چینی دوستوں کی تشویش

اصولی طور پر بدھ کی صبح اُٹھ کر یہ کالم جو میں لکھ رہا ہوں اس کا موضوع لاہور میں کینیڈا سے آئے ’’شیخ السلام‘‘ کا لگایا شو ہونا چاہیے تھا۔ آصف علی زرداری موصوف کے لگائے کنٹینر پر کھڑے ہوکر ’’گو شہباز گو‘‘ والی تقریر کر لینے کے بعد بھی علامہ کے پہلومیں براجمان رہے تو عمران خان وہاں پہنچنے سے ہچکچائیں گے۔ ان کی ممکنہ ہچکچاہٹ کوئی عجیب بات نہیں ہو گی کیونکہ تحریک انصاف نے لوگوں کے دلوں میں ’’تبدیلی‘‘ کی اُمنگ جگاتے ہوئے نواز شریف اور آصف علی زرداری کی شخصیت اور جماعتوں کو یکساں طورپر مطعون کیا تھا۔ اصرار کیا کہ مبینہ طورپر قومی دولت کو بے رحم انداز میں لوٹنے کی ہوس میں مبتلا یہ جماعتیں اپنے حتمی مفادات کے حوالے سے ایک ہیں۔ دونوں نے ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ کے نام پر ایک دوسرے کو حکومت بنانے میں باریاں دینے کا انتظام کر رکھا ہے۔ پاکستان کو بدلنا ہے تو نواز شریف اور آصف علی زرداری سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ دونوں کو جیل میں ڈالنا ہو گا۔
آصف علی زرداری کی علامہ کے کنٹینر پر موجودگی کے دوران عمران خان وہاں تشریف لائے تو دونوں کو رسمِ دنیا کی خاطر ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا پڑے گا۔ شاید بغل گیر بھی ہو جائیں۔ یہ ہوگیا تو ’’زرداری- عمران بھائی بھائی‘‘ کے نعرے گونج اٹھیں گے۔ رونق لگ جائے گی۔ شہباز شریف کی فراغت ممکن دکھنا شروع ہوجائے گی۔
چسکہ فروشی کے بھرپور امکانات کو لیکن میں نظرانداز کرنے پر مجبور ہوں۔ کئی برسوں تک خارجہ امور کے بارے میں رپورٹنگ کرنا میری ڈیوٹی رہی ہے۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں نے مجبور کیا کہ امریکہ اور بھارت کے علاوہ اپنے دائمی یار چین کی پالیسیوں پر بھی گہری نگاہ رکھی جائے۔ اس حوالے سے کئی چینی سفارت کاروں اور اخبار نویسوں سے رابطہ رہا۔ چند ایک چینیوں کے ساتھ دوستی خاندانی رشتوں جیسی ہوگئی۔ ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کی بنیاد پر استوار ہوئے اس رشتے کے دوران میں نے کبھی کسی چینی دوست کو پاکستان کی سیاست میں دلچسپی لیتے نہیں دیکھا۔ سیاسی ابتری کے کئی مرحلوں کے دوران بھی وہ غیرمعمولی حد تک لاتعلق نظر آئے۔ 90 کی دہائی کے آغاز کے ساتھ ہی ان کا یہ رویہ مگر بتدریج بدلنا شروع ہوگیا۔
فاروق لغاری جب ہمارے صدر تھے اور جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف تو چند سینئر سفارت کار بہت خلوص سے یہ معلوم کرتے نظر آئے کہ ان دونوں افراد تک ان کی چند معاملات کے بارے میں تشویش کون سا وسیلہ مؤثر انداز میں پہنچا سکتا ہے۔ رویئے کی اس تبدیلی کی وجوہات سمجھتے ہوئے دریافت یہ ہوا کہ چین کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کے بار ے میں بہت پریشانی لاحق ہو چکی ہے۔ اس پریشانی کی بنیادی وجہ طالبان اور القاعدہ میں درآئے وہ ازبک اور تاجک دہشت گرد تھے جنہوں نے چین کے صوبے سنکیانگ میں ابھرتی ’’ایسٹرن ترکستان موومنٹ‘‘ سے تنظیمی تعلقات گہرا بنانے شروع کر دئیے تھے۔ مذہبی انتہا پسندی کے بار ے میں ہمارے چینی دوستوں کی تشویش بالآخر 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد سے جڑے واقعات کے دوران کھل کر ہمارے سامنے آگئی۔
کل وقتی رپورٹنگ سے اب میں ریٹائر ہو چکا ہوں۔ معتبر ذرائع سے مگر سنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کو عجلت میں آپریشن ضربِ عضب کی طرف بڑھانے میں بھی چین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
2014سے پاکستان میں CPECکے چرچے ہیں۔ یوں گماں ہوتا ہے کہ چین جو اپنا یار ہے اور جس پر جان بھی نثار ہے 80 ارب سے زیادہ رقم ہاتھ میں لئے پاکستانیوں سے وہ منصوبے مانگ رہا ہے جن کی تکمیل اس کی سرمایہ کاری سے ممکن ہو سکے۔ CPEC کے بارے میں پھیلی ان Feel Good کہانیوں کے ہجوم میں بارہا اس کالم کے ذریعے میں فریاد کرتا رہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں۔ محض ’’یاری‘‘ دھندے میں کام نہیں آتی۔ سرمایہ کاری کے ٹھوس مفادات ہوتے ہیں۔ ہم ایسے ملکوں کی اصل مہارت غیر ملکی سرمایہ کاروں کی خواہش کو اس طرح بروئے کار لانا ہے کہ بیرونی سرمایہ کار اور ہمارے لئے Win-Win والی صورت پیدا ہوسکے ۔ معاشی معاملات کے بارے میں تقریباً جاہل ہوتے ہوئے میں ابھی تک یہ طے نہیں کر پایا ہوں کہ CPEC سے جڑے تمام منصوبوں نے ہمارے اور چین کے لئے یکساں طورپر Win-Win والا ماحول بنایا ہے یا نہیں۔
داخلی اور عالمی سیاست کا ایک طالب علم ہوتے ہوئے البتہ میں یہ بات اب اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ چین پاکستان میں تیزی سے پھیلتے سیاسی عدم استحکام کے بارے میں پریشان ہونا شروع ہوگیا ہے۔ چینی سفیر کی چند روز قبل سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل قرار پانے کے بعد ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا واویلا کرتے نواز شریف کے ساتھ لاہور میں ہوئی ملاقات نے میرے خدشے کو تقویت فراہم کی۔ منگل کی سہ پہر چینی سفیر چیف جسٹس جناب ثاقب نثار سے بھی مل لئے ہیں۔ یہ ملاقات ہمارے سیاسی ماحول کے تناظر میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔ چینی سفیر کو نواز شریف اور چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔ ان دنوں بھی اگر میں کل وقتی رپورٹر ہوتا تو اپنے سوال کا جواب تلاش کرنے میں مصروف ہو جاتا۔ جوابات پانے کے لئے رپورٹرز کو Whatsapp والے ’’ذرائع‘‘ نہیں واقعات سے باخبر Sources کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔
’’اندر کی بات‘‘ معلوم کرنے کا ایک ذریعہ Open Source Material بھی ہوتا ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ کسی معتبر اخبار میں کسی اہم شخصیت کا لکھا مضمون۔ چین کو سمجھنے کے لئے اس ذریعے سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ وہاں کے اخبارات میں جو مضامین شائع ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی صورت حکومتی پالیسیوں کا اظہار ہوتے ہیں۔
اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کے ذریعے تھوڑی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ 14جنوری کو چین کے ایک کثیر الاشاعت اخبار Global Times میں Liu Zongh کا ایک مضمون نمایاں طورپر چھاپا گیا ہے۔ اس مضمون کا مصنف شنگھائی انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹڈیز سے متعلق ایک سکالر ہے جس نے چین کے چند صوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی پالیسیاں مرتب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس مضمون میں چینی سکالروں کی روایتی سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ یہ اعتراف ہوا کہ پاکستان میں CPEC کے بارے میں کچھ منفی جذبات پیدا کئے جارہے ہیں۔ کئی منصوبے ایسے بھی ہیں جن کا آغاز یا بروقت تکمیل وفاق اور صوبوں کے درمیان اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ سب سے اہم بات یہ کہ CPEC کو مفید تر بنانے کے لئے چند ’’آئینی اور قانونی‘‘ فیصلے درکار ہیں۔ ان قوانین کی عدم موجودگی میں خدشہ ہے کہ چین کی سرمایہ کاری سے شروع ہوئے کئی منصوبے عدالتی مداخلت کی بناء پر روکنا پڑیں۔
یہ مضمون پڑھنے کے بعد ہی مجھے کچھ اندازہ ہوا کہ چینی سفیر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی ضرورت کیوں محسوس کی اور میں لاہور میں لگے شو سے لطف اندوز نہیں ہو پایا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین