واجد ضیاء احتساب عدالت میں

احتساب عدالت سے ___  اویس یوسف زئی

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تینوں نیب ریفرنسز حتمی مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نیب کے مزکزی گواہ، سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیا نے اپنا بیان ریکارڈ کرانا شروع کر دیا ہے۔ لندن فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں واجد ضیا کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے آج دوسرا دن تھا ۔

احتساب عدالت میں سماعت کا آغاز ہوا تو سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے ہمراہ بطور ملزم عدالت میں پیش ہوئے ۔ اگر چہ انہیں کچھ دیر عدالت میں رکنے کے بعد جانے کی اجازت مل گئی تاہم وہ تین گھنٹے تک کمرہ عدالت میں ہی رکے ۔ اس دوران سماعت میں وقفہ ہوا تو انہوں نے کمرہ عدالت میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو بھی کی ۔ ان کا کہنا تھا محمود اچکزئی نے بیان دیا کہ کہ ایک افسر نے بلوچستان حکومت ختم کرائی، اس معاملے کی انکوائری ہونی چاہیے۔ "میں لڑائی کے حق میں نہیں ہوں، چاہتا ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے۔کیا آئین اور قانون کے مطابق ملک چلانے کی خواہش بری ہے؟ جو کچھ سینیٹ میں ہوا، تماشا پوری قوم نے دیکھا۔جامع نظام عدل لانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ انصاف نہ ملنا یا دیر سے ملنا ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔ سما ٹی وی کے رپورٹر فیاض محمود نے سوال داغا کہ کہ کیا آپ اپنے تجربات اور آپ بیتی پر کوئی کتاب لکھیں گے ؟ نواز شریف نے مسکرا کر جواب دیا کہ اپنے تجربات لکھنے چاہئیں ۔

سماعت شروع ہوئی تو پہلے عدالت نے جے آئی ٹی کے دس والیمز پر مشتمل مکمل رپورٹ کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی استدعا پر دلائل سنے۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ کے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ نہیں، حاصل کیے گئے میٹریل کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔ جس میٹریل کو جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل کیا گیا صرف اسے بطور شواہد پیش کیا جا سکتا ہے۔ جو مواد تفتیشی افسر نے دوران تفتیش اکٹھا کیا، صرف وہی عدالت میں پیش کر سکتا ہے۔قانون کے تحت جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم ایک اور دو قابل قبول شہادت نہیں۔ اس مقدمے میں صرف 3,4اور5 والیمز متعلقہ ہو سکتے ہیں۔ تفتیشی افسر ایسی کوئی دستاویز پیش نہیں کر سکتا جو اس نے خود تیار نہ کی ہو۔ عدالت نے یہ کبھی نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کوئی آسمانی صحیفہ ہے تاہم یہ ضرور کہا کہ سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی کارروائی اور آبزرویشن سے ٹرائل کورٹ متاثر نہیں ہو گی۔عدالت عظمی نے حق دیا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراض اور تحفظات سے آگاہ کروں۔ کوئی ایسی چیز صفحہ مثل پر نہ لانے کی استدعا کروں جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔ تفتیشی افسر کی رائے سے عدالت کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ حقائق اور رائے میں فرق ہوتا ہے، اس حوالے سے بھی عدالتی نظیریں موجود ہیں۔ مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس الگ دائر کرنے کا حکم دیا گیا، مواد بھی صرف اس متعلق پیش کیا جا سکتا ہے۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے اعلی عدالتوں کے فیصلوں کی نقول بھی حوالہ جات کے طور پر پیش کیں۔
نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے کہا کہ آدھے والیم تو انہوں نے خود مان لیے ہیں کہ ریکارڈ پر آ سکتے ہیں جس پر امجد پرویز نے مداخلت کی اور بولے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں، میں نے May be کے الفاظ استعمال کیے تھے۔سردار مظفر عباسی نے کہا میں آپ کے دلائل کے دوران بالکل نہیں بولا، اب مجھے بات کرنے کا موقع دیں۔ انہوں نے دلائل دیے کہ جے آئی ٹی رپورٹ اور پولیس رپورٹ میں فرق ہے۔ واجد ضیا نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم میں تفتیشی افسر کا کردار ادا نہیں کیا۔ وہ جے آئی ٹی سربراہ تھے ۔ سردار مظفر عباسی نے کہا کہ پیش کیے گئے عدالتی فیصلوں کا اطلاق موجودہ کیس پر نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ ہر کیس میں حالات اور حقائق مختلف ہوتے ہیں۔ دہشت گردی مقدمہ کے عدالتی فیصلے کا حوالہ وائٹ کالر کرائم کیس میں نہیں دیا جا سکتا۔ جے آئی ٹی رپورٹ ایک پبلک دستاویز ہے، جے آئی ٹی کا کام ایک کمیشن کی طرح کا تھا۔ جس نے کمیشن کی طرح کام کیا، میٹریل اکٹھا کیا، اس کا جائزہ کیا اور findings دیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ اس کیس میں اہم ثبوت ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ پر پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے انحصار کیا جسے کسی فورم پر بھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ ریفرنس کے ملزمان نے جے آئی ٹی پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کے قیام کا مطالبہ کیا اور اس کے سامنے پیش بھی ہوئے ۔
سماعت کے آغاز کو دو گھنٹے گزرنے کے بعد گیارہ بجے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا نے اپنا بیان ریکارڈ کرانا شروع کیا تو کمرہ عدالت کو اندر سے کنڈی لگا دی گئی۔ ایسے میں بعض ٹی وی رپورٹرز جو اپنے نیوز چینلز کو ٹکرز لکھوانے یا بیپرز دینے باہر گئے تھے انہیں باہر ہی روک دیا گیا۔ اور وہ تب تک اندر نہ آ سکے جب تک کسی وکیل یا سیکورٹی اہلکار کے لیے دروازہ نہ کھولا گیا۔ واجد ضیا نے کاغذ دیکھ کر پڑھنا شروع کیے تو وکلا صفائی نے اعتراض کیا۔ نواز شریف کی ایسوسی ایٹ وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ یہ پیپر بک کھول کر پڑھ رہے ہیں، اپنی یادداشت سے بیان ریکارڈ کرائیں۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے لقمہ دیا کہ میموری ریفریش کرنے کے لیے پیپر بک دیکھنا ضروری ہے۔ عائشہ حامد جج سے مخاطب ہوئیں کہ پھر آپ یہ بات ریکارڈ پر لے آئیں کہ گواہ نے پیپر بک پڑھ کر بیان قلمبند کرایا۔ طارق شفیع کے بیان حلفی پر رائے دینے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ گواہ صرف ثبوت دے سکتے ہیں، اپنی رائے نہیں،اور وہ بھی ایسے شخص کے بارے میں جو اس وقت نہ تو بطور ملزم اور نہ ہی بطور گواہ عدالت کے سامنے ہے۔ عائشہ حامد نے کہا کہ یہ ایک کہانی گھڑ رہے ہیں۔ جج احتساب عدالت نے کہا پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ نے کون سی دستاویزات کیسے اکٹھی کیں؟پراسیکیوشن کا کام ہوتا ہے کہ گواہ کی رہنمائی کرے۔ واجد ضیا بولےمیں پہلے دن سے اس کیس پر کام کر رہا ہوں، میں نے جو دستاویزات پیش کرنی ہیں وہ مجھے میرے طریقے سے دینے دیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے واجد ضیا کو ہدائت کی کہ پہلے آپ بیٹھ کر ترتیب بنا لیں کہ کون سی دستاویز پیش کی جا سکتی ہے اور کون سی نہیں؟ غیر متعلقہ دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا۔ دوبارہ سماعت شروع ہو ئی تو عدالت نے جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ کو ریکارڈ پر نہ لانے کی مریم نواز کی استدعا جزوی طور پر منظور کر لی ۔عدالت نے کہا کہ فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا تاہم ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کا تجزیہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا۔ واجد ضیاء کی طرف سے جے آئی ٹی ممبر عرفان منگی کی دستخط شدہ دستاویزات پیش کرنے پر بھی اعتراض سامنے آیا ۔ مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ عرفان منگی خود بطور گواہ عدالت آ کر حلف کے بعد بیان ریکارڈ کرائیں تو کوئی اعتراض نہیں۔
واجد ضیا نے قطری شہزادے حمد بن جاسم اور جے آئی ٹی کے مابین خط و کتابت کا ریکارڈ احتساب عدالت میں پیش کیا۔ پہلے حمد بن جاسم کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے لکھا گیا خط عدالت میں پیش کیا گیا اور پھر اس کے جواب میں موصول ہونے والا خط اور اس کا لفافہ جس میں خط بھجوایا گیا تھا وہ بھی عدالت کے سامنے رکھا گیا۔ حمد بن جاسم نے 26 جون کو جے آئی ٹی کو لکھے گئے خط کو بھی بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ جس میں حمد بن جاسم نے پاکستان آ کر تحقیقات میں شامل ہونے اورجے آئی ٹی سمیت عدالت کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی تاہم شریف خاندان کے ساتھ مالی معاملات طے کرنے سے متعلق اپنے دونوں خطوط کی تصدیق کی جو اس سے پہلے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی میں پیش کیے گئے تھے۔ شریف خاندان کا لندن فلیٹس کی ملکیت اور خریداری سے متعلق تمام تر انحصار انہی خطوط پر تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جہاں نواز شریف اور مریم نواز کے وکلا واجد ضیا کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات پر بار بار اعتراض اٹھا رہے تھے، اس خط پر ان کی طرف سے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ سماعت ایک دن کے لیے ملتوی ہو گئی اور احتساب عدالت نے واجد ضیاء کو ایک بار پھر تمام دستاویزات ترتیب میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے