چیف جسٹس اور جنرل فیض میں مکالمہ

آئی ایس آئی کے صدر دفتر کے سامنے بند کی گئی شاہراہ عام کو بارہ سال بعد کھولنے کیلئے زیر سماعت مقدمے میں بلائے جانے پر جنرل فیض حمید سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے دوسرے مقدمات کی سماعت کے دوران وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل فیض صاحب آ گئے ہیں، پھر بولے کہ یس جنرل فیض۔ اسی دوران جنرل فیض حمید اپنی نشست سے اٹھ کر عدالتی روسٹرم پر پہنچ چکے تھے ۔
جنرل فیض نے جواب دیا کہ سر ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ معاملہ تجاوزات کا ہے، بہت آرام سے، نرمی سے کہہ رہے ہیں، اور فوج کے لئے احترام ہے مگر یہ آپ سمجھیں کہ عدالتیں سب سے اوپر ہیں،۔ پاکستان ٹوئنٹی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کے تمام اداروں سے عدالتیں اوپر ہیں، اپنے اوپر سطح (اعلی افسران) تک کو کہیں کہ عدالتوں سے نہ گھبرائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں میں پیش ہونے سے بھی شرمندہ نہ ہوں، آئی ایس آئی کی اہمیت سے آگاہ ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو ہر صورت برقرار رکھنا ہے، ہم نے شہر سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا تھا ۔
جنرل فیض حمید نے کہا کہ بالکل سچ سر ۔ (ٹرو سر) ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی آئی ایس آئی کو بلایا تھا، مگر ہم نے اس کیس میں یہ احکامات پہلے دئیے تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چونکہ مقدمہ یہاں زیر سماعت تھا تو ہائی کورٹ متوازی کیس نہیں سن سکتی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل صاحب، معلوم ہے اب آپ کے لوگوں نے عدالت سے کیا کہا ہے؟ آٹھ سے بارہ ہفتے صرف منصوبہ بنانے کیلئے مانگے گئے کہ کس طرح سڑک کھولی جائے گی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے جنرل فیض حمید سے کہا کہ کیا عدالت میں آ کر بہتر محسوس کر رہے ہیں؟ Are you enjoying yourself being in the court

جنرل فیض حمید نے مسکراتے ہوئے کہا کہ سر، پہلی بار پیش ہو رہا ہوں، آپ جانتے ہوں گے ہم بڑی ایجنسی ہیں، سب سے زیادہ حملے ہم پر ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں ۔ جنرل فیض نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اہم ہے، ہم عدالتوں کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں ۔ جنرل فیض نے کہا کہ حساس آلات دوسری جگہ منتقل کرنے ہیں، اس کے لئے چھ ہفتوں کا وقت دے دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے ڈی جی کی بجائے آپ کو بلایا، آپ آئی ایس آئی میں نمبر دو ہیں ۔

حکم لکھواتے ہوئے چیف جسٹس نے جنرل فیض لکھوایا تو جنرل نے تصحیح کی اور کہا کہ جنرل فیض حمید، جس پر پورا نام لکھوایا گیا ۔ عدالت نے چھ ہفتے کا وقت مانگنے والے جنرل کو آٹھ ہفتے کی مہلت دیدی ۔ اس طرح سپریم کورٹ کی جانب سے آئی ایس آئی کو سڑک کھولنے کیلئے دو ماہ کی مہلت دیدی گئی

جنرل فیض عدالت سے باہر جانے کیلئے واپس پلٹے اور عدالت کے اندر بیٹھے ہوئے نادرا کے چیئرمین سے بھی ہاتھ ملا کر نکل گئے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور

 

متعلقہ مضامین