مریم نواز کو ٹشو پیپر کس نے دیا

فیاض محمود

انیس دسمبر 2017 کو نوازشریف اور مریم نواز کی عدالت حاضری سے استثنیٰ کا عرٓصہ ختم ہوا تو جوڈیشل کمپلیکس کی ساری رونقیں واپس لوٹ آئیں۔ کیا صحافی؛ کیا لیگی رہنما؛ کیا وفاقی کابینہ کے ارکان؛ سب کے سب سابق وزیراعظم کی آمد سے قبل ہی جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھے ۔ مسلم لیگ ن کے صدر کا قافلہ عدالت پہنچا تو سب رہنماوں نے اپنے قائد کو اپنی موجودگی احساس اپنے اپنے انداز میں دلایا۔ جج محمد بشیر کے روبرو گواہاں بیانات قلمبند کرا رہے تھے۔ مریم نواز کے اکاونٹس میں آنے والی رقوم کے اعدادو شمار بتائے جارہے تھے۔ نواز شریف مخالفین کو آڑے ہاتھوں لینے کی تیاری میں مسلسل مصروف تھے۔ میڈیا پر کیا بولنا ہے کیا نہیں۔ سب لکھ کرخود کو ذہنی طور پر تیار رہے تھے۔۔نواز شریف، مریم نواز حسب معمول پہلی نشست پر بیٹھے تھے جبکہ پرویزرشید ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مریم نواز کیساتھ بیٹھے سیاسی معاملات زیربحث لائے ہوئے تھے۔ کیپٹن صفدر کو پراسیکوشن ٹیم کی نشستوں پر بیٹھنے کو جگہ ملی۔ پرویز رشید باہر جانے لگے تو خالی نشست دیکھ کر نواز شریف نے اپنے داماد کو آگے آنے کو کہا۔ ۔ سسر کو سلام کرنے کے بعد کیپٹن صفدر مریم نواز کے ساتھ بیٹھ گئے۔ انوشہ رحمان جو مریم نواز کے عقب میں بیٹھی تھیں۔ خوبصورت تھیلی نکالی اور سابق دختر اول کو تھما دی۔مجھ سمیت وہاں پر موجود صحافیوں کو تجسس ہوا آخر اس میں کیا ہوسکتا ہے۔ بلاتاخیر مریم نواز نے خود نے ہمارے ان سوالوں کا جواب دے دیا۔ انہوں نے خوبصورتی تھیلی میں ہاتھ ڈالا اور خشک میوہ جات نکالے اور ہتھیلی پر رکھ کر اپنے شوہر کو پیش کر دیے۔ تسبیح پڑھتے کیپٹن صفدر نے ہاتھ بڑھا کر خشک میوہ جات اٹھا لیے۔ میوہ جات کی تقسیم کا سلسلہ دیگر لیگی رہنماوں تک بھی پھیلایا گیا۔ مسلسل نوٹس لیتے نواز شریف نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے پاس کھڑی خواتین صحافیوں سے پوچھا لگتا ہے آپ خبر کی تلاش میں ہیں۔ جس پر انہیں جواب دیا گیا آپ اور مریم نواز کے بینک تفصیلات بتائی جارہی ہیں۔ ساتھ بیٹھی مریم نواز بھی خاموش نہ رہیں اور کہا یہ سب کچھ انہیں انکے والد نے تحفے میں دیا ہے اسی پر بحث ہورہی ہے۔ کیا کبھی آپکے والد کے تحفوں سے متعلق کبھی پوچھا گیا۔ پھر مریم نواز لیگی رہنماوں کے ساتھ گپ شپ اور موبائل پر سوشل میڈیا کے استعمال پر مصروف ہوگئیں۔ ایک طرف کھڑے طلال چوہدری خوش گپیوں سے دیگر رہنماوں کو مسلسل ہنسنے پر مجبور کر رہے تھے کہ مریم نواز کو چھینک آئی۔ مریم نواز نے پچھلی نشست پر بیٹھی اپنی خاتوں اسٹاف سے ٹشو پیپر مانگا۔ اس سے قبل وہ انہیں ٹشو پیپر دیتیں طلال چوہدری جھٹ سے آگے بڑھے اور ٹشو مریم نواز کے ہاتھ میں تھا۔ صحافیوں کی توجہ بھی گواہوں کے بیانات سے کم کمرہ عدالت میں ہونے والی ایک سرگرمی پر نظر تھی کہ چٹ پٹی خبر ہاتھ آ جائے۔ اور ساتھ ہی ساتھ گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے تھے۔ استغاثہ کے گواہ یاسر شبیر نے مریم نواز کو ہل میٹل جدہ سے ملنے والی رقوم کی تفصیلات عدالت میں فراہم کیں۔ دوسرے گواہ شکیل انجم ناگرہ نے عدالت کو بتایا انہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں سپریم کورٹ سے لیکر نیب کو فراہم کیں۔ جس پر خواجہ حارث نے اعتراض کیا یہ دستاویزات مروجہ قوانین کے تحت تصدیق شدہ نہیں۔ دفتر خارجہ سے آئے گواہ آفاق احمد نے قطری خط سے متعلق بتایا 30 مئی 2017 کو قطری شہزادے کا خط جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو فراہم کیا۔ عدالت کا سماعت 3 جنوری 2018 تک ملتوی کرنے کا حکم جوڈیشل کمپلیکس کی واپس لوٹی رونقوں کو پھر سے ماند کرگیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے