دو جرنیلوں سے تحقیقات ہوں گی

سپریم کورٹ نے 1990 کے الیکشن میں سیاست دانوں میں پیسے بانٹنے کے مشہور زمانہ اصغر خان کیس فیصلے پر عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی ہے _ عدالت نے دو سابق جرنیلوں اسلم بیگ اور اسد درانی کی فیصلے پر نظرثانی کیلئے دائر درخواستوں کو خارج کر دیا ہے ۔

سپریم کورٹ نے 2012 میں دیے گئے فیصلے میں مذکورہ دونوں جرنیلوں سے ایف آئی اے کو مقدمہ درج کر کے تحقیقات کے لئے کہا تھا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ کیس میں درخواست گزار اصغر خان مرحوم کے بیٹے کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں تین افراد اسلم بیگ، اسد درانی اور یونس حبیب کو فریق بنایا گیا، یونس حبیب اس وقت حبیب بینک کے سربراہ تھے مہران بنک کے نہیں ۔ انیس سو نوے میں اسمبلی کو تحلیل کر کے دوبارہ ایکشن کرائے گئے، فیصلے ہوا کہ پیپلز پارٹی کے مخالفین کو فائدہ دیا جائے، اس سکیم کے تحت سیاست دانوں کو فائدہ دیا گیا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خلاصہ یہ ہے کہ سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئیں ۔ وکیل نے کہا کہ یہ کیس اعلٰی عہدوں پر براجمان لوگوں کے حلف سے خلاف ورزی کا بھی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کیا ایکشن تجویز کیے گئے ۔ وکیل نے کہا کہ عدالت نے انیس نوے کے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا، عدالت نے قرار دیا کہ مطلوبہ نتائج کے لیے انتخابی عمل کو آلودہ قرار دیا، فیصلے میں سابق صدر کیخلاف اقدامات کا حکم دیا گیا ۔

عدالت میں مرحوم اصغر خان کی عمر رسیدہ اہلیہ بھی پیش ہوئیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو اس عمر میں آنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ وکیل سلمان راجا نے کہا کہ اصغر خان کی اس ملک اور قوم کیلئے یہ آخری اور بڑی خدمت تھی جو انہوں نے یہ مقدمہ سپریم کورٹ لا کر کی ۔ اس عدالت نے پہلے اس کیس کا فیصلہ کرنے میں اٹھارہ برس لگا دیے اور اب گزشتہ چھ برس سے اس فیصلے پر عمل نہیں ہو رہا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سابق صدر کا مواخذہ ہو سکتا تھا لیکن وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا یونس حبیب انتقال کر گئے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یونس حبیب حیات ہیں، عدالت نے 90 کے انتخابات میں جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے کردار کو غیر قانونی قرار دیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے رقوم کی تقسیم کے معاملے پر تحقیقات کا حکم دیا ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت نے سیاستدانوں کو پیسے کی تقسیم پر تحقیق کا حکم دیا، فوجی حکام کے کرداد کے حوالے سے عدالت نے ان کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا، عدالت نے قرار دیا کہ فوج اور حساس اداروں کا سیاست میں کوئی کردار نہیں، عدالت نے ذمہ داروں کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا، عدالت نے جنرل اسد درانی کے خلاف آئین اور قانون کے تحت کارروائی کا حکم دیا ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ حکومت نے اسد درانی اور دیگر کے خلاف کیا کارروائی کی۔ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ حکومت نے کسی زمہ دار کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے 6 سال قبل فیصلہ دیا تھا اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا، نظر ثانی کے مقدمہ میں کوئی حکم امتناہی نہیں دیا گیا، کون زمہ دار ہے جنہوں نے عدالتی فیصلہ پر عمل نہیں کیا، اٹارنی جنرل کدھر ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت موقع دے تو اقدامات کا میں معلوم کر لیتا ہوں، عدالت اقدامات کا معلوم کرنے کے لیے 2 دن کا وقت دے ۔

 

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالتی فیصلہ میں واضح لکھا ہے کہ جنرل اسد درانی نے آئین کی خلاف ورزی کی ۔ اسد درانی کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ایسا کوئی میکانزم نہیں ہے جس سے تعین ہو کہ سپریم کمانڈ کی کونسی بات قانونی ہے یا غیر قانونی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسد درانی نے تسلیم کیا انہوں نے سیاست دانوں میں رقم تقسیم کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا غیر قانونی کمانڈ تسلیم کرنا اسد درانی کے لیے لازم تھا۔ وکیل نے کہا کہ آرمڈ آفیسر اپنے سپریم کمانڈر کی ہر بات ماننے کا پابند ہوتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ منطق جنگی حالات میں قابل عمل ہو سکتی ہے، سول لائف میں اس منطق کا کوئی اطلاق نہیں ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اسد درانی اس مقدمہ میں کوئی وعدہ معافی گواہ بننا چاہتے ہیں، مقدمہ میں وعدہ معاف گواہ بننے کی کوئی استدعا اسد درانی نے نہیں کی ۔ اسد درانی کے وکیل نے کہا کہ فوج میں چین آف کمانڈ ہے، اسد درانی نے کمانڈ کے احکامات کو تسلیم کیا ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ چین آف کمانڈ کی ڈائریکشن کدھر ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ اسد درانی چین آف کمانڈ کے تحت کیسے ہو گئے، آئی ایس آئی کا سربراہ وزیر اعظم کا ماتحت ہوتا ہے ۔ وکیل نے کہا کہ ایوان صدر میں الیکشن سیل ایگزیکٹو کے احکامات سے قائم ہوا، الیکشن سیل میں آئی ایس آئی کے سربراہ کا بھی کردار تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسد درانی کو کس نے رقم تقسیم کرنے کا حکم دیا، وکیل نے بتایا کہ اسد درانی کو آرمی چیف نے ذمہ داری سونپی، آرمی چیف کے حکم پر رقم بانٹنے کا سیکریٹ آپریشن کیا گیا، آرمی ایکٹ کے مطابق کمانڈ کی ہدایات نہ ماننے پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا فوج کا آفیسر کسی اہلکار کو قتل کرنے کا حکم دے سکتا ہے ۔ اسد درانی کے وکیل نے کہا کہ اگر ایسا حکم آئے تو فوجی اس پر عمل کرنے کا پابند ہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ موکل کے دفاع کے لئے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کریں، پاک فوج کسی غیر قانونی احکامات کو ماننے کی پابند نہیں، یونس حبیب نے رقم لا کر دی جسے ذمہ داران نے تقسیم کیا ۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کو سننے کے بعد سمجھتے ہیں کہ نظر ثانی کا مقدمہ نہیں بنتا، عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں، ڈی جی ایف آئی اے بھی عدالتی فیصلے پر اب تک کے عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کریں، اسلم بیگ نے کہا کہ عدالت کا مجھے دلائل کی اجازت دینا اعزاز کی بات ہے، 1975میں لاجسٹک سپورٹ کے لیے سیاسی سیل قائم کیا گیا، سیاسی سیل ذوالفقار علی بھٹو نے قایم کیا، قسم کھاتا ہوں بطور آرمی آفیسر اپنی آئینی زمہ داری سے انحراف نہیں کیا، الیکشن اور اس کے نتائج سے میرا کوئی تعلق نہیں _

کیس کی سماعت کل تک ملتوی

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے