نوازشریف کے خلاف اصل مقدمہ

تحریر: فیاض محمود

ایک ہوتی ہے خود اعتمادی اور دوسری ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی ۔ شریف خاندان کیا خود اپنا دشمن ہو چکا؟ مشکلات کی دلدل میں پھنسے میاں صاحب کیا سچ میں باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے ۔۔ تین بار وزیراعظم رہ چکے نواز شریف کیا اپنے خلاف کیس کو سچ میں سمجھتے ہی نہیں یا سمجھنا ہی نہیں چاہتے؟ ’’آپ کے خلاف کیس میں کچھ نہیں ہے ‘‘ جیسے من بھاتے جملوں کے شور میں کوئی نہیں بتا رہا ہے کہ میاں صاحب نیب بار ثبوت آپ کے کندھوں پر منتقل کر چکا ۔۔

جی ہاں! ساری صورتحال میں شریف خاندان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے مگر وہ سازش سازش کی تکرار سے باہر نہیں نکلنا چاہتے ۔ نیب نے شریف خاندان کی قانونی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ پیش کیا تو مذاق اڑایا گیا کہ اس میں کہاں قانون کی خلاف ورزی ہوئی۔ فرانزک ماہر رابرٹ ولیم ریڈلے کے بیان پر تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ کہانی ختم ہوگئی، نیب ناکام ہوگیا ۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے حسن، حسین اور مریم نواز کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات ٹرائل کورٹ میں جمع کرانا شروع کیں تو کہا گیا یہ تو ہماری ہی دستاویزات ہیں۔ مریم نواز نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے عدالت میں چلنے والی کارروائی کو مذاق قرار دیا۔ یہ بھی کہہ ڈالا واجد ضیاء تو ہماری ہی دستاویزات کا سہارا لے رہے ہیں، نیا کیا لے کر آئے ہیں۔ اطراف میں کھڑے لیگی رہنماوں نے فاتحانہ قہقہقہ لگایا کہ شاید کیس اتنا آسان ہے جتنا شریف خاندان سمجھ رہا ہے۔

نواز شریف کی بات درست ہے کیس کرپشن کا نہیں بلکہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے۔ شاید انہیں یہ علم نہیں آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نیب قوانین کے مطابق کتنا سنگین ہے۔ سوال یہ ہے نیب نواز خاندان کی قانونی ٹرانزیکشن کیوں پیش کر رہا ہے۔ سادہ سا جواب ہے نیب ثابت کر رہا ہے یہ پیسہ قانونی طور پر منتقل کیا گیا۔ فرض کر لیجیئے دس ارب روپے کی قانونی ٹرانزیکشن کی گئیں مگر اثاثے 20 ارب روپے کے ہیں۔ دس ارب روپے مالیت کے زائد اثاثوں کا حساب سابق وزیراعظم کے سر پر آسانی سے ڈال دیا گیا۔ مطلب مکمل طور پر بار ثبوت نواز شریف پر متنقل ہوچکا ہے۔

رابرٹ ریڈلے کے بیان کو لے کر بہت چرچا ہوا کہ وہ نواز خاندان کے حق میں گیا۔ یہ درست ہے رابرٹ ریڈلے سے نیب پرایسکیوشن ٹیم کی ملاقات اور پھر ان کے بیان میں تضاد نے کیبلری فونٹ کی حد تک نیب کے موقف کچھ کمزور کیا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے رابرٹ ریڈلے  اپنی بات پر قائم رہے۔ انہوں نے بتایا کیلبری فونٹ 2005 میں موجود ضرور تھا مگر آئی ٹی ایکسپرٹ تک محدودو تھا۔ کمرشلی دستیاب نہیں تھا تو پھر اس کا کمرشل استعمال بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ سماعت کے آخر میں جج نے ان سے واضح الفاظ میں پوچھا تھا’’ ٹرسٹ ڈیڈ میں ممکنہ طور پر جعلسازی ہوئی یا واضح جعلسازی ہے،، رابرٹ ریڈلے کا جواب تھا واضح جعلسازی ہوئی ہے‘‘۔

اس لیے کہانی ختم نہیں ہوئی ۔ اس میں تھوڑا جھول ضرور آیا مگر حتمی فیصلہ عدالت کو ہی کرنا ہے۔ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے بیان پر بھی تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید وہ کچھ نیا نہیں دے پا رہے۔ انہوں نے سب سے پہلے وہ دستاویزات ٹرائل کورٹ میں پیش کیں جو شریف خاندان نے سب سے بڑی عدالت میں جمع کرائی تھیں۔ واجد ضیاء احتساب عدالت کو شریف خاندان کے سپریم کورٹ میں اپنائے گئے موقف تک محدود کر رہے ہیں۔ نیب کو بخوبی علم ہے کہ نواز فیملی کا دفاع آنا ہے۔

خواجہ حارث پائے کے وکیل ہیں۔ وہ جانتے ہیں دفاع کب اور کیسے پیش کرنا ہے۔  عام طور پر گواہوں پر جرح کے دوران دفاع ظاہر ہوجاتا ہے مگر خواجہ حارث نے ماہرانہ انداز میں آج تک کسی کو ہوا تک نہیں لگنے دی وہ دفاع میں کیا پیش کرنے والے ہیں ۔ واجد ضیاء اس لیے نواز خاندان کے سپریم کورٹ میں اپنائے گئے موقف سے عدالت کو آگاہ کر رہے ہیں تاکہ دفاع کے وقت موقف تبدیل کرنے میں مشکل پیش آئے۔ موقف تبدیل کیا تو احتساب عدالت کو تاثر جائے گا کہ ایک فورم پر غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ موقف میں تبدیلی نہ کی گئی تو پہلے والا دفاع  سپریم کورٹ مسترد کر چکی، اس لیے بہت کم امکانات ہیں کہ احتساب عدالت اس موقف کو تسلیم کرے۔ یوں کہہ سکتے ہیں یہاں بھی نواز خاندان مشکل میں ہے۔ سپریم کورٹ میں کیس کو بہت آسان لیا گیا۔ عدالت میں دستاویزات جمع کرانے سے پہلے میڈیا کی زینت بنائی گئیں۔ احتساب عدالت میں چلنے والی کارروائی کو مذاق قرار دے کر جان نہیں چھڑائی جاسکے گی۔ صرف سازش کا راگ الاپ کر احتساب عدالت کو مطمئن نہیں کیا جاسکے گا۔ یہاں دفاع بھی پیش کرنا ہوگا۔ آمدن سے زائد اثاثوں کو قانونی بھی ثابت کرنا ہوگا۔ مذاق مذاق کی رٹ سے نکل کر غور وفکر کرنا ہوگا۔ آمدن سے ذائد اثاثے کیسے بنائے گئے اس کی دستاویزات عدالت میں پیش کرنا ہوں گی کیونکہ کیس کرپشن کا نہیں آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے۔

یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ والد کے کارروبار کے گرد بات گھوم رہی ہے۔ اس بات کو دستاویز سے ثابت کرنا ہوگا۔ سب سے اہم بات ، ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کے خول سے باہر نکلنا ہوگا ورنہ انجام سپریم کورٹ سے مختلف نہ ہوگا۔ ​

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے