ہم اور تم

باقی سب قابو میں تھا بس خزانچی قابو میں نہیں تھا۔ ہمیں سیاست و سفارت کی تو مہارت ہمیشہ سے تھی۔بس مالیاتی معاملات کے لئے ہم شوکت عزیز جیسے درآمدی کوالٹی کے وزیر اور وزرائے اعظم کے محتاج رہے۔ جس دن ہم نے میڈیا اور صحافت کی طرح مالیاتی امور کے ماہرین کا ایک بریگیڈ بھی تیار کر لیا تو اس روز ہمیں جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا راگ بھی نہیں الاپنا پڑے گااور نہ ہی آئین کی من پسند تشریح کے لئے کسی کی "منتیں” کرنی پڑینگی۔ یہ ملکی خزانے کا معاملہ ذرا پیچیدہ اس لئے ہے کہ اس میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے اور انکی واپسی کے معاہدے کرنا اور حساب کتاب رکھنا مشکل اور دماغ پر زور دینے کا کام ہوتا ہے۔ اس معاملے میں اسحاق ڈار جیسے "چالاک” آدمی پر موجودہ "نازک صورتحال” میں اعتبار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ اسحاق ڈار جو ایک نااہل قرار دئیے گئے وزیراعظم کا رشتہ دار اور رازداں بھی ہے۔اگلے دفاعی بجٹ کے لئے کوئی ایسا ماہر مالیاتی امور ہو جو منتخب نہ صحیح مگر بطور مشیر ہماری نامعلوم کالر آئی ڈی والی ایک فون کا ل پر ہمارے مطالبات کو تسلیم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اسحاق ڈار کا "مکو ٹھپ” تو دیا گیا ہے مگر وہ بضد ہے کہ اگر اس جمہوریت میں ایسے وزیراعظم ،وزیردفاع، وزیر خارجہ اپنا کام چلا رہے ہیں تو وزیر خزانہ بھی اگر ایک کونے میں یا لندن کے ہسپتال میں بیٹھا دہی کھاتا رہے تو کسی کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔اسحاق ڈار بہت چالاک و ذہین آدمی ہے وہ جانتا ہے کہ احتساب عدالت میں بہت سے سوالات کے جوابات وہ نہیں دے پائے گا اور جس طرح "ملکی مفاد” میں ہم نے عدالتی نظام کو قابو کر رکھا ہے اس میں اسکے اور شریف خاندان کے بچنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اگر ہم یہ بھی نہ کرتے تو کیا یہ عدالتیں "انصاف” کرنے کی اہلیت رکھتی تھیں؟ وہ عدالتیں جو دہشت گردوں کے ٹرائل سے ڈر کر فوجی عدالتوں پر تکیہ کئے ہوئے ہیں وہ "مافیا” کے خلاف ہماری "آشیرباد” کے بغیر کیسے فیصلے سناتیں۔ یہ واٹس ایپ اور نامعلوم آئی ڈی والی کالیں اگر ملکی مفاد میں قانون سازوں اور اسکے تشریح کاروں کونہ کی جائیں تو کیا انکا استعمال محض اچھے اور برے طالبان سے رابطوں کے لئے ہی رہ گیا ہے۔”ملکی مفاد” میں جو اتنےبڑے بڑے "قانونی” فیصلے ہوئے ہیں اگر انہیں "منطقی انجام” تک نہ پہنچایا گیا تو پھر نواز شریف کو ہٹانے کا فائدہ کیا ہوا۔تمام اداروں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ریاست ہو گی تو آئین ہو گا اور ریاست نہ ہو گی تو آئین کا فائدہ؟ اس حوالے سے بار بار ہمیں آئین کے دفاع اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے سے متعلق ہمارے حلف کا ذکر نہ کیا جائے۔ اگر ہم وہ حلف نہیں اٹھائیں تو ہمیں فوج میں کمیشن (نوکری) نہیں ملتا اور اگر ہمیں کمیشن نہ ملتا تو ہم آج اپنا اصل کام چھوڑ کر سیاست جیسا گندا کام کرنے پر کیوں مجبور ہوتے ۔ہمارے حلف اور بڑے بڑے ججوں کے حلف میں آخر فرق ہی کتنا ہے؟ ویسے بھی ہمارا اور عدلیہ کا ایک اندرونی احتساب کا نظام ہے جس پر بات کرنے کا حق کسی کو نہیں۔ آخر ہم بھی تو عدلیہ کی طرح آزاد ہیں اپنے فیصلوں میں۔آئین میں ہمیں وفاقی حکومت کے کنٹرول اور ماتحتی میں جودکھایا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم وزیراعظموں اور وفاقی حکومت کے ہر غیر قانونی حکم کی پیروی کریں۔اور پھر ایسے احکامات کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کا فیصلہ ہم نے خود ہی تو کرنا ہے ناں۔آخر جوان تو ہمارے شہید ہوتے ہیں ناں،خون تو ہمارا بہتا ہے ناں تو اس میں وفاقی حکومت ہمیں کیسے "الٹے سیدھے” احکامات دے سکتی ہے؟ اب تو ہم بھی آئین اور قانون کو سمجھ گئے ہیں۔اب تو ہمارا بھی ایک قانون کا علیحدہ محکمہ ہے ،ہماری بھی عدالتیں ہیں اور ہمارے پاس بھی میڈیا کی قوت ہے۔بس یہ خزانے اور مالیاتی امور کاذرا مسئلہ تھا وگرنہ تو ہم اپنا بجٹ بھی خود ہی تیار کر کے منظور کر لیتے ۔باقی اگر ہمار بجٹ بھی حکومت منظور نہ کرے تو اسکا کام ہی کیا رہ جاتا ہے۔سچی بات تو وہ ہے جو سیکرٹری دفاع نے پارلیمنٹ کی ایک قائمہ کمیٹی میں کہہ دی ہے۔آپ نے سنا نہیں کہ اب اسلام آبادمیں ہمارے ہیڈ کوارٹرز کی نئی عمارت کی تعمیر کے لئے ہمیں حکومت سے پیسے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہم خود ہی تقریباً سو ارب روپے مالیت سے یہ ہیڈ کوارٹر تعمیر کر لیں گے۔ہم سے اس سو ارب روپے کی منی ٹریل کے بارے میں نہ پوچھا جائے ،ہم کوئی نواز شریف نہیں کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ ‘ کسی عدالت یا آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو جواب دینے کے پابند ہیں۔ انشااللہ ایک وقت آئے گا کہ ہمیں حکومت کے دفاعی بجٹ کی بھی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔بالکل اسی طرح جس طرح آج ہمیں آپکے وزیر دفاع،سیکرٹری دفاع اور وزارت دفاع کی بھی ضرورت نہیں۔آجاتے ہیں بڑے رعب جمانے اور گارڈ آف آنر مانگنے۔اب وزیر دفاع کی بھی کوئی اوقات ہے کہ اسے ہم گارڈ آف آنر پیش کریں اور پھر اسکی ویڈیو فلم میڈیا پر چلنے کی اجازت دیں۔یہ جو ایک وزیراعظم کو ہم نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کرا دیا یا اسکو ضرورت پڑنے پر ہیڈکوارٹر میں گارڈ آف آنر دینا پڑا تو یہ بھی ہماری طرف سے جمہوریت کو پھولوں کا ایک گلدستہ ہو گا جس کا شکریہ بھی ادا کرنا ہو گا۔ حکومت کو ذرا بھی احساس نہیں کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اتنا بڑھ گیا ہے اور اہم فیصلے نہیں کئیے جارہے۔ کیا وجہ ہے کہ فوری انتخابات نہیں کرائے جارہے؟ عدلیہ نے اپنا کام “بخوبی” کیا ہے مگر پارلیمنٹ نے نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدارت کی قانونی اجازت کیوں دی ہے؟ خود حکمران جماعت کے اندر جمہوریت کیوں نہیں؟ کیا شہباز شریف نواز شریف کا متبادل نہیں ہو سکتے تھے؟ آخر کیوں حدیبیہ پیپرز جیسے مقدمے کو کھولنے کی ضرورت پڑ رہی ہے؟اگر شہباز شریف پارٹی صدارت سنبھال لیتے تو ہم نئی حکومت کو خصوصی گارڈ آف آنر پیش کرتے۔اور یوں جمہوریت ایسے ہی پھلتی پھولتی رہتی۔ اب پھر منگل کو نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف قانون قومی اسمبلی میں آرہا ہے جو اس قانون کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے اسمبلی کے اجلاس میں جائے گا تو کیا اسکی ٹانگیں نہیں توڑنی چاہییں؟ تو بہتر ہے ایسے لوگوں کو ایک بار فون پر نتائج سے آگاہ کردیا جائے ۔ویسے بھی جو اراکین اسمبلی نامعلوم کالر آئی ڈی کی فون کال فوراً اٹھا لیتے ہیں اسکی کوئی تو وجہ ہو گی ناں۔کچھ تو پہلے ہی ہمارے قریب ہیں، کچھ دوبارہ منتخب بھی ہونا چاہتے ہیں،کچھ نئے سیٹ اپ میں وزارت مانگتے ہیں اور کچھ محض جاں بخشی چاہتے ہیں۔ کون ہے اس اسمبلی میں جس کی فائل نہیں کھلی ہمارے پاس۔جس کی فون کی گفتگو ہمارے پاس محفوظ نہیں اور جس کے دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں کا ہمارے پاس ریکارڈ نہیں۔وہ جوآئی بی والی لسٹ لیک ہوئی تھی وہ شاید اتنی بھی غلط نہیں تھی صرف لیٹر ہیڈ ہی تو بدلا تھا۔ویسے نامعلوم کالر آئی ڈی کی کالوں کا شکوہ کرنے والے کچھ ایسے بھی ہیں جو ایسی مسڈ کالیں کسی سے کروا کر اسمبلی سے غیر حاضری کا خود ہی بہانہ تلاش کر رہے ہیں اور پھر ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ ساری بات اراکین اسمبلی کو منگل کے اجلاس سے ڈرانے کے لئے ہی پھیلائی جارہی ہو کہ جن کو ایسی کالیں نہیں بھی آئی وہ بھی محتاط ہو جائیں۔ اور ایک بات اور ہو سکتی ہے کہ حکمران جماعت اپنے اندر کی بغاوت کو سونگھتے ہوئے ایک کہانی گھڑ رہی ہو۔ اسکا مقصد منگل کے دن کی ممکنہ ہزیمت کی وجوہات گھڑنی ہوں۔ ویسے بھی اگر حکومت یا قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق چاہیں تو ایسی فون کالوں کو توہین پارلیمنٹ قرار دے کر ایک پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے مگر پھر پارلیمنٹ اور حکومت کی عزت اس تکنیکی پہلو پر داؤ پر لگ جائے گی کہ انکو خفیہ اداروں کی طرف سے نامعلوم فون کالوں کا وہ ریکارڈ ہی نہیں دیا جائے گا جو آج تک صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کے بھی بے نتیجہ ہونے کا باعث بنتا رہا۔ کیا پارلیمنٹ اور حکومت میں اتنی شرم اور حیا ہے کہ ایسے تکنیکی معاملے پر اپنی بے بسی کا سر عام اعتراف کرے یا پھر ایسا ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف کاروائی کرے؟ مگر پارلیمنٹ تو اس وقت خود کو سچا مسلمان ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ ایک کے بعد دوسری قانونی ترامیم کے ذریعے اور ذاتیوضاحتو ں کے باوجود ختم نبوت سے متعلق پنڈی اسلام آباد میں جاری دھرنا دو بھائیوں کی ریاستوں کے بیچ غلط فہمی پیدا کرنے کے قریب ہے ۔ان دھرنے والوں کا وہی مطالبہ ہے جو تحت لاہور کے وارث شہباز شریف نے کر رکھا ہے۔ اس لئے پنچاب سےنکلتے اس جلوس کو روکا نہیں گیا اور اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ان دھرنے والوں کے خلاف آپریشن کے لئے بھی راولپنڈی پولیس اور اسلام آباد پولیس کے درمیان کچھ معاملات طے ہونے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن واقعے کی جلی ہوئی راولپنڈی پولیس اب نواز لیگ حکومت کی اسلام آباد پولیس کو پہلا ڈنڈا گھماتے دیکھنا چاہ رہی ہے اس لئے اسلام آباد کے وزیر داخلہ احسن اقبال دھرنے والوں کو جگا جگا کر اور تھکاتھکاکر وہاں سے ہٹانے کی کوئی حکمت عملی سوچ رہے ہیں۔ دوسری صورت میں کوئی بھی حادثہ کسی بڑے سیاسی حادثے کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ وہ سیاسی حادثہ جس کے ہونے سے ایک فریق کو نقصان اور ایک کو فائدہ ہو گا۔ اگر یہ دھرنا پرامن طریقے سے منتشر ہو بھی گیا تو مارچ میں سینیٹ کے انتخابات کا خواب چکنا چور کرنے واسطے کسی ایک صوبے کی اسمبلی اور حکومت کا تحلیل ہونا ہی کافی ہو گا۔ بلوچستان حکومت کو کان سے پکڑ کر تحلیل کرانے کی صورت میں کے پی کے کی حکومت اگلا قدم اٹھا سکتی ہے اور اس کے بعد گیند سندھ حکومت یعنی آصف زرداری کی کورٹ میں آئے گی۔ اسی وقت کے لئے آصف زرداری موجودہ حکومت سے آئندہ الیکشن کی سیٹوں پر بھاؤ تاؤ کےلئے تیار ہیں۔مگر اس تاثر کو رد کرنے کے لئے زرداری کے نواز پر حملے شدید ہو رہے ہیں۔ دو یا تین صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل اور متعلقہ صوبائی حکمران جماعتوں کے قومی اسمبلی سے استعفوں کے بعد بات چھوٹے بھائی شہباز شریف تک پہنچے گی۔ تین اسمبلیاں تحلیل ہوں گی تو شہباز کیا کرے گا- پنجاب کی حکومت اور اسمبلی کا بہرحال قانونی فیصلہ شہباز شریف نے کرنا ہے۔ نواز شریف کی مرضی کہ بغیر ایسا فیصلہ حکمران جماعت کو مزید انتشار کا شکار کر سکتا ہے۔ ویسے تو اس منگل کو ہی صورت حال کا فی واضح ہو جائے گی جب ن لیگ کے اراکین قومی اسمبلی میں نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف قانونی بل کو روکنے کے لئے پوری قوت کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہونے چاہییں ۔منگل کے بعد احتساب عدالت ،ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ اہم فیصلوں کے ذریعے شریف خاندان کی مشکلات میں کمی یا اضافہ کر سکتی ہیں۔ جب منصوبہ تیار ہو اور ٹائم فریم واضح ہو تو اس پر عمل نہ کرنا جنگی اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ اور یہ سب کچھ بہرحال ایک جنگ ہے اقتدار کے لئے ہی سہی۔

متعلقہ مضامین