آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کونسلوں کا متبادل!

:عبدالجبارناصر
اطلاعات ہیں حکومت پاکستان ایک نئے نظام کے تحت آزاد کشمیر کونسل اور گلگت بلتستان کونسل کو ختم کرنے پرغورکر رہی ہے، اس حوالے سے مقامی میڈیا میں تو کافی کچھ آرہاہے تاہم متعلقہ اداروں یا حکام کی جانب سے کوئی واضح خدوخال سامنے نہیں آئے ہیں تاہم جس اندازمیں بازگشت اور ہلچل ہے اس سے یہ محسوس ہوتاہے کہ معاملہ کچھ توہے ۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ان دونوں کونسلوں کے خاتمے کے بعد ان کا متبادل کیا تیار کیاگیاہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ دونوں خطوں میں قائم کونسلوں نے وہ کردار ادانہیں کیا جو دونوں کو دیاگیاتھا یا جو ان کے قیام کا مقصد تھا اور عملاً یہ دونوں ادارے صرف لوگوں کو نوازنے کا ذریعہ بن گئے حالانکہ یہ دونوں کونسلیں وزیر اعظم پاکستان کی سربراہی میں کام کرتی ہیں اور15 رکنی(ہر ایک) ان کونسلوں کے مقامی 6 ممبران کے ساتھ 7اہم وفاقی وزراء یا دیگر اہم افراد شامل ہوتے ہیں اور عملاً یہ کونسلیں وفاق پاکستان اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے درمیان پل کاکردار ادا کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں اور یوں سمجھیں کہ یہ سینیٹ آف پاکستان کا متبادل ہے، مگرتلخ حقیقت یہی ہے کہ آزاد کشمیرکے ایکٹ 1974ء کے تحت قائم آزاد کشمیر کونسل اورگلگت بلتستان گورننس آرڈر 2009ء کے تحت قائم گلگت بلتستان کونسل عملاً پل کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں اور مختلف حلقوں میں ان دونوں کونسلوں کوبجٹ پر بوجھ تصور کیا جانے لگا، اس ضمن میں شدید نتقید بھی ہوتی رہی ہے۔
ان تمام کوتاہیوں اور ناکامیوں کے باوجود کسی مناسب متبادل حل کو پیش کئے گئے بغیران دونوں کونسلوں کو ختم کرنا متنازع ریاست جموں و کشمیر کے دونوں خطوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وفاق پاکستان کے ساتھ نہ صرف مزید مسائل پیدا ہونگے بلکہ پاکستان کے دشمن بالخصوص بھارت ، امریکا اور دیگرکیلئے پروپیگنڈا کے ذریعے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنااور آسان ہوگا، اس لئے ان کونسلوں کے خاتمے سے قبل متبادل پیش کرنا ضروری ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متبادل کیا ہوسکتا ہے جوعوام کی خواہشات کو بھی کسی حدتک پورا کرے، پاکستان کے کشمیر موقف کونقصان پہنچے ، کشمیریو ں کی جدوجہد آزادی اور قربانی بھی متاثر نہ ہو، دشمن کو پروپیگنڈے کا موقع بھی نہ ملے اور واقعی پل کا کردار بھی اداکرے۔
اس ضمن میں اس خطے کی عالمی ، تاریخی اور مقامی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری تجویز یہ ہے کہ دونوں خطوں کو سینیٹ آف پاکستان اور قومی اسمبلی میں ’’مشروط (تنازع کشمیرکے حل تک کے لئے)‘‘ اور ’’مناسب نمائندگی‘‘ دی جائے۔ تقریباً یہی راستہ بھارت اپنے آئین کے آرٹیکل 370کے تحت مقبوضہ کشمیر اور پاکستان پہلے ہی اپنے آئین کے آرٹیکل 257کے تحت جموں و کشمیرکے حوالےسے اختیار کرچکا ہے۔اس کے ذریعے سی پیک کے حوالے سے حکومت پاکستان جو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے وہ بھی پورے ہونگے اورتنازع کشمیر کی عالمی پوزیشن کو نقصان بھی نہیں پہنچے گا۔ اس عمل سے یہ فائدہ بھی ہوگا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیاں دوریوں میں کمی بھی آئے گی اورغلط فہمیاں کلی طور پر دور نہیں تو ان میں کمی ضرور آئے گی اور یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں خطوں کے ساتھ پاکستان کا سلوک یکساں ہو،کیونکہ دونوں کی قانونی پوزیشن ایک ہی ہے۔جب دونوں خطوں کے نمائندے ایک چھت تلے ہونگے تو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے میں آسانی بھی ہوگی اور بعید نہیں کہ سب لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ کنارے لگنے تک ہم سب ایک ہی کشتی کے سوارہیں ۔
نمائندگی کا یہ مطلب نہیں کہ دوچار نشستیں سینیٹ آف پاکستان اوردو چار نشستیں قومی اسمبلی میں دیکرجان چھڑانے کی کوشش کی جائے ،بلکہ ’’مناسب نمائندگی‘‘ ضروری ہے۔ اس حوالے سے ہماری یہ تجویز ہےکہ قومی اسمبلی کی 25اورسینیٹ آف پاکستان کی 10نشستیں مختص کی جائیں(کم سے کم) ۔قومی اسمبلی کی نشستوں کیلئے (آزادکشمیر کے لئے فی حلقہ 3لاکھ اور گلگت بلتستان کے لئے دو لاکھ سے ڈھائی لاکھ)آبادی مختص کی جائے۔ اس تناسب سے 18نشستیں آزاد کشمیراور7نشستیں گلگت بلتستان کے حصے میں آئیں گی۔اس پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ اس وقت پاکستان میں 7لاکھ 80ہزار آبادی پر قومی اسمبلی کی ایک نشست کا فارمولہ تیار ہوا ہے ۔ اعتراض کرنے والوں کے لئے عرض ہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی کی نشستوں کے حوالے سے دوفارمولے رائج رہے ہیں اور اب بھی اسی پر کام ہورہا ہے۔ ایک فارمولہ وفاق اور چاروں صوبوں اور دوسرا فاٹا کے لئے ہے ۔ اس وقت پاکستان میں جو نئی حلقہ بندیاں ہورہی ہیں وہ وفاق اورصوبوں میں اوسطاً 7لاکھ 80ہزار اورفاٹا میں تقریباً 4لاکھ آبادی کی بنیاد پر ہورہی ہیں اور یہی پوزیشن اس سے پہلے بھی تھی۔ اس میں تیسرا فارمولہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان والا بھی شامل کیا جائے۔ رہی بات سینیٹ آف پاکستان کے نمائندوں کی تو وہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اسی طرح برابری کی بنیاد پر تقسیم کئے جائیں جس طرح صوبوں کے مابین ہیں۔آزاد کشمیر کی آبادی گلگت بلتستان کے مقابلے میں سوا 200فیصد زیادہ ہے تو رقبے میں گلگت بلتستان آزاد کشمیر سے 600فیصد بڑا ہے۔
یوں سینیٹ آف پاکستان اورقومی اسمبلی میں مناسب نمائندگی سے منقسم ریاست جموں و کشمیر کے حصوں (آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان) اورپاکستان کے درمیان قربتوں میں مزید اضافہ ہوگا، بہت سوں کی خواہش بھی جزوی طور پر پوری ہوگی اوردنیا بھر میں تنازع کشمیر کے مقدمے کوبہتر انداز میں پیش کیاجاسکے گا۔یہاں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس کے فوائد و نقائص کے باریک بینی سے جائزے کے ساتھ اسٹیک ہولڈرز کو کلی طور پر اعتماد میں لینا اور انہیں مطمئن کرنا بھی ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button