وقت نیوز توہین عدالت کیس کا احوال

کمرہ عدالت سے اویس یوسف زئی

سینئر صحافی اور وقت نیوز کے اینکر پرسن مطیع اللہ جان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی تو کمرہ عدالت میں نیشنل پریس کلب اور راول پنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں سمیت سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ نوائے وقت گروپ کے سلیم بخاری، جاوید صدیق اور چودھری اسلم سمیت دیگر صحافی روسٹرم پر آئے تو جج صاحب نے انہیں مخاطب کر کے کہا صرف جن افرادکو بلایا گیا ہے وہ کھڑے ہوں باقی نشتوں پر تشریف رکھیں۔ وقت نیوز کی چیف ایگزیکٹو رمیزہ نظامی ، اینکرپرسن مطیع اللہ جان ، پروگرام پرڈیوسر، ایسوسی ایٹ پروڈیوسر اور بیورو انچارج سردار حمید روسٹرم پر آ گئے۔ ایف ایٹ کے فٹ بال گرونڈ پر وکلا کے قبضے کے حوالے سے مطیع اللہ جان کا 5فروری کا پروگرام اپنا اپنا گریبان کمرہ عدالت میں چلایا گیا جس میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کے صدر ریاست علی آزاد اور جیو نیوز کے عبدالقیوم صدیقی بطور مہمان پیش ہوئے جبکہ ایک گزشتہ پروگرام کا وڈیو کلپ بھی چلایا گیا جس میں نیوز ون کے سپریم کورٹ کی بیٹ کور کرنے والے سینئر رپورٹر وحید مراد اپنی رائے کااظہار کر رہے تھے۔
39 منٹ کا پروگرام کمرہ عدالت میں چلایا گیا جس کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رمیزہ نظامی کو مخاطب کر کے پوچھا کہ ان کے خیال میں اس پروگرام کے ذریعے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں کی گئی؟ رمیزہ نظامی نے جواب دیا کہ انہوں نے نوٹس ملنے کے بعد پروگرام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھاتھا مگر ان کی رائے میں پروگرام کسی بدنیتی پر مبنی نہیں ۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا پروگرام میں متعدد بار چیف جسٹس کو ثاقب نثارکہہ کر پکارا گیا۔مطیع اللہ جان نے چار سال پرانا انٹرویو نشر کیا اور اس کی تصدیق بھی نہیں کی۔ کیوں نہ چینل کے لائسنس کی منسوخی کے لیے پیمراکو یہ معاملہ بھجوا دیں ۔ کیا اب کسی سول جج کے فیصلے پر اینکر کہے گا فیصلہ غیر قانونی ہے؟کسی اینکر کو ایپلیٹ کورٹ کا کردار ادا کرنے کا اختیار کس نے دیا ؟یہ عدلیہ کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ کل پرسوں جیو والوں نے ایک تماشہ لگایا ہوا تھا،انہیں بھی نوٹس دیتے ہیں۔ پرسوں جو رپورٹ کارڈ ہوا ہے، ان کو بھی بہت تکلیف ہے ویلنٹائن ڈے کی ۔ جنگ والوں نے ناموس رسالت سے متعلق میرے فیصلے کی دس دن تک قسطیں چھاپیں، آج ان کو بھی نوٹس جا رہا ہے۔یہ کہتے ہوئےعدالت نے پیمرا سے ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ کا ٹرانسکرپٹ طلب کر لیا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیے اینکرز نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔ وکلاء یہاں موجود ہیں، وہ بتائیں کہ فٹ بال گراونڈ پر ان کا کیا موقف تھا؟طارق جہانگیری ایڈووکیٹ نے کہا آپ نے کہا کہ میں اپنے گھر سے صفائی شروع کروں گا۔ سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ آپ نے ہمیں بھی ڈائریکشن دی تھی کہ غیر قانونی چیمبرز ہٹوائیں۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ فٹ بال گراونڈ پر قبضے کے معاملے پر پہلے کہا گیا کہ نوٹس نہیں ہو گا جب سوموٹو نوٹس لیا گیا تو چیف جسٹس کے بارے میں کہا گیا کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے ۔ آپ کے ہاتھ میں مائیک اور کیمرا آ گیا تو کیا آپ خدا بن جائیں گے؟ آپ غلط معلومات کے ساتھ جوڈیشری کو بدنام کر رہے ہیں۔ کیا اینکر زکی پروگرام کرنے کے لیے کوئی ٹریننگ ہوتی ہے؟ رمیزہ نظامی کو مخاطب کر کے جسٹس صدیقی نے کہا آپ پر اللہ کا کرم ہوا ہے کہ بیٹھے بٹھائے اتنی بڑی ایمپائر مل گئی۔ ہم تو مجید نظامی اور حمید نظامی کو جانتے ہیں، گھر میں نوائے وقت ایک مقدس اخبار کے طور پر آتا تھا۔ سماعت جاری تھی کہ ایک وکیل نے مداخلت کی اور کہا کہ جو اپنے گھر میں والد کی عزت نہیں کر سکتا وہ ہماری چیف کی عزت کیا کرے گا ۔ مطیع اللہ جان نے وکیل کو جواب دیا کہ آپ پرسنل نہ ہوں پھر عدالت کو مخاطب کیا کہ انہیں کہیں اپنی حدود میں رہیں۔ عدالت نے وکیل کو چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔جسٹس شوکت صدیقی نے دوبارہ مطیع اللہ جان کو مخاطب کیا اور کہا آپ نے اتنا پڑا پروگرام بغیر تحقیق کے کر دیا۔ مطیع اللہ جان اچھی طرح جانتا ہے کہ 23 سال بے داغ وکالت کی، سات سال سے بطور جج فرائض انجام دے رہا ہوں۔ ہر روز عدالت آنے سے پہلے اپنا حلف پڑھ کر آتا ہوں۔ میرا اللہ گواہ ہے کہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا اس سارے معاملے میں ۔ ہم کسی فورم پر جا کر وضاحت نہیں کر سکتے، پوائنٹ آف ویو نہیں دے سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو لائسنس ٹو کل مل گیا ہے۔ آپ اینکر ہیں تو کیا آپ کو کھلی چھٹی ہے؟ نوے فیصد وکیل معزز ہیں،باقی دس فیصد کی وجہ سے کیا پوری کمیونٹی یا جوڈیشری کو گالیاں دیں؟ آپ کون ہوتے ہیں جو کہیں کہ سول جج کا آرڈر غیر قانونی ہے؟ یہ صرف ایپلیٹ کورٹ کا حق ہے۔ انہوں نے میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا اور ریمارکس دیے کہ اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں روکنے کے حکم پر عمل ہو گیا ہے صرف میڈیا ہاوسز رکاوٹ ہیں۔ بعض میڈیا ہاوسز بدمعاشی کر رہے ہیں اور ان کے آفسز اب بھی گھروں میں قائم ہیں۔ نوائے وقت گروپ تو ایک آرڈر کی مار ہے کیونکہ اخبارات والے قانونی طور پر ٹی وی چینل چلا ہی نہیں سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ میں صحافیوں کو کوئی ایشو ہو تو وہ بھی میرے پاس آتے ہیں، میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ وقت نیوز کی سی ای ا وکے وکیل بیرسٹر تیمور اسلم نے کہا کہ تحریری انڈرٹیکنگ دے دیتے ہیں، عدالت نوٹس جاری نہ کرے ۔ رمیزہ نظامی کے گھر چار ماہ قبل بچی کی پیدائش ہوئی، اس وجہ سے میٹرنٹی کی چھٹیوں پر تھیں جس پر جسٹس صدیقی نے کہا یہ زیادہ بہتر موقع تھا اپنا چینل دیکھنےکا، شاید یہ دوسرے چینل زیادہ دیکھتی ہیں۔ ایک موقع پر جسٹس صدیقی نے کہا یار مطیع اللہ جان، آپ مجھے نہیں جانتے؟ جس پر مطیع اللہ جان نے کہا آپ کو وکلا تحریک کے دور سے جانتا ہوں ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ کیا پروگرام میں آج تک کسی اچھے کام کی تعریف بھی کی گئی؟ مطیع اللہ جان نے کہا آپ کے رہائشی علاقوں سے تجارتی سرگرمیاں اور تجاوزات کے خاتمے کے حکم کی تعریف کی گئی۔ جسٹس صدیقی نے کہا وہ اچھائی بھی طنزیہ انداز میں کی گئی ۔ مطیع اللہ جان نے کہا I assure you complete respect to this court۔ اس موقع پر سینئر صحافی اور کالم نگار روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میں نے آپ کے ناموس رسالت کے فیصلے کے حوالے سے کالم بھی لکھا تھا۔جسٹس صدیقی بولے ناموس رسالت کیس سننے کےدوران آنسو بہہ گئے تو مطیع اللہ جان نے لکھا کہ منافقت کے آنسو ہیں۔  اسلم خان نے کہا کہ ملک انتشار کا شکار ہمیں آپ مضبوط کریں ۔ جسٹس صدیقی نے کہا مجھ پر آپ ہر طرف سے پتھراو کریں گے اور تیر برسائیں گے تو میں کیسے آپ کو مضبوط کر سکوں گا؟ وقت نیوز پر ہی بیٹھ کر علینہ شگری نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ رمیزہ نظامی بولیں میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، ہم نے فیض آباد دھرنا کیس کی بھی کوریج کی۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کسی عدالتی آرڈر پر آپ بریکنگ نیوز دیتے ہیں تو یہ میرے اوپر کوئی احسان نہیں، آپ کو جو مصالحہ ملتا ہے وہ آپ نے بیچنا ہوتا ہے، ہو سکتا ہے اس سے آپ کی ریٹنگ بہتر ہوئی ہو۔ آپ نے معافی مانگنی ہے یا کیس لڑنا ہے؟ بیرسٹر تیمور نے کہا کہ تحریری طور پر غیر مشروط معافی نامہ جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے اور آئندہ سماعت پر رمیزہ نظامی کو حاضری سے استثنا بھی دیا جائے۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ انہیں اپنے وکیل سے مشاورت کرنی ہے، سوموار تک وقت دیا جائے۔ وکیل سے مشاورت کے بعد فیصلہ کروں گا کہ معافی مانگنی ہے یا کیس لڑنا ہے۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 19 فروری تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button