مجھے یوں نکالا، نوازشریف عدالت میں

مجھے کیوں نکالا ؟ نواز شریف نے عدالت کو بتا دیا

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی

لندن میں مے فیئر اپارٹمنٹس سے متعلق نیب کے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا بیان تیسرے روز مکمل ہو گیا ۔ نواز شریف نے تین گھنٹے عدالتی روسٹرم پر گزارے اور دو دن بیان ریکارڈ کرانے کے بعد باقی رہ جانے والے 5 عدالتی سوالات کے جواب قلمبند کرائے۔ عدالت کا سوال نمبر124 تھا کہ آپ کے خلاف ریفرنس کیوں بنایا گیا اور اس پر آپ کیا کہیں گے؟ نواز شریف روسٹرم پر آئے اور چھ صفحات پر مشتمل اردو میں لکھا بیان پڑھنے کی اجازت مانگی۔ایک موقع پر نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ ان کے دور میں دس ہزار میگا واٹ بجلی کی اضافی پیداوار ہوئی اور سماعت کے وقفے کے بعد جیسے ہی نواز شریف دوبارہ عدالتی روسٹرم پر آئے تو بجلی چلی گئی اور انہیں مزید بیس منٹ تک پنکھے اور اے سی کے بغیر عدالت میں کھڑے ہو کر بیان ریکارڈ کرانا پڑا ۔

نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے خلاف جھوٹے ، بے بنیاداور خودساختہ مقدمات کی وجہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں عدالت کے کٹہرے میں لانا، سر جھکا کر نوکری کرنے سے انکار کرنا، گھر کی خبر لینے اور خارجی اور داخلی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ کوئی ایک گواہ بھی ان کے خلاف ادنیٰ ثبوت بھی پیش نہ کرسکا۔ کسی کمپنی، جائیداد یا فیکٹری سے میرا تعلق ثابت نہیں ہو سکا،،ا ن کے آباو اجدادہجرت کرکے یہاں آئے، کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینےکو اپنی حب الوطنی کی توہین سمجھتا ہوں ۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کے خلاف جھوٹے، بے بنیاد ،من گھڑت اور خود ساختہ مقدمات قائم کیے گئے۔ یہ تاثر لیا گیا کہ ان کا وجود کچھ معاملات میں رکاوٹ بن رہا ہے، اس لئے منصب اور پارٹی سے ہٹانا، عمر بھر کے لئے نااہل قرار دینا اور سیاسی عمل سے خارج کردینا ہی واحد حل سمجھا گیا۔۔ 2014 کے دھرنوں کے ذریعےلشکر کشی کرکے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ پرویزمشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے،،انہی دنوں ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام پہنچایا گیا کہ میں مستعفی ہو جاوں یا طویل رخصت پر چلا جاوں۔ نواز شریف نے کہا،اس پیغام سے رنج ہوا کہ پاکستان کس حال کو پہنچ گیا ہے، منتخب وزیر اعظم کی بس اتنی توقیر رہ گئی ہے کہ اس کے ماتحت ادارے کا ملازم وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کا پیغام بھجوا رہا ہے۔ شاید ہی تیسری دنیا کے کسی ملک میں اتنی افسوس ناک صورت حال ہو، سابق وزیر اعظم نے کہا مستعفی ہونے کا مطالبہ اس تاثر کی بنیاد پر تھا کہ مجھے ہٹا دیا گیا تو مشرف کے خلاف مقدمے کو لپیٹنا مشکل نہیں رہے گا۔نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ 19 سال قبل جو کچھ ہوا کیا پاناما کی وجہ سے ہورہا تھا؟ کیا ان کے ساتھ یہ سلوک لندن فلیٹس کی وجہ سے کیا جارہا تھا؟ اس وقت بھی جمہوریت کی بات کرتا تھا، آج بھی وہی کر رہا ہوں، اس وقت بھی کہتا تھا اور آج بھی کہہ رہا ہوں کہ داخلی اور خارجی پالیسوں کی باگ ڈور عوام کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے فیصلے کا اختیار دیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری ایک قومی سیاسی رہ نما کے ہمراہ میرے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں پارلےمنٹ کے ذریعے مشرف کے دوسرے مارشل لا یعنی تین نومبر کو ایمرجنسی کے اقدام کی توثیق کر دینی چاہئے۔انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ مصلحت کا تقاضہ یہی ہے ۔ میری حکومت نے پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے وکلا سے مشاورت کا آغاز کیا تو مشورہ دیا گیا کہ اس بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارادہ ترک کر دوں ، مجھے ایسے پیغامات بھی ملے کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے سے اس کا تو شاید کچھ نہ بگڑے، مگر میرے لیے بہت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ ان مشورہ نما دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے میں اپنے ارادے پر قائم رہا ۔ میں نے کہا اب وقت آ گیا ہے کہ ڈکٹیٹر کے غیر آئینی اقدام کی پارلیمانی توثیق کرنے کے بجائے اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ اس سے پوچھا جائے کہ اس نے اپنا حلف کیوں توڑا اور مسلح افواج کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کیوں استعمال کیا؟ شاید قانون و انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاست کے لیے بنے ہیں۔ جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی کند ہو جاتی ہے اور فولاد بھی موم بن جاتا ہے ۔ آئین شکنی یا اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک یا دو جرنیل کرتے ہیں۔ اقتدار کی لذتیں بھی صرف مٹھی بھر جرنیلوں کے حصوں میں آتی ہیں لیکن اس کی قیمت پوری مسلح افواج کے پورے ادارے کو ادا کرنی پڑتی ہے ۔ اس فوج کی اصل آبرو بہادر ماوں کے وہی فرزند ہیں جو اقتدار کی بارگاہوں کے بجائے سرحدی مورچوں میں بیٹھتے اور حکمرانی کی لذتیں سمیٹنے کے بجائے ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کر دیتے ہیں۔ میں نے اپنی فوج کی پیشہ وارانہ استعداد میں اضافے کو ہمیشہ اہمیت ی۔ میرے دور میں دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا دو ٹوک اور ٹھوس جواب دینے کا فیصلہ کرنے میں چند گھنٹوں کی تاخیر بھی نہیں کی۔

نواز شریف نے کہا کہ کیا پوری عدالتی تاریخ میں سپریم کورٹ کے کسی جج کو کسی مخصوص مقدمے میں نیب کورٹ کا مانیٹر جج بنایا گیا ہے؟ اور جج بھی وہ جو میرے خلاف فیصلہ دے سکا ہے ۔ احتساب عدالت کے جج نے نواز شریف کو روکتے ہوئے کہا کہ یہ تو آپ انہی سے سوال کریں ۔ فی الحال عدالت کے سوال کا جواب دیں کہ یہ کیس آپ کے خلاف کیوں بنایا گیا ؟

نواز شریف پھر گویا ہوئے کہ کاش آپ اس دنیا سے گزر جانے والے اور ایک زندہ جرنیل سے بھی پوچھ سکتے کہ آپ میں ایسی کیا خوبی تھی کہ آپ نے دس دس سال حکمرانی کی ؟ اور کاش آپ اپنے سینئر جج صاحبان کو بلا کے بھی پوچھ سکتے کہ آپ نے ہر آئین شکنی اور غداری کو جواز کیوں بخشا؟ اپنے حلف سے بے وفائی کر کے آمروں کے ہاتھ پر بیعت کیوں کی ؟ بلا شبہ ہم سب کو ایک دن اللہ کے حضور پیش ہونا ہے جہاں کوئی جھوٹ چلے گا اور نہ فریب ۔ سب سے بڑی عدالت اللہ ہی کی ہے ۔ میں نے اپنا مقدمہ آپ کی عدالت میں پیش کر دیا ہے اور انصاف کا منتظر ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت آپ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں گے کہ آپ کو بھی ایک دن اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں پیش کرنا ہے ۔

جمعرات کو مریم نواز عدالتی سوالوں کے جواب دیں گی جس کے بعد کیپٹن صفدر کو بطور ملزم احتساب عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے کا کہا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button