیان ریکارڈ کرایا، وکیل دفاع نے دونوں گواہوں میں ایک مشترک چیز ثابت کرنے کی کوشش کی، دونوں گواہوں کی جانب سے جمع کرائی گئیں دستاویزات نہ تو گواہان نے تیار کیں، نہ ہی ان کے دستخظ ہیں، نہ ہی کبھی انکی کسٹڈی میں رہیں۔ دوران سماعت نواز شریف کمرہ عدالت میں نوٹس لیتے رہے۔ نوٹس لیے، پرویز رشید سے مشاورت کی، پھر کچھ تبدیلی کی، عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دی۔ نواز شریف میڈیا کیمروں تک پہنچنے سے پہلے اپنا لکھا ہوا پڑھتے رہے۔ کیمروں پر بولے تفصیلی فیصلے کی زبانی سیاسی مخالفین کی لگتی ہے، عدالتوں کے دوہرے معیار کے خلاف جدوجہد جاری ہے اور جاری رہے گی، عدالت نے انہیں ایک ہفتے جبکہ مریم نواز کو ایک ماہ کی حاضری سے استثنیٰ بھی دے دی، یوں چودویں سماعت اپنے اختتام کو پہنچی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے