جسٹس قاضی فائز کی رائے

سید صبیح الحسنین

شیخ رشید نااہلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں آبزرویشن دی ہے کہ کیا بحریہ ٹاﺅن پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی (جسکے مالک پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض ہیں ) نے سیاسی فائدے کے طور پر شیخ رشید کو ون ففتھ (کئی گنا کم) قیمت پر گھر دیا ہے ۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ کیا شیخ رشید کے پاس سفید دھن، جسے قانونی طور پر انکم ٹیکس اتھارٹیز کے سامنے ظاہر کیا ہو، نہیں تھا یا انہیں مذکورہ گھر سیاسی فائدے کے طور پر تقریباً ون ففتھ قیمت پر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قیاس میں مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے جس میں ہم نہیں پڑنا چاہتے ۔
یاد رہے جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 2-1 کی برتری سے شیخ رشید کے خلاف نا اہلی کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔
مگر قاضی فائض عیسیٰ کے اختلافی نوٹ، جس میں انہوں نے پانامہ کیس کے زریعے سیاستدانوں کو نا اہل قرار دینے کے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں اور
(Principle of Strict Liability)
کو مرضی کے مطابق استعمال کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، نے ملک کے قانونی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اپنے اختلافی نوٹ میں درخواست گزار کی جانب سے بحریہ ٹاﺅن اور شیخ رشید کی مبینہ ملی بھگت کے الزام پر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے بات کی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما شکیل اعوان نے الزام لگایا تھا کہ شیخ رشید نے اپنے بحریہ ٹاﺅن میں واقع مکان کی قیمت 10.2 ملین ظاہر کی جب کہ گھر خریدنے کے وقت اس کی اصل قیمت 48 ملین تھی ۔ اپنے الزام کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے بحریہ ٹاﺅن کے جنرل منیجر آپریشنز شیخ امجد کی شہادت کا زکر کیا جنہوں نے الاٹمنٹ سرٹیفیکیٹ کی تصدیق شدہ کاپی ٹریبونل میں جمع کرائی تھی اور کہا تھا کہ گالف سٹی بحریہ ٹاﺅن میں واقع گھر کی قیمت اس وقت 48 ملین ہے جو کہ اب تقریباً 60 ملین ہو چکی ہے ۔ ان دلائل پر شیخ رشید کے وکیل نے کہا تھا کہ بقیہ رقم کی جگہ بحریہ ٹاﺅن کو کئی کنال پر مشتمل زرعی زمین دی گئی تھی ۔

اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے آبرویشن دی کہ دستاویزات کے مطابق مذکورہ پندرہ کنال اور چار مرلے کی زرعی زمین اب بھی شیخ رشید کے نام پر ہے زمین بیچنے یا اس کی منتقلی کا معاہدہ یا دستاویزات موجودہیں اور نہ ہی ریوینیو اتھارٹھیز کو اس حوالے سے کوئی اطلاع دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ ٹاﺅن کے جنرل منیجر نے گھر کی اس وقت کی قیمت اور شیخ رشید کی جانب سے ادائیگی کا اعتراف کیا ہے جبکہ جمع کرائے گئے الاٹمنٹ سرٹیفیکیٹ میں نہ ہی گھر کی قیمت کا تذکرہ ہے اور نہ ہی گھر لینے کے لیے زرعی زمین کو بحریہ ٹاﺅن کو منتقلی کا زکر ہے جبکہ شیخ رشید نے اسے اپنے کاغذات نامزدگی میں شامل ناقابل منتقل اثاثوں
(Immovable Assets)
کی تفصیلات میں بھی ظاہر نہیں کیا۔
اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غور کرنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بحریہ ٹاﺅن پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ایک کارپوریٹ ادارہ ہے اور ہر ایسے ادارے کے اکاﺅنٹس کا آڈٹ کر کے متعلقہ اتھارٹی کو جمع کرایا جاتا ہے اگر بحریہ ٹاﺅن نے (شیخ رشید کی زرعی زمین میں سے ) پندرہ کنال اور چار مرلے لیے ہیں تو اسے دستاویزات میں ظاہر کرنے کی ضرورت تھی مگر ایک دستاویز بھی اس سلسلے میں جمع نہیں کرائی گئی اور نہ ہی کمپنی کے کسی نمائندے نے کہا کہ مذکورہ زمین کو ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مزید آبرویشن دی کہ کمپنی کے سیلز ایگزیکٹو اور فنانس منیجر نے بغیر تاریخ درج ایک خط پیش کیا جس پر دستخط کی جگہ پر شیخ رشید کے دستخط بھی موجود نہیں تھے اور دستخط کی غیر موجودگی میں بحریہ ٹاﺅن کمپنی مبینہ فروخت کے لیے شیخ رشید کو زمہ دار نہیں ٹھہرا سکتی۔ اختلافی نوٹ میں مزید کہا کہ اس صورتحال میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ایک لمیٹڈ لائیبلٹی کمپنی اس طرح کا غیر روایتی انداز اپنا کر اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کیوں کرے گی۔ اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا، ” تاہم ہمارے سامنے واضح ہے کہ ریکارڈ پر کافی شواہد موجود ہیں جس سے یہ رائے قائم ہو کہ جواب دہندہ. 1 (شیخ رشید) نے اپنے اثاثوں میں گھر کی قیمت غلط ظاہر کی ہے جو کہ 48 ملین سے کم نہیں تھی۔ ”

(سید صبیح الحسنین انگریزی روزنامہ دی نیشن کے لیے سپریم کورٹ سے رپورٹنگ کرتے ہیں)

@SabihUlHussnain

متعلقہ مضامین

تبصرہ

  1. شیخ رشید یقینا سی آئی اے ایجنٹ ہے- مبشر لقمان اور مہر بخاری کے درمیان سازش کے تانے بانے کی ویڈیو طشت از بام ہوگئی تھی لیکن کوئی شرم اور کوئی حیا کہاں ، کدھر ؟؟؟؟ یہ سازش ریاض مِلن صاحب کے ایما ء پر کی گئی تھی! اسوقت چونکہ خلائی مخلوق نواز شریف کے خلاف تلی ہوئی ہے لہذا نواز شریف کی مدد کرنا شرعا فرض ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے