اسلام آباد بار کی انتخابی صورتحال

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے انتخابات اور امیدواروں کی پوزیشن

تحریر: آصف ممتاز ملک، ایڈووکیٹ۔

حصہ دوم: جنرل سیکرٹری

جناب اسوقت اسلام آباد بار کے انتخابات میں سب سے دلچسب مقابلہ جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر ہے۔ اس عہدے کیلئے 3 امیدوار میدان میں ہیں اور زبردست کمپین چلانے میں مصروف ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ تمام ممبران بار کی نگاہیں اس سیٹ کی کمپین پر لگی ہوئی ہیں۔

جنرل سیکرٹری کیلئے پیر فدا حسین ہاشمی، انصر محمود کیانی اور خورشید بٹ صاحب امیدوار ہیں تو آئیے جناب ذرا ہر امیدوار کی موجودہ سیاسی پوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں۔

پیر فدا حسین ہاشمی بنیادی طور پر بہت منکسرالمزاج، خوش اخلاق اور عاجزانہ طبعیت کے انسان ہیں اور روحانیت اور تصوف سے ان کا گہرا لگاو ہے۔ سیاسی طور پر بالغ النظر اور سابق سٹوڈنٹ لیڈر بھی ہیں یہ شروع ہی سے دائیں بازو کی سیاست کرتے چلے آئے ہیں اور ایک مذھبی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پیر فدا صاحب کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ‘عشق مصطفی’ کو اپنی اصل طاقت گردانتے ہیں۔

پیر فدا حسین صاحب کا تعلق بھی سردار ارشد صاحب کے گروپ سے ہے لیکن چونکہ گروپ نے انھیں امیدوار نامزد نہیں کیا لہزا اپنے دوستوں کی خواہش پر انھیں بطور آذاد امیدوار الیکشن Contest کرنا پڑا اور سچ تو یہ ہے کہ جو Contest پیر فدا حسین صاحب کررہے ہیں اسلام آباد بار کی تاریخ میں آج تک کسی آذاد امیدوار نے ایسا Contest نہیں کیا جسکی اصل وجہ ان کا سابقہ وسیع سیاسی تجربہ اور پیار کرنے والے اور مخلص دوستوں کی ایک طویل فہرست ہے۔

آج اسلام آباد بار میں ہم کسی اور چیز سے واقف ہوں نہ ہوں لیکن ‘TEAM PIR FIDA’ سے ہم سب واقف ہو چکے ہیں حتی کہ یہ نام ایک Brand Name کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس ٹیم میں سب سے اہم شخصیت تو راجہ توفیق العرفان صاحب کی ہے اسکے علاوہ میڈم صائمہ نقوی، میڈم تسلیم عباسی، ثمن زہرا، مظہر جاوید صاحب، آصف تنویر، خالد صاحب حتی کہ بے شمار نام ہیں جو پیر صاحب کی کامیابی کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔

انصر کیانی صاحب بھی جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر ایک مضبوط امیدوار ہیں انصر کیانی صاحب ایک دھیمے مزاج کے تحمل مزاج اور سنجیدہ انسان ہیں۔ مخاطب کی بات پوری توجہ سے سنتے ہیں اور کبھی Wrong Commitment نہیں کرتے۔ انصر کیانی صاحب بنیادی طور پر ایک ‘با اصول انسان’ ہیں اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو زبانی باتوں اور زبانی دعووں کی بجائے عمل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور یہ ایک ‘عملیت پسند’ انسان ہیں۔

انصر کیانی صاحب کی شخصیت ایسی ہے کہ جو محض انکی تصویر دیکھ کر سمجھ نہیں آسکتی لیکن جب آپ ان سے بالامشافہ ملاقات کرتے ہیں تو آپ یہ کہنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں ‘He is truly a Genuine Person’ "یہ تو واقعی ایک مخلص انسان ہے”

کیانی صاحب کی اصول پسندی کی ایک بہت واضح مثال یہ بھی ہے کہ یہ اپنے گروپ کے ساتھ مل کر اجتماعی کمپین کررہے ہیں لیکن انھیں کبھی آپ انفرادی کمپین کرتے نہیں دیکھیں گے جس سے یہ بات با آسانی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے والوں میں سے ہیں چاہے اسکے لئے انھیں نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

انصر کیانی صاحب کا تعلق چونکہ خطہ پوٹھوہار سے ہے لہذا ایک ‘سکہ بند ووٹ بنک’ انکی پشت پر ہے اور انھیں کسی طور بھی Easy نہیں لیا جا سکتا۔

خورشید بٹ صاحب بھی جنرل سیکرٹری کے ایک اہم اور اسلام آباد بار کے سب سے بڑے سیاسی گروپ کے امیدوار ہیں۔ خورشید بٹ صاحب ایک انتہائی شریف النفس اور Decent Candidate ہیں۔

خورشید بٹ صاحب کا تعلق میاں اشتیاق مرحوم اور موجودہ ممبر اسلام آباد بار کونسل قاضی رفیع الدین بابر صاحب کے چیمبر حسین اینڈ قاضی لاء ایسوسی ایٹس سے ہے یہی وجہ ہے کہ حسین اینڈ قاضی لاء ایسوسی ایٹس کے وکلاء ان کی مہم بھرپور طریقے سے چلا رہے ہیں جن میں فرحین راجپوت ایڈووکیٹ اور ثناء میر جیسی Dynamic Personalities سر فہرست ہیں انکے ساتھ ساتھ کاظمی سسٹرز یعنی عذرا کاظمی، قدسیہ کاظمی اور سدرہ کاظمی بھی پیش پیش ہیں۔

انکے دو اور بہت مخلص ساتھیوں کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے اور وہ ہیں صاد راجپوت اور مسٹر شجر عباس ہمدانی جو سچی بات ہے وہ تو یہ ہے کہ اسوقت حسین اینڈ قاضی لاء ایسوسی ایٹس کا ایک ایک فرد خورشید بٹ صاحب کی کامیابی کیلئے دن رات ایک کیئے ہوئے ہے اور بہرصورت خورشید بٹ صاحب کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔

اگر ممکنات یا Possibilities کی بات کی جائے تو خورشید بٹ صاحب اس الیکشن میں ایک بہت بڑے Beneficiary کے طور پر بھی سامنے آسکتے ہیں وہ ایسے کہ اگر پیر فدا صاحب اور انصر کیانی صاحب کے ووٹ آپس میں تقسیم ہو جائیں تو بٹ صاحب با آسانی Surprise دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن بظاہر اسکے امکانات نظر نہیں آرہے۔

پیر فدا صاحب اتنی اچھی اور کامیاب کمپین کر چکے ہیں کہ پیر صاحب نے الگ سے اپنی Following تیار کرلی ہے اور دونوں گروپس کے بہت اہم اور Well Known وکلاء صاحبان بھی کھل کر انکی کمپین چلا رہے ہیں جیسا کہ سید مجتبی حیدر شیرازی صاحب جو کہ اپنے گروپ سے 35-40 سالہ رفاقت کو پس پشت ڈالتے ہوئے پیر صاحب کو کھل کر سپورٹ کر رہے ہیں اسی طرح راجہ زاہد صاحب جو کہ سابق صدر اسلام آباد بار بھی ہیں وہ بھی اپنے گروپ سے ہٹ کر پیر صاحب کو کھل کر سپورٹ کررہے ہیں لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا پیر صاحب ایک آذاد امیدوار کے طور پر اتنے ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ انکے ووٹوں کی تعداد دونوں گروپس کے امیدواروں سے تجاوز کرجائے؟؟؟

اگر پیر صاحب کی 9 جنوری کی ٹی پارٹی دیکھی جائے تو اسکا جواب بظاہر اثبات میں ملتا ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا انصر کیانی صاحب کے ‘سکہ بند ووٹ بنک’ یعنی کشمیر اور پوٹھوہار کے ووٹ بنک کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے جبکہ انکے گروپ کے پاس غیر مقامی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

اسی ضمن میں ایک اور دلچسپ بات کا ذکر کرتا چلوں اور وہ یہ ہے کہ خورشید بٹ صاحب اور پیر فدا صاحب دونوں ہی خطہ پوٹھوہار کے باسی نہیں ہیں لہذا ایک فارمولا یہ بھی بنتا ہے کہ غیر مقامی ووٹ خورشید بٹ صاحب اور پیر فدا صاحب میں تقسیم ہو جائے اور اسکے Beneficiary انصر کیانی صاحب بن جائیں لہذا ابھی بھی جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر مقابلہ بہت سخت ہے اور کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔

میں اپنی بات کا اختتام اس دعا کے ساتھ کرنا چاہوں گا کہ ان تینوں دوستوں میں سے جو بھی بار کیلئے بہترین ہو اللہ اسے کامیاب فرمائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے