سپریم کورٹ: پروین رحمان قتل کیس

سپریم کورٹ کو سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس کی سماعت میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی ملزم سمیت تمام نامزد افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، ٹرائل کورٹ میں مقدمہ آخری مراحل میں ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہمیں کراچی کا سب پتہ ہے کہ کون کہاں سے آپریٹ کرتا ہے۔
عدالت عظمی کے دو رکنی بنچ کے سامنے سندھ پولیس نے پروین رحمان قتل کیس کی رپورٹ پیش کی۔ سندھ کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ پروین رحمان قتل کے تمام ملزم پکڑے گئے، پولیس نے تحقیقات مکمل کر لی ہے، ٹرائل کورٹ میں معاملہ آخری مرحلہ میں ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کہ کیا قتل کا مرکزی ملزم رحیم سواتی گرفتار ہوا ؟۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے کہا کہ رحیم سواتی گرفتار ہو چکا ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہاکہ پولیس کی رپورٹ پر تحریری اعتراضات دائرکرنے کیلئے مہلت دی جائے۔ سندھ کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے کہاکہ مقدمہ کی سماعت لمبی تاریخ تک ملتوی کی جائے۔ جسٹس عظمت نے پوچھا کہ لمبی تاریخ کیوں ڈالی جائے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے کہاکہ پولیس حکام اور پراسکیوشن کو کراچی سے آنا پڑتا ہے، خزانہ پر بوجھ پڑتا۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ پیسہ کی بچت کیسے کرنی ہے، ہم سے نہ پوچھیں، ہم سے نہ پوچھیں کہ کس کے پاس کتنی اور کون سی گاڑیاں ہیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم رہتے اسلام آباد لاہور میں ہیں لیکن ہمیں کراچی کا سب پتہ ہے، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کون کہاں آپریٹ کرتا ہے سب معلوم ہے ۔ عدالت نے وکیل کو اعتراضات دائر کرنے کی مہلت سے دیتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے