دورہ افغانستان سے کیا حاصل ہوا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ افغانستان میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے _

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ افغانستان کے حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا امن و سلامتی ایکشن پلان کو فعال بنانے پر اتفاق ہوا جبکہ چند اصولوں کے مطابق ورکنگ گروپ کو فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا اور پاکستان افغان قیادت میں ہونے والے افغان امن عمل کی حمایت کرے گا ۔
اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک اپنی سرزمین میں موجود شرپسند عناصر اور ایسے عناصر جو ایک دوسرے کی سیکیورٹی کے خطرہ ہیں کے خاتمے کے لیے کام کریں اور اپنی اپنی سرزمین دیگر ممالک تنظیموں نیٹ ورکس یا انفرادی طور پر موجود غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونے دیں گے، مشترکہ فیصلوں پر عملدرآمد دیکھنے کے لیے مشترکہ لائذون آفیسرز کا قیام کیا جائے گا  –

دونوں ملکوں نے عوامی سطح پر بلیم گیم سے اجتناب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کی علاقائی حدود اور فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کریں گے جبکہ
افغان پاکستان ایکشن پلان مشترکہ ورکنگ گروپس میں ہر طرح کے تعاون کیا جائے گا ۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ان نکات پر اتفاق وزیراعظم کے 6 اپریل کے دورۂ کابل کے دوران ہوا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے