ابصار عالم اور گڈ فسادی

میں اصولی طور پر اس بات کا شدید مخالف ہوں کہ صحافی سرکار سے نوکریاں یا کسی بھی طرح کی دیگر مراعات حاصل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ عطاءالحق قاسمی صاحب جیسے شاندار نثر نگار کو تب سے ہی چاہنے سے قاصر ہوں جب انہوں نے قلم کو سفارت کی بیساکھی بنا لیا تھا۔ ابصار عالم سے آج تک ملاقات کوئی نہیں سو ان سے متعلق نیوٹرل ہی تھا لیکن جب وہ چیئرمین پیمرا بنے تو دل پہلی بار نیوٹرل نہ رہا بلکہ جذبات کا ایک منفی ٹیگ ان پر بھی لگا گیا۔ وہ چیئرمین پیمرا بن کر میرے لئے عطاء الحق قاسمی کے قبیلے کے فرد بن چکے تھے اور تاثر یہی بنا تھا کہ دو چار برس کی اس کنٹریکٹ جاب سے لوٹ کر تو ابصار نے اسی تالاب میں جانا ہے جہاں سے وہ آئے ہیں سو مگرمچھوں سے بیر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ابصار کی چیئرمینی بڑے میڈیا گروپس کو خوش رکھنے اور نون لیگ کے لئے رام کرنے کے کام ہی آئے گی۔ ظاہر ہے ایسے آدمی سے تو نفرت ہی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس شخص نے چارج لیتے ہی جو تیور دکھائے اس سے کچھ شبہ سا ہوا کہ یہ شاید کام کرنے چکر میں ہے پر عقل مصر رہی کہ لوٹ کر اس نے اینکر یا ڈائریکٹر نیوز قسم کی پوزیشنز پر ہی جانا ہے لھذا "کام” کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر ابصار نے یہ اندازے غلط ثابت کئے۔ اسلام آباد کا صحافی ہونے کے ناطے غیب کی کچھ خبریں میں بھی رکھتا ہوں اور وہ خبریں یہی بتاتی ہیں کہ ابصار عالم کے کام سے حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا گرپس سمیت کوئی بھی خوش نہ تھا۔ اس نے نہ تو حکومت کی فرمائشیں پوری کیں، نہ جرنیلوں کے احکامات کی تعمیل کی اور نہ ہی خود پر کسی میڈیا گروپ کے لئے نرم گوشے کا الزام لگنے دیا۔

کون نہیں جانتا کہ ہمارے نابالغ الیکٹرانک میڈیا نے معاشرے میں بہت وسیع پیمانے پر فساد مچا رکھا ہے اور کسی بھی چیئرمین پیمرا کی ہمت نہ تھی کہ ان فسادیوں کو لگام دینے کا سوچتا بھی۔ ابصار عالم نے انہیں لگام دینے کے لئے اپنی ہی طرز کا ایک آپریشن رد الفساد شروع کیا اور اس میں اس حد تک بلا تفریق رہا کہ "گڈ فسادی اور بیڈ فسادی” کی کٹیگریاں بھی متعارف نہیں کرائیں۔ اس نے سب سے زیادہ سب سے بڑے فسادی کو ہی نشانے پر رکھا اور کون نہیں جانتا کہ "بول” سے بڑا فسادی کوئی نہیں۔ اس آپریشن کے نتیجے میں اسے ایک طرف پرائیویٹ نمبروں سے دھمکیاں مل رہی تھیں تو دوسری طرف نجی ٹی وی چینلز کی شدید تنقید کا بھی سامنا رہا لیکن اس کا رد الفساد پوری سرگرمی سے جاری رہا۔ خادم حسین رضوی کے دھرنے کے موقع پر ایک چینل اور اس کے سفارشی جرنیل کو اس نے جس طرح ہینڈل کیا ہے اس کے لئے جگر چاہئے ورنہ یہاں تو میجر کو دیکھ کر ہی کچھ لوگوں کی ٹانگیں کانپنی شروع ہوجاتی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کے اس پہلے دبنگ میڈیا ریگولیٹر کو یہ کہہ کر چلتا کردیا ہے کہ تم کام بہت اچھا کرتے ہو تو کیا ہوا، ڈگری تو تمہاری بی اے ہے اور اس ملک میں بی اے یا اس کی مساوی ڈگری کی مدد سے صرف جرنیل بن کر سویلینز کی ماں بہن کی جا سکتی ہے چیئرمین پیمرا نہیں بنا جا سکتا۔ ابصار کا مخالف وکیل اسٹیبلشمنٹ کے کیسز سے ہی جانا جاتا ہے سو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ابصار عالم کیس کا فیصلہ بھی عظمیٰ اور وقار کے گٹھ جوڑ کی پیداوار ہے۔ ابصار عالم تو گیا اور اسے پیمرا سٹاف نے جس احترام کے ساتھ الوداع کیا ہے وہ پاکستان کے کئی چیف جسٹسز کو بھی نصیب نہیں ہوا، انہیں اعزازی فل کورٹ ریفرنس کے بغیر ہی گھر جانا پڑا۔ اب انشاءاللہ کوئی ایسا پی ایچ ڈی چیئرمین پیمرا ان کی جگہ لگے گا جو گڈ فسادی اور بیڈ فسادی کی پالیسی لے کر آئے گا اور الیکٹرانک میڈیا کے ہر "گڈ فسادی” کا سہولت کار ثابت ہوگا !

متعلقہ مضامین