حدیبیہ ریفرنس پر نیب لاجواب

سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کے لیے نیب اپیل کی سماعت کے دوران کئی اہم سوال اٹھائے ہیں، عدالت نے نیب سے کہا ہے کہ وہ ملزمان کی جانب سے نیب ریفرنس میں کارروائی پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے مطمئن کرے، بتایا جائے کہ مارچ سنہ دو ہزار میں ریفرنس دائر ہوا تو دسمبر سنہ دو ہزار تک جب ملزمان ملک میں تھے نیب نے کیا کارروائی کی؟ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کیا کہ ملزم (اسحاق ڈار) پرویز مشرف پر اثر انداز ہوتا رہا؟

عدالت عظمی کے تین رکنی خصوصی بنچ نے نیب اپیل کی سماعت شروع کی تو پراسیکوٹر عمران الحق نے عدالت سے اپیل میں کی گئی استدعا پڑھنے کی اجازت چاہی تو جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ اصل ریفرنس کہاں ہے؟ عمران الحق نے کہا کہ وہ اس وقت ہمارے پاس نہیں، اور ویسے بھی وہ متعلقہ نہیں_ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کہ آپ کیلئے نہیں ہوگا ہمارے لیے متعلقہ ہے _

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کیس میں مکمل ریکارڈ پیش کیا جانا چاہیے، اصل ریفرنس جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود ہے، وہ منگواتے ہیں پڑھ لیں،  پراسیکیوٹر عمران الحق نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر ریفرنس خارج کیا ۔ منی لانڈرنگ کے لیے ایکنامک ریفارمز ایکٹ کاسہارالیاگیا،پراسیکیوٹر نے ہائیکورٹ فیصلے میں شامل اسحاق ڈار کا بیان پڑھا جس میں کہاگیا ہے کہ دیگر ملزمان بیرون ملک چلے گئے، دوسرے بیان میں لکھا گیا ہے کہ شریک ملزمان کو جبری طورپر جلا وطن کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا کہ کس نے جبری طور پر جلا وطن کیا؟ نیب کے وکیل نے کہاکہ حکومت پاکستان نے ایسا کیاتھا۔ جسٹس قاضی نے دوبارہ پوچھا کہ حکومت کس کی تھی، وہ کون تھا نام بتائیں؟ پراسیکیوٹر نے ہچکچاتے ہوئے کہاکہ پرویز مشرف کی ۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ آپ کا بہت شکریہ ۔ عدالت کو بتایا گیاکہ شریک ملزمان کے بیرون ملک جانے پر ریفرنس بند کیا گیا جس کو سنہ دوہزار آٹھ میں ان کے واپس آنے پر دوبارہ کھولا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا کہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیان پر ریفرنس مارچ سنہ دوہزار میں دائر کیا گیا، شریک ملزمان دسمبر دوہزار آٹھ میں بیرون ملک گئے اس دوران نیب نے کیا کارروائی کی بتایاجائے؟۔ ریفرنس کتنے عرصہ میں مکمل ہونا چاہیے۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ قانون کے مطابق تیس دن میں مکمل ہونا ضروری ہے۔جسٹس قاضی فائز ن نے کہاکہ کیا ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی؟۔ کیااس عرصے میں ملزمان حراست میں نہ تھے؟ پھر نیب نے کیا کیا؟ کیاکچھ نہ کرنے کا مطلب ہے کہ ملزم (اسحاق ڈار)جنرل مشرف پر اثرانداز ہوتے رہے؟۔

عمران الحق نے کہا کہ جے آئی ٹی والیم 8 میں حدیبیہ پیپرز مل ریفرنس کے بارے سفارشات دی گئی ہیں۔ عدالت کہے تو ریفرنس کی دستاویزات فائل کر دیتے ہیں ۔ عدالت نے رجسٹرار آفس سے والیم 8 اور والیم 8 اے منگوایا ۔ عمران الحق نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے لیے جعلی فارن کرنسی اکاونٹ کھولے گئے ۔ وکیل نیب عمران الحق کا کہنا تھا کہ جعلی اکاونٹ اسحاق ڈار کے ذریعے کھلوائے گئے ۔ ملزمان کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے کاروائی روک دی گئی تھی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کسی کو جبری طور پر باہر بھیجنا یا کسی کا عدالت سے فرار ہونا دونوں مختلف چیزیں ہیں ۔ عمران الحق نے کہا کہ ملزمان کا بیرون ملک حدیبہ کا مقدمہ 6 سال داخل دفتر رہا۔ ملزمان کے واپس آنے پر احتساب عدالت میں مقدمہ دوبارہ کھولنے کی درخواست دائر کی۔ جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ 2008 میں احتساب عدالت نے ریفرنس دائر کرنے کاحکم دیا تھا ۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کیامقدمہ میں فرد جرم عائد ہوئی گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے ۔ ملزمان کب واپس آئے ۔ وکیل نیب عمران الحق نے بتایا کہ نومبر2007میں ملزمان جلاوطنی سے واپس آئے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا کہ ریفرنس پر کاروائی دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کب دائر کی ۔ عمران الحق نے بتایا کہ درخواست اگست 2008 میں دائر ہوئی۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ اپیل دائرکرنے میں قانونی معیاد کا ایشو بھی آئے گا۔ جب مقدمہ بحال کرنے کی درخواست کی اس وقت صدرمملکت کون تھے۔  عمران الحق نے کہا کہ اس وقت صدر آصف علی زرداری تھے ۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اس وقت بھی ملزمان مقدمات ہر اثرانداز نہیں ہو سکتے تھے ۔ وکیل نیب عمران الحق نے بتایا کہ ملزمان مقدمات پر اثرانداز 2014 میں ہوئے ۔ جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ہائی کورٹ میں ریفری جج نے ایک جج سے اختلاف ایک سے اتفاق کیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کیا کسی کے خلاف ریفرنس بناکر ہمیشہ کے لیے اس پر تلوار لٹکائیں گے ۔ ریفرنس کو طویل عرصے تک زیرالتوا نہیں رکھا جا سکتا ۔ جسٹس مشیرعالم نے پوچھا کہ آپ کیاسمجھتے ہیں اپیل پر ہم ابھی حکم جاری کردیں گے ۔ حدیبیہ پیپرملز کاریفرنس کہاں ہے ۔ وکیل نیب عمران الحق نے جواب دیا کہ پانامہ کے مقدمے کے بعد اپیل دائر کی ۔ اس میں سب چیزیں واضح ہیں ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ہم پانامہ کیس نہیں نیب کی اپیل سن رہے ہیں ۔ جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ حدیبیہ ریفرنس پر دلائل دیں ۔ وکیل نیب عمران الحق نے کہا کہ حدیبیہ ریفرنس پر میری مکمل تیاری نہیں ہے ۔ جسٹس قاضی فائز نے ہوچھا کہ حدیبیہ پیپرز ریفرنسس کی شکایت کس نے درج کرائی تھی ۔ وکیل بولے ہو سکتا ہے کسی مخبر کی اطلاع پر تحقیقات ہوئی ہوں، اس وقت کمپنی کے ڈائریکٹر کے پاس بہت بڑی رقم تھی، قاضی فائز نے پوچھا کہ ریفرنس میں فوجداری جرم کی نوعیت بتا دیں، جسٹس مشیرعالم نے پوچھا کہ تمام تفصیلات کب تک جمع کروا دیں گے ۔ عمران الحق نے کہا کہ ہمیں 4 ہفتے چاہئیں ۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ 4 ہفتے بہت زیادہ ہیں جو کام آج نہیں ہوگا وہ 4 ہفتوں میں بھی نہیں ہوگا ۔ عمران الحق نے کہا کہ ریفرنس پر سیکشن 9 کی ذیلی شق 5 کا اطلاق ہوتا ہے ۔ جسٹس قاضی نے کہا کہ ریفرنس میں سرکاری رقم کا ذکر نہیں ہے ۔حدیبیہ ریفرنس میں آمدن سے زیادہ اثاثوں کا الزام بھی نہیں ہے ۔ ہمیں ریفرنس میں یہ الزام دکھا دیں ۔ جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ہم اس وقت ریفرنس کے میرٹ کو نہیں دیکھ سکتے ۔ ریفربس کے میرٹ کافیصلہ کرنااحتساب عدالت کاکام ہے ۔ پہلے ہائی کورٹ کے فیصلے کے میرٹ پر دلائل دیں ۔ ضرورت پڑی توریفرنس کے میرٹ کو بعد میں دیکھیں گے ۔ ریفرنس میں عباس شریف کو فریق بنایا گیا یے ۔ عمران الحق نے کہا کہ ریفرنس کے التوا کے دوران عباس شریف کا انتقال ہو گیا۔ عباس شریف کے ورثا کو فریق بنایا گیا ہے ۔ جسٹس قاضی فائز نے ہوچھا کہ کیا جرم کا اطلاق ورثا پر ہوگا۔ بتایا جائے ملزمان مقدمے پر کب اور کیسے اثرانداز ہوئے ۔ہمیں ریفرنس کا مکمل ٹائم لائین فراہم کریں ۔ ہمیں یہ بھی بتا دیں کب کب کون چئیرمین نیب تھا ۔ جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ریفرنس کے فائل ہونے اور ملزمان کی جلاوطنی سے متعلق ریکارڈ بھی دیں ۔ملزمان کی جلاوطنی سے واپسی کے بعد کی کاروائی کا ریکارڈ بھی دیں ۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ بتانا ہوگا کہ چئیرمین نیب اتنے کمزور کیوں ہیں ۔ریفربس بناتے وقت چئیرمین نیب کون تھا ۔ جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ بتانا ہوگا کہ چئیرمین نیب کی تقرری کا طریقہ پہلے کیا تھا۔ دیکھنا چاہتے ہیں کہ چئیرمین پر کون اثرانداز ہو سکتا تھا۔
عدالت نے نیب سے تحریری جواب طلب کر لیا ۔ بتایا جائے فریقین کب عوامی عہدے پر تھے کب جلا وطن کیا گیا ۔ چئیرمین نیب کانام اور تقرری کا طریقہ کار بتایا جائے ۔ چئیرمین نیب کے تقرر کا اختیار کس کے پاس تھا ۔ حدیبیہ ریفرنس نیب قانون کے کس سیکشن کے تحت بنایا گیا۔ احتساب عدالت کی کاروائی کی مکمل ڈائری فراہم کی جائے ۔ احتساب عدالت میں ریفرنس پر کیا کاروائی ہوئی ۔ ریفرنس کی بحالی کی درخواست کا ریکارڈ دیا جائے ۔ کس بنیاد پرریفرنس پر کاروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوئی ۔ سماعت گیارہ دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

 

متعلقہ مضامین