طاہر القادری کو کیا ملے گا

بہت افسوس ہوا۔ میرے گھر میں ایسی کوئی لغت یا فرہنگ موجود نہیں جسے کھول کر انگریزی زبان کے کسی لفظ، ترکیب یا اصطلاح کا ترجمہ مل جائے۔

انگریزی زبان میں بہرحال ایک لفظ ہوتا ہے Catalyst۔ یہ ایک ایسا عنصر ہوتا ہے جو درمیانی حرارت پر رکھی کھٹالی میں موجود دو یا اس سے زیادہ عناصر میں ڈالا جائے تو کسی تیسرے عنصر یا شے کی پیدائش/ تخلیق کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔ دو یا اس سے زیادہ عناصر کے باہم ملاپ کے بعد کسی تیسری شے کو پیدا کرنے کے باوجود Catalyst کی کیمیت یا کیفیت میں ذرا برابر تبدیلی نہیں ہوتی۔ نمک یا پھٹکری کی ڈلی کو کسی محلول میں ڈالیں تو نظر بظاہر جس حالت میں ڈالیں ویسے ہی باہر نکل کر یہ ڈلی ویسے کی ویسے ہی نظر آتی ہے۔ محلول کا ذائقہ مگر بدل جاتا ہے۔ نمک یا پھٹکری کی ڈلی کا کچھ حصہ ذائقے کی تبدیلی میں البتہ خرچ ہو جاتا ہے۔ Catalyst کے ساتھ سائنسی اعتبار سے ایسا نہیں ہوتا۔
کینیڈا سے وقتاً فوقتاً پاکستان میں ”ریاست کو بچانے“ یا انقلاب لانے ایک علامہ صاحب تشریف لایا کرتے ہیں۔ تبدیل وہ کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ رونق مگر کم از کم ٹی وی سکرینوں پر لگا دیتے ہیں۔ ان دنوں وہ ایک بار پھر وطن عزیز میں آئے ہوئے ہیں۔ 2014 میں ان کے منہاج القرآن مرکز کے باہر لگی رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے ایک آپریشن ہوا تھا۔ وہ آپریشن ناکام ہو گیا۔ 10یا 14 جانوں کے زیاں کے باوجود رکاوٹیں ہٹائی نہ جا سکیں۔ ”سانحہ“ ماڈل ٹاﺅن ہو گیا۔ جس کی وجوہات جاننے کے لئے ایک عدالتی کمیشن بنا۔ جسٹس باقر نجفی صاحب اس کے سربراہ تھے۔ بہت تحقیق اور تفتیش کے بعد نجفی صاحب نے جو رپورٹ لکھی پنجاب حکومت اسے منظر عام پر لانے میں لیت و لعل سے کام لیتی رہی۔ عدلیہ ہماری مگر بہت آزاد، خود مختار اور جی دار ہے۔ بالآخر حکم ہوا کہ مذکورہ رپورٹ کو خلقِ خدا کی رہ نمائی کے لئے جیسی تھی ویسی کی بنیاد پر کھول دیا جائے۔
اس رپورٹ کو تین سے زیادہ مرتبہ بہت غور سے پڑھنے کے باوجود میرا کند ذہن ابھی تک طے نہیں کر پایا کہ ”سانحہ ماڈل ٹاﺅن“ کی حتمی ذمہ داری کس کے سر تھونپی گئی ہے۔ عمران خان صاحب کا مگر اصرار ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کو اس سانحے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ان سے کہیں زیادہ ”ذمہ داری“ رانا ثناءاللہ کے ذمہ ضرور لگی جو تحریک انصاف کے قائد کو ویسے بھی ”شکل ہی سے“ قاتل نظر آتے ہیں۔
شیخ السلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد ”شیر بن شیر“ کے لئے اُکسایا جا رہا ہے۔ عمران خان صاحب تو عرصہ ہوا موصوف کے ”کزن“ ہونے کے دعوے دار بن چکے ہیں۔ اہم بات یہ ہوئی کہ اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی 50 ویں سالگرہ کی تقریب کے بعد آصف علی زرداری صاحب بھی ان کے حضور پیش ہوئے اور انہیں ”قصاص“ کی تحریک چلانے پر اُکسایا اور اس ضمن میں ہر ممکن تعاون کا وعدہ بھی کیا۔
آصف صاحب کی شیخ السلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دربار میں حضوری سے قبل اگرچہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد کے جلسے میں جو تقریر کی اس میں فیض آباد دھرنے کے اختتام کے لئے ریاستی رٹ کے سرنگوں ہونے پر کافی دُکھ کا اظہار ہوا تھا۔ بلاول صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ پاکستان کو ایک ”سوشل ڈیموکریٹ“ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ ریاست ایسے نظام میں ”ماں“ کے جیسی ہوا کرتی ہے۔ ریاست کا ”ماں“ ہونے کے لئے مگر زندہ و توانا رہنا بھی ضروری ہے۔ دھرنے اس ”ماں“ کی توانائی کو بے حد کمزور کر دیتے ہیں۔ ان سے جان چھڑانے کے لئے ریاست کے ایک بہت ہی دائمی اور طاقت ور ترین ادارے کے ایک نمائندے کو ”صلح نامہ“ پر اپنے نام اور عہدے کے ساتھ دستخط کرنا بھی ”مجبوری“ ہو جاتا ہے۔
آصف علی زرداری مگر بلاول صاحب کی مذکورہ تقریر کے بعد شیخ السلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے روبرو پیش ہو کر انہیں ”قصاص“ کے لئے ایک اور دھرنے پر اُکساتے پائے گئے۔ ریاست کو سوتیلی ماں دکھا کر اسے تکلیف پہنچانے کی خواہش ”شیر بن شیر“ جو نواز شریف کے بعد شہباز شریف کو فارغ کرنے کا بندوبست کرے۔ گلیاں سنجیاں ہو جاویں تاکہ ”وچ مرزا یار پھرے“۔
سوال مگر یہ اُٹھتا ہے کہ ”قصاص“ کی دہائی دیتے شیخ السلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب شہباز شریف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیں تو قبل از وقت ہوئے انتخاب کے نتیجے میں انہیں کیا ملے گا۔ یقیناً کچھ بھی نہیں۔ پنجاب میں شریف کمزور ہوں گے تو گیم عمران خان اور ان کی جماعت کی ہو جائے گی۔ پیپلز پارٹی کو کیا ملے گا؟ میں سمجھ نہیں پایا۔
آصف علی زرداری نے مگر شیخ السلام کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ شیخ السلام شاید مان جائیں۔ اپنے جان نثاروں کے ساتھ موٹروے کو لاہور سے ملانے والی تمام Exits پر دھرنا دیں تو شایدہماری ریاست کے ایک بہت ہی دائمی اور طاقت ور ترین نمائندے کو ان کے ساتھ بھی تحریری صلح نامہ پر دستخط کرنا پڑیں۔ فیض آباد چوک کے دھرنے نے زاہد حامد کا سر لیا تھا۔ اس بار قربانی شہباز شریف کی دینا پڑے گی۔ ان کے استعفیٰ کے بعد نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کے لئے وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومت برقرار رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔قبل از وقت انتخاب ضروری ہو جائے گا۔
شیخ السلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری مگر اس انتخاب کے نتیجے میں نہ تو وزیراعظم بن پائیں گے نہ ہی پنجاب کے وزیراعلیٰ۔ یہ عہدے نظر بظاہر عمران خان اور تحریک انصاف کو انگریزی محاورے والی پلیٹ میں پیش ہو جائیں گے۔ سوال اُٹھتا ہے کہ شیخ السلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے لئے Catalyst کا رول کیوں ادا کریں۔ یقیناً نوٹ دکھا کر ان کا موڈ بنانا ہو گا اور ”نوٹ“ شریف خاندان کے پاس بھی بہت ہیں۔ جانے کیوں ”یاروں کا یار“ اور ”سب پہ بھاری“ یہ بنیادی بات کیوں سمجھ نہیں پایا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین