ججوں کی درخواست پر فیصلہ

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا ہے ۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ اوپن ٹرائل کے لیے دائر درخواستوں کو سپریم جوڈیشل کونسل دوبارہ زیر غور لائے اور اپنے پہلے والے فیصلے کو نظر انداز کر کے درخواستیں سنے _ پاکستان ۲۴ کے مطابق عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کاررائی آئین اور قانون کے مطابق ہے اور اس کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کا مقصد اس شخص کی شہرت اور حقوق کا تحفظ کرنا ہے جس کی کنڈکٹ زیربحث لایا گیا ہو، اسی طرح عدلیہ کے ادارے اور سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کا بھی تحفظ مدنظر ہوتا ہے اور اس خفیہ رکھنے کو اسی طرح دیکھنا چاہیئے ۔

واضح رہے کہ جوڈیشل کونسل نے اس سے قبل دونوں ججوں کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں کہ ٹرائل اوپن نہیں ہو سکتا  _ پاکستان ۲۴ کے مطابق سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ججوں کا مواخذہ کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل کی حیثیت منفرد ہے، یہ عدالتی نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کا ٹربیونل ہے اور اس کے فیصلے سفارشی حیثیت رکھتے ہیں تاہم اس کے اخذ کردہ نتائج میں حتمی عنصر ہوتا ہے _ اس فورم پر ہونے والی کارروائی کے دو حصے ہوتے ہیں  ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے