محکمہ زراعت کی مشہوری

پاکستان میں سوشل میڈیا ویب سائٹس کے صارفین کے درمیان محکمہ زراعت کو مشہور کرنے کا مقابلہ جاری ہے ۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر طرح طرح کے تبصرے، چٹکلے اور جملے بازی نے الیکشن کے دنوں میں لوگوں کی تفریح طبع کا خوب سامان کیا ہے ۔

محکمہ زراعت کی اس مشہوری یا بدنامی کا سبب مسلم لیگ ن کے پنجاب اسمبلی کیلئے ملتان سے امیدوار رانا اقبال سراج بنے ہیں جن کی ہفتے کے روز ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے مقامی افسروں نے اسے علاقائی دفتر میں بلا کر ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ ن لیگ چھوڑ دو، الیکشن نہ لڑو ورنہ تمہارا کاروبار تباہ کر دیں گے اور تمہارے ماں باپ کو بھی نقصان پہنچائیں گے ۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جب لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ‘میری رانا اقبال سراج سے فون پر بات ہوئی ہے اس کو آئی ایس آئی کے مقامی دفتر میں بلا کر دھمکایا گیا اور بعد ازاں مار پیٹ کی گئی’ ۔ نواز شریف کے اس بیان نے عالمی میڈیا میں پاکستان کے عام انتخابات کی شفافیت پر سوالات کو جنم دیا ۔

اتوار کے دن رانا اقبال سراج کا دوسرا بیان سامنے آیا جو ویڈیو ہی کی صورت میں تھا کہ ‘ان کو آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے بارے میں غلط فہمی ہو گئی تھی ان کے گودام پر چھاپہ محکمہ زراعت والوں نے مارا تھا اور ان کو ڈرایا دھمکایا تھا اس میں فوجی افسران کا کردار نہ تھا’ ۔

رانا اقبال کے اس دوسرے بیان کے بعد نواز شریف پر مخالفین کی جانب سے تنقید کی گئی کہ انہوں نے خفیہ محکموں کو نشانہ بنایا ہے تاہم مشاہد حسین نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایسے معاملات میں کیا ہوتا ہے سب کو علم ہے، اس طرح کے بیان کے بعد اگلے روز سرکاری سچ بولنا پڑتا ہے ۔

اس صورتحال کے دوران پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین نے طنزیہ طور پر پوسٹ شروع کر کے محکمہ زراعت پر الیکشن میں مداخلت کا الزام لگایا ہے ۔ بعض صارفین نے لکھا ہے کہ آئی ایس آئی نے اپنا نام تبدیل کر کے محکمہ زراعت رکھ دیا ہے آئندہ اسی سے لکھا اور پکارا جائے ۔

متعلقہ مضامین