سینٹ الیکشن: ہارس ٹریڈنگ منڈی

عدالت عظمیٰ،الیکشن کمیشن نوٹس لیں!
تحریر: عبدالجبارناصر
ملک میں 3مارچ2018 کوہونے والے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ(خریدو فروخت)کے حوالے سے 21 فروری 2018 کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں ن لیگ کو بطور جماعت انتخابات سے باہراورپنجاب کو مکمل اوپن کرنے کے بعد جو بازگشت ہے،اس پر الامان والحفیظ ہی کہا جاسکتاہے۔
خبریں ہیں کہ سینیٹ انتخابات کی اسٹاک مارکیٹ میں سب سے زیادہ ریٹ فی الحال فاٹا کا ہے اور ایک نشست پر ایک ارب روپے تک کی بازگشت ہے۔ دوسرا نمبر بلوچستان کا جہاں ابھی چند روز قبل تک ریٹ فی ووٹ 5 کروڑ تک کی بات چل رہی تھی مگر اب خبر ہے کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی اورن لیگ کے ثناء اللہ زہری گروپ کے ممکنہ اتحاد کی پیش رفت کے بعد اب 6کروڑ کی حد بھی کراس ہوگئی ہے۔
حالیہ عدالتی فیصلے سے قبل پنجاب ہارس ٹریڈنگ مارکیٹ میں سب سے پیچھے تھا، مگر اب اطلاع ہے کہ تیسرے نمبر پر آگیا ہے اور جنرل نشست پر ایک سے دو کروڑ روپے فی ووٹ یعنی ایک نشست کے لئے 50سے 60کروڑ روپے کی بولی چل رہی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نشست کی حدتک پنجاب فاٹا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ،جو عدالتی فیصلے سے قبل اس فہرست میں سب سے پیچھے تھا۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب میں عدالتی فیصلے کی روشنی میں میدان اوپن ہونے کے بعد ممبران شدید دبائو کا شکار ہیں اور اسی طرح ن لیگ کے امیدواروں(جو اب آزاد ہیں)پر بھی دبائو ابھی سے ہے کہ ممکنہ کامیابی کی صورت میں شمولیت کا فیصلہ جلد بازی میں نہ کرنا۔
سندھ کے حوالے سے فی ووٹ ایک سے دو کروڑ کی بازگشت ہے اوریہ بھی خبریں ہیں کہ بعض امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ ہم نے 50کروڑ الگ رکھے ہیں یعنی ایک نشست کے لئے، اس کا مطلب ہے کہ سندھ فی الحال چوتھے نمبر پر ہے اور امکان ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کے دونوں گروپوں اتحاد ہونے کی صورت میں ہارس ٹریڈنگ ریٹ میں اضافہ ہوگا۔
فی الحال خیبر پختونخوا پانچویں نمبر پرہے غالباً اس کی وجہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کا مبینہ سینیٹ انتخابی اتحاد ہے ،جہاں پر ریٹ فی ووٹ ایک کروڑ کے قریب ہی ہے۔
سب سے آخر میں وفاق ہے جہاں حکومتی اتحاد کی واضح پوزیشن کے باعث معاملہ ملاقاتوں اور مخصوص دعوتوں سے آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔
بازگشت یہی ہے کہ 21 فروری 2018 کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں ن لیگ کو بطور جماعت انتخابات سے باہراورپنجاب کو مکمل اوپن کرنے کے بعد ہارس ٹریڈنگ کے ریٹ میں تیزی آئی ہے اور اگر یہ بات درست ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کچھ آئین و قانون اور عدالت کی نظروں کے سامنے ہورہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن ہارس ٹریڈنگ کی اس منڈی کے خلاف سخت ایکشن لیں اورخریدو فروخت میں ملوث عناصر کو نشان عبرت بنادیں، ورنہ ساری بدنامی ان ’’مقدس‘‘ اداروں کے کھاتے میں جائے گی۔

متعلقہ مضامین