فلسطینیوں کے قتل کی تحقیقات مسترد

امریکی سفارت خانے کی یروشلم/القدس منتقلی کے موقع پر احتجاج کرنے والے 55 فلسطینیوں کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کر کے روک دیا ہے ۔ فرانسیسی خبر رساں اے ایف پی کے مطابق امریکا نے سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ناطے اپنا ویٹو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے اقدامات کی آزادانہ تحقیق کرانے کے قرارداد کو ختم کر دیا ہے ۔

فلسطین میں حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 55 افراد مارے گئے جبکہ 2700 زخمی ہوئے ہیں ۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی انتہائی شرمناک پامالی قرار دیا ۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے تین دن کے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگوں کے خلاف قتل عام ایک بار جاری ہے ۔ واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان راج شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ حماس فلسطینیوں کے قتل کی ذمہ دار ہے جبکہ اسرائیل کے پاس اپنے دفاع کا پورا حق ہے ۔

اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کے خلاف صرف اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کیے کیونکہ وہ اسرائیل کو تباہ کرنے کے خواہشمند ہیں ۔ عالمی سطح پر اس واقعے کا ردعمل آیا ہے اور ترکی و جنوبی افریقہ نے اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے ۔

 

 

 

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے