مجھے خطرہ ہے

میں یعنی پاکستان کا عام آدمی شدید خطرات سے دوچار ہوں۔ میری سب سے بڑی مشکل تو یہ ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک کی طرح میں بھی اپنے ملک کی غالب اکثریت ہوں سو لگ بھگ ہر جگہ خطروں کے رو بروہوں۔ میرا ہر جگہ موجود ہونا ہی میری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ مجھ کو لاحق خطرات کی شدت کا اسی سے اندازہ لگا لیجئے کہ میں نہ تو گھر سے باہر محفوظ ہوں اور نہ ہی گھر کے اندر۔ میں روز صبح گھر سے نکلتا ہوں تو میری پہلی مشکل بس سٹاپ پر میری منتظر ملتی ہے۔ سخت رش کے سبب اکثر مجھے بس کے دروازے میں لٹک کر سفر کرنا پڑتا ہے، کبھی نصیب یاوری کرے تو بس کے اندر بھی پہنچ جاتا ہوں۔ اگر دروازے پر لٹک کر سفر کروں تو جان کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں اور بس کے اندر پہنچ جاؤں تو ایک ہاتھ اپنی جیب کے آس پاس ہی رکھنا پڑتا ہے کیونکہ اسی بس کی چھت کے حاشیے پر یہ ہدایت لکھی ہے ’’جیب کتروں سے ہوشیار رہیں‘‘ سفر کی نسبت سے ہی مجھے لاحق کچھ دیگر خطرات بھی دیکھ لیجئے۔ میں طویل سفر کے لئے بس یا ریلوے سٹیشن پر پہنچوں تو وہاں ایک دیوار پر یہ ہدایت مجھے ڈرا رہی رہی ہوتی ہے ’’اپنے سامان کی خود حفاظت کیجئے، چوری کی صورت میں انتظامیہ ذمہ دار نہ ہوگی‘‘ تو دوسری دیوار پر ایک اور خطرے کی جانب یوں اشارہ ہوتا ہے ’’دوران سفر اجنبیوں سے کچھ کھانے پینے سے گریز کریں‘‘ اب ذکر کھانے پینے کا ہی ہے تو ذرا ان خطرات پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے جو مجھے محفوظ کھانوں سے لاحق ہیں۔ گھر میں کھاؤں تو نہ میرا دودھ خالص ہے اور نہ ہی غذائی اجناس۔ باہر کھاؤں تو سمندری چمکادڑ سے لے کر گدھے تک کچھ بھی میرے معدے تک پہنچ جاتا ہے۔ مجھے روز تین وقت کی غذا درکار ہے، میں روز تین وقت وہ خطرات اپنے معدے میں اتارتا ہوں جن کے ہوتے میری صحت محفوظ نہیں رہتی سو میں بکثرت بیمار رہنے لگا ہوں۔

میں پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس جاؤں تو اس کا ڈاکٹر ہونا ہی غیر یقینی ہوتا ہے جو میری صحت کے لئے خطرے کی ایک گھنٹی ہوتی ہے۔ سرکاری ہسپتال جاؤں تو ڈاکٹر کا ڈاکٹر ہونا ہی نہیں بلکہ ڈاکو ہونا بھی یقینی ہوجاتا ہے کہ چاہتا ہے اس کے پرائیویٹ کلینک پر ہی اس سے ملوں تاکہ ’’تسلی‘‘ سے میری طبیعت اور جیب دونوں صاف کر سکے۔ دعائیں تو میری پہلے ہی کار گر نہ تھیں کہ ان کی قبولیت کے لئے خشوع درکار ہے اور میں ٹھرا پریشان آدمی، پریشانی اور خشوع بھلا ایک جگہ کیسے جمع ہوں۔اب دوائیں بھی بے اثر ہوگئی ہیں جو خطرے کی سنگینی کا اشارہ ہے۔ مولوی صاحب اسے میرے والدین کی بد دعاؤں کا نتیجہ بتاتے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ والدین تو تب ہی گزر گئے تھے جب میں ابھی بچہ تھا سو دل میں سوچتا ہوں مولوی بھی خطرے سے کم نہیں۔ مولوی سے متعلق میں جو بھی سوچتا ہوں دل میں ہی رکھتا ہوں ۔ زباں پر آجائے تو میری زندگی پر توہین مذہب کے خطرات منڈلانے لگتے ہیں۔ توہین سے یاد آیا کہ میں عدالت سے بھی بہت ڈرتا ہوں۔ اس ڈر کی شدت دیکھئے کہ یہی نہیں بتا سکتا کہ کیوں ڈرتا ہوں۔ میرا ایک فیس بک اکاؤنٹ بھی ہے مگر میں اس پر صرف اپنی تصویریں اپلوڈ کرتا ہوں لکھتا وکھتا کچھ بھی نہیں کیونکہ جانتا ہوں کہ یہ فیس بک اور ٹویٹر بھی پر خطر مقامات میں سے ہیں۔ میں نے اس کے چوراہوں سے لوگوں کو لاپتہ ہوتے دیکھا ہے اور میں لاپتہ نہیں ہونا چاہتا۔ کیسی مشکل ہے یہ زندگی کہ میں سب سے زیادہ انہی سے ڈرتا ہوں جو مجھے تحفظ اور سہولتیں دینے کی تنخواہ لیتے ہیں۔ مجھے ٹریفک وارڈن سے ڈر لگتا ہے، میں پولیس موبائل دیکھ کر دبک جاتا ہوں اور میں واپڈا میٹر ریڈر سے گھبرا جاتا ہوں۔ مجھے ایک بار صرف اس لئے اپنا گھر بدلنا پڑا کہ میرے پڑوس میں رہنے والے انکم ٹیکس کلرک نے میرے بچے کی موٹر سائیکل کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھ لیا تھا ’’ابو کیا کام کرتے ہیں ؟‘‘

دھوکہ، فراڈ اور بے ایمانی اتنی بڑھ گئی کہ مجھے سرکار اور اس کے اداروں سے خطرہ ہے۔ مجھے تاجر اور اس کی دکان سے خطرہ ہے۔ مجھے صنعت کار اور اس کی صنعت سے خطرہ ہے۔ مجھے گرتی زیر تعمیر عمارتوں اور اس کے بلڈرز سے خطرہ ہے۔ مجھے فزیشن اور اس کی نرس سے خطرہ ہے۔ مجھے سرجن اور اس کے نشتر سے خطرہ ہے۔ مجھے پولیس اور اس کے مقابلوں سے خطرہ ہے۔ مجھے وکیل اور اس کی عیاری سے خطرہ ہے۔ مجھے عدالت اور اس کی توہین سے خطرہ ہے۔ مجھے ریاست حسین اور اس کے نامعلوم افراد سے خطرہ ہے۔ مجھے صحافی اور اس کے کیمرے سے خطرہ ہے۔ مجھے واپڈا اور اس کے بل سے خطرہ ہے۔ اگر گیس آئے مجھے تب بھی خطرہ ہے اور گیس نہ آئے مجھے تب بھی خطرہ ہے۔ مجھے عمرے اور زیارات والے ٹوور آپریٹر اور اس کے حلیے سے خطرہ ہے۔ مجھے لاپروا والدین اور ان کے ون ویلنگ کرتے بچوں سے خطرہ ہے۔ مجھے سکول اور اس کی بے استاد درسگاہ سے خطرہ ہے۔ مجھے ریل اور اس کے ٹی ٹی سے خطرہ ہے۔ مجھے مفتی اور اس کے فتوے سے خطرہ ہے۔ مجھے پیر اور اس کے تعویذ سے خطرہ ہے۔ مجھے خطیب اور اس کی تقریر سے خطرہ ہے۔ مجھے طبیب اور اس کے مطب سے خطرہ ہے۔ مجھے محلے اور اس کے چور سے خطرہ ہے اور مجھے گھر اور اس کے شور سے خطرہ ہے۔ میرے رب ! مجھ عام آدمی کو اپنی بارگاہ کی پناہ دے کہ لگتا ہے ہر کس و ناکس سے خطرہ ہے !

بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے