لیٹ لیٹ کر حکومت

مسلم لیگ ن وفاق میں اقتدار کی طویل ترین مدت گزار چکی ہے ۔ ساڑھے چار سال پلک جھپکتے گزر چکے ہیں ، لیکن اس دوران خوب تماشہ لگا رہا ۔ میاں صاحب اقتدار میں آئے تو آتے ساتھ ہی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا اور جنرل مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت ٹرائیل کا آغاز کرنے کا اعلان کر دیا ۔ واہ جی واہ۔ لیکن سنیں اس کے بعد جنرل مشرف گلے کی وہ ہڈی بنا جو نہ نگلا جائے نہ اگلا۔ جنرل مشرف کیس سے با خیر و عافیت نکلنے کی ہر کوشش کی کہ جنرل مشرف کے جونیئرز کیسے مان جائیں ۔اللہ اللہ کر کے عدالتی حکم کا سہارا لیا اور جنرل مشرف کو ملک سے باہر بھجوایا ۔ پھر میاں صاحب نے مزید خوش کرنے کی ٹھانی اور تحفظ پاکستان ایکٹ اور انسداد دہشت گردی ترمیمی بل پارلیمنٹ سے منظور کرائے ۔ انتخابات میں دھاندلی کرانے کا ڈنکا پیٹتے عمران خان اور ماڈل ٹاون کا قصاص وصول کرنے طاہر القادری اسلام آباد آ گئے۔ اس دھرنے کے پیچھے خفیہ قوتوں کا کردار بھی سامنے آنے لگا۔ لگا کہ اب اس پر تو خفیہ چیف جنرل ظہیر اسلام ہوئے فارغ لیکن میاں صاحب نے ایک مرتبہ پھر خاموشی اختیار کرنے میں بہتری جانی۔ اور دھرنا کے مرکزی کردار ریٹائرمنٹ کی پرسکون نیند گزارے لگے ۔البتہ اس سازش سے متعلق بی بی سی پر جب قریبی ساتھی مشاہد اللہ خان نے انٹرویو دے دیا تو میاں صاحب نے مشاہد اللہ خان کو بیرون ملک سے بلا کر وزارت سے استعفی مانگ لیا۔ آرمی پبلک اسکلول پر حملہ ہوا ، ملٹری کورٹس کو آئینی تحفظ کے زریعے قائم کرنے کی تجویز لپک جھپکتے ہیں تسلیم کراوا ڈالی۔ اینٹ سے اینٹ بجانے کی تقریر آصف علی زرداری نے کی لیکن جنرل راحیل شریف کو بیرون ملک ٹیلی فون کال کرے وضاحتیں میاں صاحب نے دیں ، پھر خوش کرنے زرداری صاحب کے خلاف مذمتی بیان بھی دیا ۔کراچی میں رینجرز تعینات کرنے کے معاملے پر پھر خوش کرنے کی خاطر سندھ حکومت سے جھگڑے مول لیے ۔ایم کیو ایم کے خلاف کریک ڈاون شروع ہوا، نائن زیرو پر چھاپہ مارا گیا ، فاروق ستار کو رینجرز کے افسر ٹھاکر نے گھسیٹا ۔مگر میاں صاحب نے اپنے ماتحت اداروں سے کوئی پوچھ گچھ نہ کی ۔ لیکن اتنا لیٹ کر بھی دال گلتی نظر نہ آئی۔ اور ڈان لیکس آ گئیں ۔خوش کرنے کی تمام تر کوششیں بے سود رہیں اور ایک مرتبہ پھر وہ آنکھ دیکھانے سامنے آ گئے۔ بس فوری طور پر میاں صاحب نے ڈان لیکس کی تحقیقات کرا دیں ۔ یہ تو معلوم نہ ہو سکا کہ ڈان لیکس کس نے لیک کی ۔ لیکن میاں صاحب نے فورا دو قریبا ساتھیوں پرویز رشید اور طارق فاطمی کو وزارتوں سے فارغ کر دیا ۔ قومی اداروں کے منفی کردار پر سوشل میڈیا پر تنقید کرنے پر میاں صاحب کے اپنے جیالے ایف آئی اے نے اٹھائے ، لیکن وزیر اعظم ہاوس میں بیٹھے میاں صاحب قومی مفاد میں خاموش رہے ۔ البتہ لاپتہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف تب آواز اٹھائی جب لندن چلے گئے تھے ۔ میاں صاحب دور اپوزیشن میں لاپتہ افراد کے کافی وکالت کرتے تھے ، لیکن جب اپنا دور آیا تو بہتر سمجھا کہ نہ ہی وہ خود نہ ہی انکا کوئی وزیر ان کا تذکرہ کرے ۔ یہی سوچ کر میاں صاحب نے کبھی بھی لاہور کی بیٹی زینت شہزادی کے بارے میں مقتدر قوتوں سے پوچھ گچھ نہ کی اوکاڑہ میں مزارعین پر ٹینک چلائے گیے تب بھی وزیر اعظم ہاوس کسی کو طلب نہ کیا گیا ، اور انھیں خوش کرنے سماجی کارکن مہر ستار کو جیل میں ڈال دیا گیا ۔ اب جب اسلام آباد پر ن لیگ کے دور حکومت میں تیسری بار دھرنا یلغار ہوئی ، دکھائی بھی دیا کہ خادم رضوی کس کے بل بوتے پر پھنے خانی کر رہا ہے ۔ رینجرز افسر نے مظاہرین کو ہزار ہزار کے نوٹ دیے۔لیکن میاں صاحب نے ایک مرتبہ پھر خاموش رہنے کو ترجیح دی اور اپنے قریبی ساتھیوں پر حملوں پر ان کا حال چال پوچھنا تو کیا اس سارے واقع پر اُف تک نہ کی۔ زاہد حامد کے قتل کے فتوی دیے گئے لیکن قومی مفاد میں نیپ خاموش رہا ۔ اور میاں صاحب بھی۔ اس طرح لیٹ لیٹ کر ساڑھے چار سال کا اقتدار بیت گیا ۔لیکن دوسری جانب سے اتنی گڈ حکومت کے باوجود بھی صرف تیور ہی دکھائے جا رہے ہیں ۔اب دیکھیں مزید چھ ماہ کتنا لیٹ کر حکومت کی جاتی ہے ۔

متعلقہ مضامین