نواز شریف کا دبکا

احتساب عدالت سے
فیاض محمود
این آر او ہوا یا نہیں۔ نواز شریف کی سعودی یاترا موسم سرما کی چھٹیوں کیساتھ ہی اختتام کو پہنچیں۔ سب باتیں اپنی جگہ۔ نواز شریف کی پیشیاں ایک بار پھر شروع ہوگئیں۔ سابق وزیر اعظم گیارہویں مرتبہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ کمرہ عدالت میں اگلی نشستوں پر اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھے ۔ پرویز رشید کی جگہ پر راجہ ظفر الحق براجمان تھے۔ پرویز رشید نشستیں کم پڑنے کے باعث دیگر رہنماوں کے ساتھ کھڑے ہو کر عدالتی کارروائی کا جائزہ لیتے رہے۔ عدالتی عملے نے استغاثہ کے گواہ تسلیم خان کو آگے آنے کو کہا۔ گواہ نے جو کہوں گا سچ کہوں گا کی قسم اٹھا کر بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ عدالت کو بتایا ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو فضاٰبتول کی ہدایت پر نیب کے تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہوا۔ جہاں پر ان لینڈ ریونیو کے افسر جہانگیر احمد موجود تھے۔ جہانگیر احمد نے نواز شریف، حسن اور حسین نواز کا ٹیکس ریکارڈ نیب کو فراہم کیا۔ جس کے بعد تفتیشی افسر نے بیان بھی ریکارڈ کیا۔ دوران جرح خواجہ حارث کے سوال پر تسلیم خان نے بتایا فضاٰ بتول نے ریکارڈ کی تصدیق انکے سامنے نہیں کی۔ جرح مکمل ہوئی تو تسلیم خان نے نواز شریف سے مصحافہ کیا اور کمرہ عدالت سے چلے گئے۔ نواز شریف اپنے رفقاء کیساتھ مشاورت میں مصروف رہے۔ ساتھ ہی ساتھ میڈیا پر بولنے کے لیے پیپر پر نوٹس لے رہے تھے۔ تین مختلف پیپرز پر نوٹس لیے۔ مریم نواز ایک ایک پیپرکو تھام کر نواز شریف کے ہاتھ سے لکھے نوٹس کا جائزہ لیتی رہیں۔ عدالت نے اسٹنٹ ڈائریکٹر نیب زاور منظور کو بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کیا۔ گواہ نے بتایا ایس ای سی پی کی خاتون افسر سدرہ منصور نے پیش ہوکر حدیبیہ پیپر ملز کا سالانہ آڈٹ ریکارڈ تفتیشی افسر کو فراہم کیا۔ تفتیشی افسر نے انکی موجودگی میں ریکارڈ کو سیز کیا اور انہوں نے بطور گواہ اس پر دستخط کردیے۔ دستخط کرنے کے بعد تفتیشی افسر کو اپنا بیان قلمبند کروایا۔ گواہ نے بتایا اس کیس میں دوسرے گواہ محمد رشید بھی تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہوئے۔ اور انہوں نے گیارہ صفحات پر مشتمل دستاویزات جمع کرائیں۔ دستاویزات میں چار صفحات لندن کوئین بینچ کا حکمنامہ اور چھ صفحات پر مشمل گواہ مظہر خان کا بیان حلفی شامل تھا۔ خواجہ حارث کے سوال کے جواب میں زاور خان نے بتایا لندن کوئین بینچ کا اصل فیصلہ نہیں بلکہ نقول جمع کرائی گئیں۔ خواجہ حارث کے دوسرے سوال کا جواب دیا اور بولے یاد نہیں مظہر خان کا بیان حلفی اصل تھا یا وہ بھی نقول جمع کرائی گئی تھی۔ گواہ کے ان جوابات سے متعلق مریم نواز کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ساتھ بیٹھے راجہ ظفرالحق کو بتایا پھر نواز شریف اور پھر طلال چوہدری کو آگاہ کیا۔۔ اپنے والد سے بات کرتے ہوئے کہا نہ تو گواہ پڑھ کرآتے ہیں نہ انہوں نے یہ دستاویزات تیار کیں۔ گواہ پر جرح جاری تھی۔ اور خواجہ حارث گواہوں کے آپس میں تضاد کو عدالتی ریکارڈ کہ حصہ بنانے میں مصروف تھے۔ لیگی رہنما مصدق ملک آگے بڑھے اور نواز شریف کے کان میں کوئی بات کرنے لگے۔ بظاہر نواز شریف انہیں کوئی ہدایات جاری کررہے تھے۔ ایسے میں دوسرے وفاقی وزیر نے سرگوشی سننے کے لیے کان قریب کردیے۔ جیسے ہی مصدق ملک پیچھے ہٹے تو موصوف وزیر نے نواز شریف کے کان میں سرگوشی کرنا چاہی تو سابق وزیراعظم نے جھاڑ پلانے کے انداز میں کہا آپ اپنی نشست پر بیٹھیں۔ وزیرصاحب اپنا سا منہ لے کر اپنی نشست پر جا بیٹھے جہاں ان کے چہرے پر شرمندگی کے آثار واضح نظر آئے۔ اور پھر وہ اٹھ کر باہر ہی چلے گئے۔ استغاثہ کے ایک اور گواہ یاسر شبیر نے بنک اکاونٹس کی تفصیلات پیش کیں۔ خواجہ حارث کے سوال پر گواہ نے بتایا مریم نواز سے متعلق بنک ریکارڈ نہ تو انہوں نے خود تیار کیا۔ نہ ان کی موجودگی میں تیار کیا گیا۔ حتیٰ کے یہ ریکارڈ کبھی انکی تحویل میں بھی نہیں رہا۔ جرح مکمل ہوئی تو عدالت نے 6 نئے گواہوں کے سمن جاری کر دیے۔ اور ہدایت کی گواہان 9 جنوری کو پیش ہوں۔ نواز شریف باہر نکلے۔ میڈیا پر مخالفین کو لتاڑا۔ لفظی گولہ باری جاری تھی ڈاکٹر آصف کرمانی نے کوئی لقمہ دینا چاہا۔ جسے نواز شریف نے ہاتھ کے اشارے سے رد کر دیا۔ اور اپنی لکھی ہوئی ساری باتیں کرکے چلے گئے _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے