بلوچستان کا نیا وزیراعلی کون؟

عام انتخابات میں 544ووٹ لینے والا
وزیراعلیٰ بلوچستان کے لئے نامزد!!
تحریر: عبدالجبارناصر
بلوچستان میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لئے13 جنوری2018 کو(کل) اجلاس طلب کیاگیاہے ۔ مسلم لیگ(ن) کے باغی ارکان ، مسلم لیگ (ق)، جمعیت علماءاسلام ، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مجلس وحدت مسلمین اوردیگر نے میر عبدالقدوس بزنجو کو امیدوار نامزد کیا ہے ،جبکہ مسلم لیگ(ن) کے نواب ثناء اللہ زہری کے حامی ارکان ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کی جانب سے امیدوار12 جنوری 2018 کو(آج) سامنے آنے کا امکان ہے۔
اب تک کے حالات کے مطابق حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو نئے قائد ایوان منتخب ہونے میں کامیاب ہونگے یانہیں تاہم بظاہران کے حامی کافی پر امید ہیں ۔ بزنجو صاحب 2013 کے عام انتخابات میں بلوچسان اسمبلی کے حلقہ پی بی 41 آواران سے مسلم لیگ(ق) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور عملاً منحرف ہوکر مسلم لیگ(ن) کے حامی بنے ۔ اب وہاں سے بھی باغی ہوگئے ہیں۔بزنجو صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ غالباً پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم ووٹ لیکر منتخب ہونے والے رکن اسمبلی ہیں ، جو حلقے کے کل 57ہزار656ووٹوں میں صرف 544ووٹ حاصل کرکے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور اب وزیر اعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے نثاء اللہ زہری کے حامی ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کی جانب سے ایک مضبوط امیدوار میدان میں اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس ضمن میں نیشنل پارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک اور مسلم لیگ(ن) کے نواب جنگیز مری کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ اگر ان دونوں اشخاص میں سے کوئی بھی میدان میں اترا تو عبدالقدوس بزنجو کے لئے 65 رکنی اسمبلی میں 33 ووٹ کا حصول کافی مشکل امتحان ہوگا،تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ عبدالقدوس بزنجو کو مقتدر قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دونوں جانب سے امیدوار میدان میں اترے تو مقابلہ سخت ہونے کا امکان ہے۔نواب ثناء اللہ زہری کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کو 31 ارکان کی یقنی حمایت حاصل ہے اور نصف درجن کے قریب ارکان سے بات چیت جاری ہے جبکہ دوسری جانب عبدالقدوس بزنجو کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کو 34ارکان کی یقنی حمایت حاصل ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ جانبین کے دعوے اپنی جگہ مگر مقابلہ سخت اور سرپرائز والا ہوگا اور اصل تعداد نواب ثناء اللہ زہری کے حامیوں کی جانب سے امیدوار کے اعلان کے بعد سامنے آسکے گی۔
اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ کوئی بھی امیدوار مطلوبہ تعداد میں حمایت حاصل نہ کرسکا تو اسمبلی کو گورنر بلوچسان تحلیل یا معطل کردیں۔ 30جنوری سے قبل تحلیل کی صورت میں ضمنی انتخاب ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے