مطیع اللہ جان کو نوٹس کیوں؟

پریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے صحافی مطیع اللہ جان کو اچانک توہین عدالت کے دو نوٹس جاری کیے اور پھر واپس بھی لے لیے _

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کے مقدمے کی سماعت کر رہا تھا، صحافی عابد خورشید عدالت کو صحافیوں کے مسائل سے آگاہ کر رہے تھے _ اسی دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ کیسے رپورٹرز ہیں، کیسے خبر لکھتے ہیں، کیا ایسے رپورٹ کیا جاتا ہے، یہاں مطیع اللہ جان موجود ہیں، انہوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے دو ججوں کو کرپشن پر نوٹس جاری کیا _

مطیع اللہ جان روسٹرم پر آئے اور کہا کہ وہ میرا ٹوئٹ ہے، میرا ذاتی اکاؤنٹ ہے _ چیف جسٹس نے اپنے سامنے پڑے صفحہ سے مطیع اللہ جان کا ٹوئٹ پڑھ کر سنایا اور اسٹاف کو حکم دیا کہ توہین عدالت کے قانون کی کتاب لائی جائے، پھر متعلقہ قانون کی شقوں پڑھ کر آرڈر جاری کیا، مطیع اللہ جان نے کہا کہ کیا مجھے بھی سنا جائے گا _ چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹس پر تحریری جواب دس روز میں دیدیں _

مطیع اللہ جان اپنی نشست پر بیٹھ گئے، کچھ دیر بعد چیف جسٹس نے عدالت میں موجود رپورٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے لیے کیا کر رہا ہوں اور مطیع اللہ جان کیا کر رہے ہیں، اس کو بھی دیکھیں _ مطیع اللہ جان اپنی نشست سے اٹھ کر آگے بڑھے اور کہا کہ آپ نے ابھی مجھے نوٹس جاری کیا ہے، میرے ساتھی صحافیوں کو میرے بارے میں کمنٹس دینے کی ترغیب نہ دیں، اس سے میرا کیس متاثر ہوگا، چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ عدالت کی اس کے سامنے توہین کر رہے ہیں، ابھی آپ کو توہین عدالت کا دوسرا نوٹس جاری کرتے ہیں _ مطیع اللہ جان نے کہا کہ سر، اس میں اتنا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے _

روسٹرم پر موجود صحافی پرویز شوکت اور مظہر اقبال نے اس موقع پر مداخلت کی اور کہا کہ عدالت درگزر سے کام لے  جس کے بعد نوٹس واپس لے لیے گئے ۔

مطیع اللہ جان کی ٹوئٹ درج ذیل ہے ۔

’سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خواجہ آصف کو ناہل کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو معزز ججوں کو کرپشن کے کیس میں نوٹس جاری کرکے ان کے خود صادق امین ہونے پر سوال اٹھا دیئے ۔ ججوں پر بطور وکیل ای او بی آئی کروڑوں روپے فیس لینے کا الزام ھے ۔ کرپشن الزام میں ایسی طلبی پہلی بار ھے‘۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے