راؤ انوار کیوں پیش نہ ہوئے؟

آج کل توعین عدالت کا چرچا عام ہے۔ کچھ اس جرم میں جیل پہنچ گئے۔ توعین عدالت ہوتی کیا ہے؟ یہ ہوتی کب ہے؟ شاید جب ریاستی ادارے ریاست کے ایک بنیادی ستون عدلیہ سے تعاون کرنا چھوڑ دیں تو پھر تو عین ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ نظر کیوں نہیں آتی؟ شاید اس وجہ سے کہ جو یہ سب کرتے ہیں وہ خود بھی نظر نہیں آتے۔ شاید اس کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جس کی تو عین کی جاتی ہے وہ نظر میں رہتا ہے۔۔۔۔باقی وہ کہتے ہیں کہ ناں کہ آنکھ اوجل پہاڑ اوجل۔
راؤ انوار ملیر کا ایک ‘بے گناہ’ معطل پولیس ایس ایس پی ہے۔ نقیب اللہ محسود قتل اس کے سر لگا تو کراچی سے اسلام آباد تک پہاڑوں کے سروں کو سر کاٹتے اور ہوا کے سینوں کو چیرتے ہوئے فیض آباد کے فرضی مگر محفوظ پہاڑوں کے پیچھے آ چھپا۔ توعین عدالت کا مرتکب ملزم جو ایک قتل کیس میں مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ملک کی سب سے بڑی عدالت کو مطلوب ہے۔
صبح سویرے اس روپوش افسر کی جھلک کو ترستے میڈیا کیمروں نے عدالت کے ہر داخلی دروازے پر ڈیرے ڈال دئیے۔ احاطہ عدالت میں صحافیوں کی بڑی تعداد موبائل کے کیمروں پر انگلی دبا کر اس خاص افسر کا انتظار کر رہے تھے۔
ایک دوسرے سے بات ضرور کر رہے تھے لیکن نظریں ہر آنے والی گاڑی اور اس سے اترنے والے شخص پر مرکوز تھیں۔ ایسے میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ تشریف لے کر آئے تو عدالت کی پارکنگ سے ہی اس کو موبائل تھام صحافیوں نے گھیرے میں لے لیا۔

سوالات کی بوچھاڑ میں نمایاں آواز تھی کہاں ہیں راؤ انوار؟ کیا آج وہ عدالت کے سامنے پیش ہو جائیں گے؟ مسکرانے کے علاوہ آئی جی کر بھی کیا سکتے تھے؟ جب جواب نہ ملا تو موبائل کیمرے آئی جی کے اتنے قریب پہنچ گئے جیسے کہ آواز گلے سے نکلنے سے پہلے ہی کیچ کر لیں گے۔
جواب آیا نہ راؤ انوار۔۔
خوش قسمت معطل پولیس افسر کے بارے میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے نام لے کر دریافت کیا کہ راؤ انوار صاحب کہاں ہیں؟ اس کے بعد جو کچھ ہوا شاید توعین اسے ہی کہتے ہیں۔ یہ خیال اس وقت درست ثابت ہوا جب راؤ کو توہین کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ ریاست کے اندر کام کرنے والے تقریباً تمام انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی آزادانہ رپورٹ پیش کریں کہ راؤ ابھی تک گرفتار کیوں نہیں ہو سکا؟ ان اداروں کو پولیس کی مدد کے بھی احکامات جاری ہوئے۔ شاید راؤ انوار کو تلاش کرنے سے پہلے ایسے میزبانوں کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ ملک کے سب سے مضبوط ادارے اگر یہ فریضہ انجام نہ دے سکے تو پھر شاید یہ ریاست کی بھی توعین ہو گی۔ اگر توعین نہیں ہوتی تو چند ایسے عناصر کی جو ان اداروں میں روپوش ہیں اور ریاست سمیت سب کا منہ چڑا رہے ہیں۔
‘توعین’ کس کی ہوئی ہے؟ توعین کس نے کی ہے؟ صبح سے بیٹے کے قاتل کی گرفتاری کی امید لیے شاید نقیب اللہ محسود کے والد ان سوالات پر غور بچار کرتے ہوئے سماعت کے آخر میں دیگر قبائلی عمائدین کے ہمراہ کمرہ عدالت نمبر ون سے ناکام باہر نکل گئے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button