ایک چھت تلے سبھی ایک ہوئے!

ایک چھت تلے سبی ایک ہوئے!
کوئی مسکرا دیا تو کوئی رو دیا!
رپورٹ : عبدالجبارناصر
سینیٹ انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کے دوران 8 فروری کو مختلف خوشگوار اور رنجیدہ مناظر نظر آئے اور سندھ کی سیاست میں ایک طویل عرصے بعد اس طرح کا ماحول دیکھنے کو ملا کہ ایک چھت تلے مختلف الخیال اور مختلف النظریات جماعتوں کے رہنماء نہ صرف ایک دوسرے ساتھ گھل مل گئے بلکہ شیرو شکر بھی ہوئے ۔ کہیں پر مسراہٹیں بکھیرتے نظر آئے تو کہیں پر لوگ رنجیدہ بھی تھے ۔کوئی خوش ہوا تو کوئی رو دیا۔ سندھ کے شہری علاقوں پر حکمرانی کرنے والی جماعت ایم کیو ایم پاکستان میں ایک مرتبہ پھر واضح تقسیم دیکھائی دی۔ صوبائی الیکشن کمیشن میں بہادر آباد اور پی آئی بی گروپ کے ساتھ ساتھ مصالحتی گروپ کی بازگشت بھی سنائی دی۔ لوگوں کو لڑانے میں میڈیا بدنام تو ہے لیکن اس بار میڈیا کے نمائندوں نے بچھڑوں کو ملانے اور ناراض لوگوں کو ایک دوسرے سے گلے لگوانے میں اہم کر دار ادا کیا۔
8 فروری 2018 کو صوبائی الیکشن کمیشن میں صبح سے ہی دلچسپ اور بعض رنجیدہ مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے۔ دن ایک بجے تک عملاََ خاموشی تھی سب سے پہلے مسلم لیگ ( ن ) کے آصف خان اپنے تائید اور تجویز کنند کے ساتھ آئے اور اس کے بعد محفوظ یار خان پہنچے اور صحافیوں کے ساتھ نہ صرف گھل مل گئے بلکہ اپنی سیاسی زندگی کے دلچسپ واقعات بالخصوص تحریک استقلال سے اصغر خان اور عوامی مسلم لیگ سے شیخ رشید احمد کے اخراج کے دلچسپ واقعات بیان کرکے صحافیوں کی محفل کو زعفران زار کر دیا۔ اسی دوران ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری اور سید سردار احمد پہنچے ۔فصیل سبزواری انتہائی رنجیدہ اور پارٹی اختلافات پر پریشان دکھائی دے رہے جبکہ مختصر وقفے کے بعد ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے دیگر رہنماء بھی پہنچنا شروع ہوئے اور ایک حلقہ سا بن گیا ۔اسی دوران ایم کیو ایم پی آئی بی کے کامران ٹیسوری اپنی تائید و تجویز کنندہ کے ہمراہ پہنچے اور کاغذات نامزدگی جمع کرائے ۔ ایم کیو ایم کے مخالف گروپ کے قریب سے گزرنے پر صحافیوں نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ان سے مل لیں ۔ اور مختصر ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔
صورتحال اس وقت دلچسپ شکل اختیار گئی جب ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں گروپوں کے میں الگ الگ امیدوار اورایم کیو ایم کے سابق رہنما خالد بن ولید مرحوم کے بھائی عامر چشتی اور فرحان چشتی کاغذات جمع کرنے کے لئے پہنچے۔ فرحان چشتی جذباتی ہوا اور بہادر آباد گروپ کے بعض رہنمائوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ’’لاکھڑا کردیا نا ہم دونوں بھائیوں کو؟‘‘ اس پرقریب سے آواز آئی ’’تیسرے بھائی کو مروا بھی تو دیا(خالد بن ولید کا قتل)‘‘۔
مختصر وقفے کے دوران ایم کیو ایم پی آئی بی کالونی کے رہنمابھی آہستہ آہستہ پہنچنا شروع ہوئے اور ایک اپنا الگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے دونوں گروپوں میں تقسیم واضح دکھائی دے رہی تھی ۔جہاں پر بہادر آباد گروپ اور پی آئی بی گروپ کی بازگشت سنائی دی وہیں پر مصالحتی گروپ کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ایم کیو ایم پاکستان دو مختلف گروپوں کی موجودگی دوران ہی تحریک انصاف کے عمران اسماعیل ، حلیم عادل شیخ ، خرم شیر زمان ، مسلم لیگ ( ن ) کے بابو سرفراز جتوئی ،خواجہ طارق نزیر اور دیگر پہنچے جبکہ اسی مرحلے میں ایم کیو ایم کے سر براہ ڈاکٹر فاروق ستار بھی پہنچے جس کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا کہ محفل میں ان کی گرفت ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم اپنے نظم وضبط اور ہوم ورک کے حوالے سے ہمیشہ مثالی رہی ہے لیکن اس بار بد نظمی واضح دکھائی دے رہی تھی،کہیں پر کسی کو تجویز کنندہ کی تلاش تھی تو کسی کو تائید کنندہ کی، کوئی اپنے کاغذات مکمل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہا تھا تو کوئی دونوں گروپ کو راضی رکھنے کےلئے کوشاں دکھائی دیا۔ ایم کیو ایم شاید ہی کوئی ایسا رہنما ہو جو اس ماحول میں خوش دکھائی دے رہا ہوں تاہم دیگر سیاسی مخالفین محظوط ہو رہے تھے ۔ ایک موقع پر جب صورتحال کو دیکھ کر فیصل علی سبزواری نہ صرف آبدیدہ بلکہ اشکبار ہوئے جس پر موجود دو صحافیوں نے ڈاکٹر فاروق ستار کو گلے ملانے پر راضی کیا اور پھر دونوں نہ صرف گلے ملے بلکہ فیصل سبزواری پھوٹ پھوت کر رو رہے تھے اور ڈاکٹر فاروق ستار انہیں سب کچھ جلد ٹھیک ہونے اور پارٹی کو متحد ہونے کی یقین دہانیاں کرا رہے تھے یہ موقع انتہائی سنجیدہ تھا دونوں کے درمیان راز و نیاز بھی ہوتا رہا اس عمل کو تما م شرکاء نے سراہا اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ تھوڑی دیر پہلے تک ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے والوں کے مابین شاید کچھ نہیں ہوا تھا۔
پاک سر زمین پارٹی کے رہنما رضا ہارون اپنے ایک درجن ساتھیوں سے زائد ساتھیوں سمیت پہنچے اور تمام جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے سے نہ صرف خیریت دریافت کر رہے تھے بلکہ ایک دوسرے کو مثبت مشورے دے اور ہر ممکن تعاون بھی کر رہےتھے۔ سندھ کی سیاسی تاریخ میں اس طرح کا ماحول ایک طویل عرصے کے بعد دیکھنے کو ملا شاید یہی وجہ ہے الیکشن کمیشن کے دفتر میں گزرے ہوئے پانچ سے چھ گھنٹے کے بعد مختلف رہنماؤں نے میڈیا سے ہونے والی گفتگو میں تلخی کم بلکہ مفاہمت کا پیغام زیادہ تھا ۔ اسی محفل میں ڈاکٹر فاروق ستار نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ جمعہ کو (آج) ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد جائیں گے اور ہم مل کر امیدوار لائیں گے ۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بھی اپنے گروپ کے امیدواروں کے بجائے دونوں گروپوں کے امیدواروں کو اپنا قرار دیا ۔اس عرصے میں ایم کیو ایم خواجہ اظہار الحسن سید سردرار احمد، عبدالراوف صدیقی کو عملاََ مصالحتی گروپ قرار دیا گیا ہے اب دیکھانا یہ ہے کہ صوبائی الیکشن کمیشن آف سندھ کے دفتر میں نظر آنے والے یہ خوشگوار سیاسی منظر کراچی کی سیاست میں کب تک اپنے مثبت اثرات قائم رکھتا ہے اور ایم کیوایم پاکستان کے دونوں گروپوں کے اتحاد میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے