وزیراعظم نے نوٹس لیا مگر

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کشمالہ طارق کے دفتری عملے کی جانب سے وقت نیوز کے اینکر پرسن مطیع اللہ جان اور ان کی ٹیم سے بدتمیزی کا نوٹس لیا ہے اور ہم اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں _

وزیراعظم نے خاتون وفاقی محتسب اور اہلکاروں کی جانب سے تشدد سے متعلق حقائق جاننے کیلئے وزیراطلاعات کو اہم ذمہ داری سونپ دی ہے تاہم مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ چاہتے ہیں معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوجائے ۔

وقت نیوزکے اینکر مطیع اللہ جان سمیت سینئر صحافیوں نے اسلام آباد میں وزیراطلاعات مریم اورنگزیب سے ملاقات کی ۔ وفد میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر قربان بلوچ اور کشمیر جرنلسٹس فورم کے صدر عابد خورشید کے علاوہ سینئر صحافی عظیم صدیقی، سہیل خان اور غلام نبی یوسف زئی شامل تھے _

مطیع اللہ جان نے خاتون وفاقی محتسب کی جانب سے انہیں اور وقت نیوز ٹیم کو زدوکوب کرنے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ وہ وقت نیوز کی ٹیم کیساتھ انٹرویو کیلیے وفاقی محتسب کے دفتر گئے۔ انٹرویو ہوتے ہی کیمرہ سمیت دیگر آلات قبضہ میں لینے کی کوشش کی گئی اور زدوکوب کیاگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی صحافیوں کو ڈکٹیشن دینے کا اختیار نہیں۔ ایسا رویہ خود محتسب / عدلیہ کے وقار کے منافی ہے۔

اس موقع پر وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ذمہ داری سونپی ہے کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جائے۔ چاہتے ہیں معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوجائے۔ ملاقات میں صحافیوں کا موقف تھا ان کی خاتون محتسب سے کوئی دشمنی نہیں۔ مثبت انداز میں سوال کرنا ایک پیشہ ور صحافی کا حق ہے۔ چاہتے ہیں یہ معاملہ جوڈیشل کونسل بھجوایا جائے تاکہ جو الزامات عائد کئے گئے ان کی چھان بین ہوسکے۔

صحافیوں کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ افراد کا نہیں اداروں کے تقدس کا ہے۔ وفاقی محتسب کو کسی شخص کے سامنے نہیں بلکہ جوڈیشل کونسل کے پاس بھجوانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button