خطیب/امام کو سزا ہوگی

عبید عباسی

اب خطیب/ امام کو سزائیں ھونگی

وزارت مذہبی امور نے بالآخر یکساں نظام صلوہ/ آذان کا مسودہ اتفاق رائے سے منظور کر لیا ھے جس کو پارلیمنٹ میں بھیجا جائے گا ، مسودے کی باقاعدہ منظوری کے بعد یہ ایک قانون. Unified Timing of Azaan and Prayers Act, 2018 کا قانون بن جائے گا۔

یہ مسودہ وزارت مذہبی امور نے تیار کیا ھے جس پر اسلام آباد کے علما کرام کا اتفاق رائے ھے ۔ اس مسودے کا بنیادی مقصد اسلام آباد کی تمام مساجد میں یکساں نماز کا اہتمام ھو سکے۔ 2015 میں وزارت مزہبی امور کے وزیر سردار یوسف نے یہ فیصلہ کیا کہ اسلام آباد کی تمام مساجد میں یکساں نظام صلوہ کو رایج کیا جائے لیکن اس پہ عمل درآمد میں وزارت کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور وزارت نے اس کو قانونی شکل دینے کا فیصلہ کیا، یہ مسودہ اس سلسلے کی ایک کڑی ھے۔

پاکستان 24 کے مطابق یہ مسودہ وزارت کیڈ اور داخلہ کو بھی بھیجا جائے گا تاکہ ان کی رائے بھی لی جاسکے جس کے بعد اس کو حتمی طور پر کابینہ سے منظور کروا کر پارلیمنٹ کو بھیجا جاے گا۔ مسودے کے مطابق حکومت آذان کے کلینڈر کی چھپائی اور اس کی تقسیم تمام مساجد میں یقنی بنائے گی۔ اور اس حوالے سے ایک مانیٹرینگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ جس کا ایک سربراہ اور چار ممبر ھوں گے۔

اس کمیٹی کا بنیادی مقصد یکساں نظام صلوہ ایکٹ کی عملدرآمد کو یقینی بنانا اور مختلف اوقات میں اس کا جاہیزہ لینا ھو گا۔اور سال میں ایک دفعہ حتمی رپوٹ دے گی ۔ کمیٹی کا یہ بھی مینڈیٹ ھو گا کہ وہ مکمل طور پہ جو کیلنڈر میں وقت درج کیا گیا ھے اسکو مانیٹر بھی کرے۔ اس مسودے کا سب سے اھم جز سزاوں کا ھے۔ مسودے کے مطابق اگر کوئی  خطیب/ امام اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ھے تو اس کے لیے  6 ماہ کی قید اور 5000 روپیہ جرمانہ تجویز کیا گیا ھے یا دونوں بھی ھو سکتے ہیں۔ اور اگر خطیب یہ جرمانہ نہ دے سکے تو اس کے اکاونٹ سے کٹوتی کی جائے گی۔ مسودے کے مطابق مانٹیرنگ کمیٹی کو یہ اختیار ھو گا وہ خلاف ورزی کرنے والے خطیب/ امام کے خلاف انکوائری کر سکتی ھے اور وہ خود شکایت بھی سن سکتی ھے۔

اس مسودے کی منظوری کے بعد دیکھنا یہ ھوگا کہ اس کی عملدرامد کو حکومت کس طرح یقینی بناتی ھے کیونکہ قانون تو بن جاتے ھیں لیکن ان پہ عمل درآمد ایک مشکل کام ھوتا ھے۔ سی ڈی اے مطابق اسلام آباد میں 1000 سے زیادہ مساجد اور امام بارگاہیں ھیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button