انصاف برائے فروخت

‏ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں پچاس لاکھ رشوت لے کر شعیب شیخ کو ضمانت دینے اور کیس خارج کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج پرویزالقادر میمن کو سزا دے دی گئی۔  سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق معطل جج کو برطرفی سے قبل انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر صفائی کا موقع دیا گیا، معطل جج پرویزالقادرمیمن نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کی 2 رکنی کمیٹی کے سامنے رشوت لینے کا اعتراف کیا۔

اس دو رکنی کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج کو معطل کر کے الزامات کی انکوائری شروع کی تھی اور چیف جسٹس نے شوکاز نوٹس جاری کر کے جج کے خلاف انکوائری کا آغاز کیا تھا۔

انکوئری ہوئی۔ مکمل ہوئی۔ اور منصفی کی بجائے انصاف فروخت کرنے والے کو ایسی عبرت ناک سزا دی گئی جو صدیوں یاد رکھی جائے گی(جیسے پانامہ فیصلے پر کہا گیا تھا) ۔ جب یہ خبر کہ جج صاحب نے پچاس لاکھ رشوت لی، میں نے ٹی وی اسکرین پر لال ڈبے میں گھومتی دیکھی تو نہ جانے کہاں سے اور کیوں مجھے "انقلاب” اور "تبدیلی” اس ملک کی قسمت میں بہت قریب محسوس ہوئی۔ سوچا جج صاحب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں ۔ عبرتناک سزا ہو گی۔ ویسے بھی اج کل تھری جی نہیں تھری "جیم” کا زمانہ ہے ۔تینوں ج سزا سے آزاد ہیں ۔ تو سوچا کہ اب جج کو سزا سے ہونے جے بعد منصف اپنا کام ٹھیک سے کریں گے۔ عوام کو انصاف ملے گا ۔ اور سر چرچل کے مطابق عوام کو انصاف ملے تو سب ٹھیک ہوگا کے تحت ہم ترقی کریں گے ۔ بہرحال اسی سوچ میں تھا کہ ٹاک بیک میں پروڈیوسر نے مجھے یہ ہی بریکنگ نیوز کرنے کو کہا۔ تو اپنے کام میں مگن ہو گیا۔
دن گزرے۔ راتیں گزریں۔ وقت گزرا جج صاحب (ہائے شکر ہے میں نے جج صاحب کہا ورنہ توہین عدالت ہو جاتی) کو سزا دے دی گئی۔ سزا سنتے ہی میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ جج کو وہ سزا دی گئی کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔ انصاف کا قتل پچاس لاکھ میں کرنے کی سزا کے طور پر جج صاحب کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ وہ جج جس نے اپنے اس مکروہ عمل سے توہین عدالت کی، منصفی کی بجائے انصاف کے گلے پر چھری چلائی۔ ملزم کو رہا کیا۔ زمہ داریوں سے کوتاہی برتی۔ اتنے بڑے جرائم تحقیقیات سے ثابت ہوئے ۔ جج نے اعتراف جرم بھی کیا۔
نہ ریمارکس آئے ۔ وہ گاڈ فادر ۔ سسیلین مافیا ۔چور۔بار بار پیشیاں ۔ وغیرہ کچھ بھی نہیں ۔بس نوکری سے فارغ ۔کام تمام۔ انصاف کے قاتل کو سزا دینے والے منصفوں نے بھی انصاف کا قتل کیا ۔

سر پیٹو پاکستانیو۔ تمھاری قسمت میں دودھ دہی سے لے کر انصاف تک سب ملاوٹ والا لکھا ہے۔ پانی ملا دودھ ہو یا جانبدار انصاف، کڑوے گھونٹ پیتے جاو اور مرتے جاو۔

(چودھری طاہر شبیر نجی ٹی وی چینل سے بطور نیوز اینکر منسلک ہیں)

متعلقہ مضامین