پشتون تحریک اور ہمارا خوف

عبدالجبارناصر
منظور احمد پشتین کے بارے میں اب سوشل میڈیا میں کافی کچھ موجود ہے۔منظور احمد پشتین کے مطالبات کا ہر باشعور فرد نہ صرف حمایت کرتا ہے بلکہ ہرممکن مدد کے لئے بھی تیار ہے۔ان کے بنیادی پانچ مطالبات ہیں کہ
1۔ نقیب محسود کے قتل میں ملوث تمام اہلکاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
2- محسود علاقے میں موجود لینڈ مائنز (بارودی سرنگوں) کا صفایا کیا جائے۔
3- کسی ناخوشگوار واقعے کے بعد فاٹا میں کرفیو لگانے اور عام لوگوں کی تذلیل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
4- ملک بھر میں غائب کیے گئے لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
5- جوڈیشل کمیشن بنا کر جعلی مقابلوں میں مارے جانے والے بے گناہ افراد کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔
یہ جائز مطالبات پشتونوں بالخصوص فاٹا کے عوام کی آواز بن چکے ہیں اور پشتون عوام کو منظور احمد پشتین کی شکل میں ایک مسیحا دکھائی دے رہا یہی وجہ ہے کہ ’’محسود تحفظ تحریک‘‘ اب ’’آل پشتون نیشنل جرگہ‘‘میں تبدیل ہوگئی۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ریاست اور ریاستی مقتدر اداروں نے فاٹا کے مختلف علاقوں کے حوالے گزشتہ 15سال کے دوران بہت زیادہ غفلت کا مظاہرہ کیا اور ہماری غلطیوں کی وجہ سے ملک بھر میں ’’پشتون‘‘لفظ کو خوف و دہشت کی علامت بنادیاگیا۔ ہزاروں افراد ریاست کے باغی ہوکر، ہزاروں افراد باغیوں کا نشانہ بنکر اور ہزاروں افراد عالمی سامراج کا نشانہ بنکر 9/11کے بعد ہماری غلط حکمت عملی کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے۔لاکھوں افراد مہاجر ہوگئے۔ضرورت تو اس امر کی تھی کہ ریاست اور ریاستی ادارے فوری حالات کا ادراک کرکے ازالہ کرتے مگرعملاً ایسا نہیں دکھائی دے رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ منظور احمد پشتین کو بڑے پیمانے پر پزیرائی مل رہی ہے۔
یہاں تک تو بات ٹھیک ہے مگرمیں نے میڈیا بالخصوص سوشل اور عالمی میڈیا میں منظور احمد پشتین کی جو گفتگو سنی یا پڑھی ہے اس سے کچھ ڈر سا بھی لگنے لگا ہے(اللہ کرے کہ یہ میرا صرف وہم ہی ہو)، کیونکہ ریاست اور ریاستی اداروں کے حوالے سے ان کے لب و لہجے میں سختی تو بظاہر نظر نہیں آتی ہے مگر تنز بہت زیادہ ہےاور جو بات وہ کر رہے ہیں وہ ہماری ماضی کی کوتاہیاں ہیں ۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر منظور احمد پشتین کی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا اور بات چیت کی بجائے دیگر ذرائع سے منظور احمد پشتین اور ان کے ساتھیوں کو منانے کی کوشش کئی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں ۔ ہمارے ڈر کی دوسری وجہ حد سے زیادہ عالمی میڈیا کی توجہ بھی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ منظور احمد پشتین کے جائز مطالبات کو فوری حل کیا جائے اور تاخیر کی صورت میں ان کی تحریک ریاست کے ہاتھ سے نکل بھی سکتی ہے ،جبکہ منظور احمد پشتین کوبھی عالمی اور مقامی سازشیوں سے بچکر اپنے حقوق کے لئے پاکستان کے آئین کے مطابق پر امن جدوجہد کرنا ہوگا، ورنہ پشتونوں کا ایک نیا امتحان پھر شروع ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button