’’افغان پالیسی‘‘ کے جواب میں

سال نو کی صبح کا آغاز امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف ایک ٹویٹر پیغام دے کر کیا ہے۔ اس کی رعونت بھری سوچ میں حیرانی والی کوئی بات نہیں تھی۔ کم از کم میرے لئے جو 2016ء سے امریکہ میں جاری انتخابی مہم، ٹرمپ کی شخصیت، اس کے وائٹ ہائوس پہنچ جانے اور وہاں پہنچنے کے بعد پالیسی سازی کے عمل کے بارے میں تواتر کے ساتھ اس کالم میں کچھ نہ کچھ لکھے چلے جا رہا تھا۔ ان کالموں کے تناظر میں اس کا ٹویٹر بلکہ ’’یہ تو ہونا ہی تھا‘‘ والا معاملہ محسوس ہوا۔
ذہنی طورپر ایسے پیغام کے لئے پوری طرح تیار ہونے کے باوجود میں ابھی تک سمجھ نہیں پایا ہوں کہ ٹرمپ نے سال نو کا آغاز پاکستان کے خلاف ایک ہذیانی پیغام ہی سے کیوں کیا۔ عموماََ ایسی صبح کو حکومتوں کے سربراہ اپنے بارے میں Feel Good ماحول بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ نیک تمنائوں کا اظہار اور سب کے لئے خیر اور خوش حالی کی دعائیں وغیرہ۔
نئے سال کے استقبال کے لئے امریکی صدر نے اپنی نجی رہائش گاہ پر ایک دعوت کا اہتمام بھی کیا تھا۔ سنا ہے وہ دعوت 31دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات تین بجے تک جاری رہی۔ ٹرمپ شراب نوش نہیں۔ ورنہ فرض کرلیا جاتا کہ اس کا ٹویٹر Hangover کی اضطرابی کیفیات کا اظہار ہے۔
اپنے معمول کے مطابق علی الصبح اُٹھ کر اس نے جو ٹویٹ لکھا وہ ہرگز کسی وقتی ہیجان کا اظہار نہیں ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات اس کی دعوت میں چند ایسے لوگ موجود تھے جو ا فغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی فیصلہ سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ان دو ممالک کے حالات کے بارے میں جو کچھ بتایا ہوگا اس نے ٹرمپ کو مایوس کیا اور صبح اُٹھتے ہی وہ اپنی مایوسی کو غصے کی صورت بیان کرنے پر مجبور ہوگیا۔
یہ بات برحق کہ ٹرمپ سیمابی مزاج ہے۔ Mood Swings کا شکار ہے۔ اس حقیقت کے باوجود ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ بنیادی طورپر ایک ایسا Executive ہے جو ہر صورت اپنے احکامات کی تعمیل چاہتا ہے۔اسے یقین ہے کہ امریکہ فوجی اور اقتصادی اعتبارسے ان دنوں بھی دنیا کی واحد سپرطاقت ہے۔ اس کا صدر کوئی فیصلہ کرلے تو دنیا کے ہر ملک پر اس کی اطاعت لازمی ہے۔ اس ’’اطاعت‘‘ کو یقینی بنانے کے لئے وہ زیرک اور تجربہ کار مانے مشیروں کی رائے کو قطعاََ نظرانداز کردیتا ہے۔
امریکی پارلیمان نے،مثال کے طورپر،1995سے یہ فیصلہ کررکھا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرلیا جائے۔ کلنٹن سے لے کر اوبامہ تک ہر صدر نے لیکن یہ قدم اٹھانے سے انکار کیا۔ انہیں ہر دم یہ خوف لاحق رہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے اپنے سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی مسلم دنیا،خاص کر عرب ممالک میں آگ بھڑکا دے گی۔ اس آگ کو ٹالنے کے لئے وہ فلسطین اور اسرائیل کو دوباقاعدہ ریاستوں کی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف نظر آئے۔ ٹرمپ نے اس سارے عمل کو ڈھکوسلہ قرار دیا اور یروشلم کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کا واضح اعلان کردیا۔
تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کے مذکورہ فیصلے نے ہرگز کوئی آگ نہیں بھڑکائی ہے۔اس کے فیصلے کی مذمت محض OICکی ایک کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاس ہوئی ایک قرارداد کے ذریعے ہوئی۔ نام نہادArab Streets نے کڑوی گولی نگل ہی لی۔
یروشلم کی بابت ایک انتہائی Risky تصور کئے جانے والا فیصلہ لینے کے بعد ٹرمپ کو اپنی طاقت پر گمان مزید گہرا ہوگیا ہوگا۔ وہ اس بات پر بضد ہوچکا ہوگا کہ پاکستان اس کے ملک کو افغانستان میں ’’کامیاب‘‘ بنانے کیلئے ہر وہ کام کرے جس کی توقع امریکی حکومتیں بش کے زمانے سے Do More کی صورت بیان کئے جا رہی ہیں۔ سال نو کے آغاز میں لکھے اس کے ٹویٹر کو لہذا نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
بڑھک سازی اس کے ٹویٹ کا مؤثر جواب نہیں ہے۔ یہ بات طے ہوچکی کہ گزشتہ برس کے اگست میں ٹرمپ کی متعارف کردہ ’’افغان پالیسی‘‘ کے جواب میں ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے جو حکمت عملی اپنائی وہ کامیاب نہیں ہوئی۔ امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع سے ہوئی ملاقاتیں اس ضمن میں بے سود رہی ہیں۔
ٹھنڈے دل سے اب ہماری عسکری اور سیاسی قیادت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا ہمیں گزشتہ کئی برسوں سے اپنائی ’’افغان پالیسی‘‘ ہی پر ڈٹے رہنا ہے یا نہیں۔ اگر اس پالیسی پر ڈٹ جانے کا فیصلہ ہوگیا ہے تو ہمارے عوام کو واضح ترین الفاظ میں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس پالیسی پر ڈٹے رہنا پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کیوں ضروری ہے۔
اگر ڈٹے رہنے کا فیصلہ ہوچکا ہے تو انتہائی دیانت داری کے ساتھ ہمیں اپنی قوم کو اس کی ’’قیمت‘‘ کی بابت بھی تیار کرنا ہوگا۔ یہ بات درست ہے کہ ٹرمپ بہت رعونت اور حقارت کے ساتھ جن 33 ارب ڈالرز کا ذکرکر رہا ہے وہ ہماری معیشت کے اجتماعی حجم کے تناظر میں اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں۔ 90 کی دہائی میں پاکستان مختلف وجوہات کی بناء پر دنیا کا Most Sanctioned ملک رہا ہے۔ اس دوران ہمارے ہاں کاروبار میں روایتی اتار چڑھائو کے باوجود رونق برقرار رہی۔ امریکی ’’امداد‘‘ یا قرض کے نام پر ہمیں ایک ڈالر بھی نہ دیں تو پاکستان کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ کئی حوالوں سے بلکہ یہ ہماری توانائی کو جگانے والی خیر کی خبر بھی ہوسکتی ہے۔
براہِ راست امریکی امداد یا سرمایہ کاری سے قطع نظراہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان کا معاشی نظام ڈالر سے جڑا ہوا ہے۔ اس نظام کو IMF جیسے ادارے چلاتے ہیں۔ امریکہ ان اداروں میں حتمی فیصلہ ساز والی اہمیت کا حامل ہے۔ ہماری برآمدات کی اصل منڈی بھی امریکہ اور یورپ ہیں۔ وہاں کی منڈیوں میں ہم دیت نام یا بنگلہ دیش جیسے ممالک سے آئی مصنوعات کا مقابلہ بھی نہیں کرپارہے۔ ان حالات میں اگر ’’دہشت گردی کو تحفظ دینے‘‘ کے بہانے پاکستانی مصنوعات کی ان منڈیوں تک رسائی کو روک دیا گیا تو ہمارے کارخانے ویران ہوں گے۔ بیروزگاری خوفناک حد تک پھیل جائے گی۔
پہلے سے موجود منڈیوں کی جگہ نئی مصنوعات کے ذریعے نئی منڈیوں کی تلاش ایک چیلنج ہے جو مشکل میں گھری قوم کو مزید تخلیقی بھی بناسکتا ہے۔ اس تخلیقی عمل کو یقینی بنانے کے لئے لیکن ملک میں ضرورت سیاسی استحکام کی ہے جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آ رہا۔
سیاسی عدم استحکام کے اس موسم میں جہاں ٹھوس اعداد وشمار یہ بتا رہے ہیں کہ ہماری درآمدات کے بوجھ کی وجہ سے تجارتی خسارہ ناقابلِ برداشت ہورہا ہے،روپے کی موجودہ قدر کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر مزید مہنگا ہوا تو اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوجائیں گے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اسی وجہ سے نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی بڑھادی گئی ہیں۔اس کا منفی اثر معیشت کے ہر شعبے میں جلد نظر آنا شروع ہوجائے گا۔ صورتِ حال یہی رہی تو اس سال کے فروری یا مارچ میں ہم ایک بار پھر IMF سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ وہاں سے کوئی Bailout Package حاصل کرنا امریکہ کی رضا مندی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس صورت میں شاید ہم آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ناقابلِ برداشت سمجھوتے کرنے پر مجبور ہوں گے۔ حکمت کا تقاضہ ہے کہ فی الوقت ہماری اشرافیہ بڑھک بازی کے بجائے ٹھنڈے دل سے سرجوڑ کر ایسی ’’مجبوری‘‘ کو ٹالنے کی ترکیبیں سوچے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے