بھری عدالت میں چیف جسٹس سے گستاخی

سپریم کورٹ میں اسلام آباد میٹروبس سروس کے خلاف مشاہد حسین کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار اور ایک درخواست گزار شاکر علی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے، دونوں نے ایک دوسرے کو دماغی خلل کے طعنے دیتے ہوئے معائنہ و علاج کرانے کے لئے کہا ہے  _

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا مشاہد حسین سید صاحب موجود ہیں؟

مشاہد حسین سید عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ میں نے 4 سال قبل جسٹس تصدق جیلانی کو خط لکھا، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر 4 سال قبل لکھا تھا تب بھی آپ دلائل دیں _ مشاہد حسین نے کہا کہ میرا مسئلہ ماحولیات سے متعلق تھا، میں نے سی ڈی اے کے ماسٹر پلان پر سوالات اٹھائے تھے، مشاہد حسین سید نے کہا کہ اب چونکہ میٹرو بس بن چکی یے لہذا اس کیس کو نمٹانا ہی بہتر ہے، جس کے بعد چیف جسٹس نے ازخود نوٹس نمٹا دیا

ازخود نوٹس نمٹانے پر ایک اور درخواست گزار شاکر علی نے عدالت میں کہا کہ سنے بغیر میری درخواست کیوں نمٹا دی گئی؟ سپریم کورٹ کے ایک جج ہائیکورٹ کے حکم پر عمل نہیں ہونے دے رہے، پاکستان 24 کے مطابق شاکر علی نے کہا کہ وہ جج اور کوئی نہیں بالکل چیف جسٹس صاحب آپ خود ہیں، درخواست گزار نے کہا کہ 9 ماہ سے آپ فیصلہ نہیں ہونے دے رہے _

پاکستان 24 کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ وہی ہیں جن کی درخواست میں نے بطور سیکرٹری قانون منظور نہیں کی اور آپ کے خلاف فیصلہ دیا، شاکر علی نے جواب میں کہا کہ ٹھیکے کے لیے  آپ نے مجھ سے رشوت مانگی مگر میں نے آپ کو رشوت نہیں دی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے بارے میں جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے آپ کے دماغی توازن کا معائنہ ہونا چاہیے، شاکر علی نے جواب دیا کہ چلیں ہم دونوں چل کر معائنہ کراتے ہیں، آپ میڈیکل بورڈ بنائیں اس میں ہم دونوں پیش ہوں گے _

عدالتی عملے نے درخواست گزار کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا

متعلقہ مضامین

One Comment

  1. درخواست گزار ایک با ضمیر اور دیانت دار شخص معلوم ہوتا ہے ۔ پاگل لوگ ایسی باتیں نہی کرتے بلکہ سیدھی سیدھی گالیاں بکتے ہیں یا حملہ آور ہوتے ہیں ۔ میڈیکل بورڈ دونوں کا ہونا چاھئے ۔ کرپشن کے الزام پر چیف جسٹس کو مستعفی اگر نہی ہونا تو کم از کم سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانا چاھئے اور تب تک چیف کو عدالتی یا انتظامی کام نہی کرنا چاھئے ۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں انکے خلاف اور درخواستیں بھی موجود ہیں ۔ درخواست گزار شاکر اللہ آج کل کے مجاھد اعظم ہیں میرے مطابق ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے