قصور کی بے قصور زینب

حاجرہ ریاست

گیارہ جنوری کی صبح بھی معمول کی ہی تھی ۔ نا شتے کی ٹیبل پر بیٹھی چھو ٹی بہن موبائل پر گیم کھیلتے ہو ئے مجھے آ کر لپٹی اور میرے ساتھ یونیورسٹی جا نے کی ضد کی، معلو م نہیں کیسے خالہ نے ٹی وی لگا دیا ، قبر پر سرخ پھول اور باپ کی آہ و بکا نے جیسے سینہ ہی چیر دیا ۔جس نے میری بیٹی کے ساتھ زیادتی کی اسے سر عام پھانسی دی  جا ئے ۔ درندوں نے میری کلی کو مسل دیا ۔باپ قبر کے ساتھ لپٹا خون کے آ نسو رو رہا تھا ،جیسے ایک دم قیامت ٹوٹ پڑی ہو، مجھ پر  کچھ دیر کے لئے سکتہ طاری ہو گیا ۔میری ٹانگوں میں جیسے آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہ رہی ۔ چھوٹی بہن کی ضد میں جسے زینب کا ہنستا مسکراتا چہرہ دکھائی دینے لگا ۔ وہ دن اور آج کا دن جیسے نیند ہی اڑ گئی ہو۔۔ چھوٹی بہن میں مجھے زینب کا چہرہ ہر وقت دیکھائی دیتا ہے اور ہر وقت اس کے لیے فکر بھی ۔سوچتی ہوں ایک ماہر نفسیات اگر اس واقعہ سے اس حد تک متاثر ہو سکتا ہے تو عام شہری کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی ۔
زینب کی ماں اور شفیق باپ کے جذبا ت اور احساسات ،نا جا نے کتنے خواب جو وہ زینب کے لئے سجا ئے بیٹھے تھے ،سو چتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ وہ والدین جنہوں نے اتنے بر س سے اسے پا لا اسے ایک جھٹکے میں ظا لموں نے ان سے چھین لیا ۔خود کواگر زنیب کی جگہ رکھوں تو خوف و ڈر میرے عصاب پر طا ری ہو جا تا ہے کہ اس ننھی کلی پر کیا کیا بیتا ہو گا ،کیا وہ چلائی ہو گی ؟کیا کسی نے اس کی آہ وپکا ر نہیں سنی ہو گی ؟ کیا اس نے تکلیف میں والدین کومدد کے لئے پکا را ہو گا ؟ کیا کسی نے ہمت کر کے اسے ڈھونڈے کی کو شش کی ہو گی ؟اپنی زندگی کے آ خری لمحا ت پر وہ کیا سوچ رہی ہو گی ؟ کیا ان ظا لموں کو معصوم چہرے پر رحم آ یا ہو گا ؟ کیا ان کے ضمیر نے بھی آواز دی ہو گی ؟ یہ بھی نہیں سو چا کہ یہ زینب ان کی بیٹی یا بہن بھی ہو سکتی ہے ؟گنا ہوں سے پا ک تھی ،اس کا کیا قصور تھا ۔کیوں انگلی پکڑ کر چل پڑی وہ درندوں کے ساتھ ؟
قصور میں بے قصور زینب جنسی درندوں کے ہاتھ کیسے لگی قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں بلکہ پکڑنے اور سزا دینے سے بھی معذور ہیں ،زینب ظلم وستم کا نشانہ بننے والی پہلی بچی نہیں لیکن قوم سب کچھ دیکھنے کے با وجود اس وجہ سے خا موش ہے کیونکہ مظلوم کے لئے اٹھنے والی آواز دبا دی جا تی ہے، کبھی دھمکیوں سے کبھی پیسے سے اور کبھی آواز اٹھانے کی سزا انجہانی موت ۔۔۔ بحثیت قوم ہمیں احتجاج کرنا بھی نہیں آتا ، فیس بک پر اپنی تصویر کی جگہ زینب کی تصویر تو لگا دی جاتی ہے لیکن بنیادی مسائل کو پہچاننے اور ان کے تدارک کے لیے اپنے گھر سے کام شروع نہیں کیا جاتا۔۔ کھوتے اور کتے کا گوشت ۔۔۔ انتڑیوں اور ہڈیوں سے بنا تیل۔۔۔ چمڑے اورچھلکے سے بنی پتی ۔۔ سرف اور بلیچ ملا دودھ پی کر خود کو زندہ قوم کہنے والے  لوگ زینب کو انصاف کیا دلائیں گے، زینب کا قتل ہم سب کے معاشرتی کردار پر سوالیہ نشان ہے _
منہ سے پردہ ہٹا زنیب۔۔۔بو ل تجھ کو کیا ہوا زنیب

_____  حاجرہ ریاست ماہر نفسیات ہیں اور گزشتہ دو سال سے نفسیاتی مسائل پر لکھ رہی ہیں ، خاندانی نفسیاتی مسائل اور بچوں کے نفسیاتی مسائل کے حل میں مہارت رکھتی ہیں_

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے