پٹرولیم ٹیکسوں کا ریکارڈ طلب

سپریم کورٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس پاکستان اسٹیٹ آئل کے منیجنگ ڈائریکٹر کی 37 لاکھ روپے تنخواہ کا سن کر غصے میں آ گئے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ کل شاید قیمتیں کم کی گئی ہیں، عدالت کو ٹیکس اور قیمتوں کے بڑھانے سے متعلق آگاہ کریں، پٹرولیم کی قیمتیں حکومت کے پیسہ کمانے کے لیے نہیں ہوتیں ۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ ملکی پٹرول کی پیدوار ضرورت کا 15 فیصد پورا کرتی ہے، ضروریات پوری کرنے کے لیے 85 فیصد پٹرول درآمد کیا جاتا ہے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا سعودی عرب سے ادھار تیل ملنے کی بات میں صداقت ہے؟ پی ایس او کے ایم ڈی نے کہا کہ سعودی عرب سے پہلے تیل ادھار ملتا تھا اب نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تیل سستے سے سستا چاہیے،بیرون ملک تیل مڈل مین کے ذریعے کیوں خریدا جاتا ہے، مڈل مین دونوں جانب منافع اور کمیشن لیتا ہے ۔

ایم ڈی نے بتایا کہ تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں مارکیٹنگ نہیں کرتی ۔ چیف جسٹس نے ایم ڈی سے پوچھا کہ آپ کے پاس پٹرولیم کے شعبہ میں کام کا کیا تجربہ ہے، آپ کی اس وقت تنخواہ کیا ہے؟ ایم ڈی نے بتایا کہ میرا متعلقہ شعبہ میں تین سال کا تجربہ ہے اور میری تنخواہ 37 لاکھ روپے ہے ۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا بیوروکریسی ختم ہوگئی تھی جو نجی کمپنی سے بندہ لینا پڑا ؟ آپ واپس اینگرو کمپنی میں ہی جائیں، گریڈ 22 کے افسر سے کئ گنا زیادہ آپ کی تنخواہ اور مراعات ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب کیا بکواس ہے؟ اتنی بھاری تنخواہ پر بندے لگائے جاتے ہیں، قوم کے ٹیکسوں کے پیسے کے ضیاع کی بات کر رہا ہوں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ صارفین کو دئیے جانے والے پٹرول میں کوئی گڑ بڑ تو نہیں، پرانے معاملات کو آج نہیں دیکھنا، اگر معاملے میں کوئی گڑ بڑ ہو تو نیب اور دیگر اداروں کو بھیج دیتے ۔

پاکستان اسٹیٹ آئل کے ایم ڈی نے بتایا کہ گزشتہ 2 سال میں پی ایس او کا منافع 6 ارب روپے ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پٹرول کی قیمت بڑھے تو سیل ٹیکس کم کردیا جاتا ہے ۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ دونوں صورتوں میں عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غیر ضروری اخراجات کی ادائیگی بھی عوام کو کرنا پڑتی ہے، پی ایس او کی 6 ماہ کی درآمدات کا آڈٹ کروالیتے ہیں، کیا ایک لیٹر کی قیمت میں پورا پٹرول فروخت ہوتا بھی ہے یا نہیں،پٹرول پمپس کی مشینوں پر باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے پٹرول کی امپورٹ میں کوئی گڑ بڑ ہورہی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل پانی کی سطح کا جائزہ لینے تربیلا ڈیم گیا، تربیلا منصوبے پر کام کرنے والوں نے درخواست کی کہ ڈیمز کیلئے  کمیشن نہ بننے دیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تعین کروانا چاہتے ہیں کہیں پٹرول پر کمیشن تو نہیں لیا جارہا ؟ ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ قیمتیں اور آئندہ کی پیشگوئی گوگل پر دستیاب ہوتی ہے ۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ڈی جی صاحب کوئی عقل والی بات کریں، فضول باتیں کرکے ہمارا وقت نہ برباد کریں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میمن کمیونٹی کہتی ہے چار آنے میں سے 2 آنے دبا لیتےہیں ۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میمن برادری کی دل سے عزت کرتا ہوں، تیل اور عام کاروبار میں فرق ہوتا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اپنی طرف سے نہیں کی، جو تھوڑا ریلیف عوام کو ملا وہ سپریم کورٹ کی وجہ سے ملا، ہم نے صارفین کی سہولت کے ساتھ ریاست کے مفاد کو بھی دیکھنا ہے، ہم نے ریاست کو بھی چلانا ہے،ریاست ٹیکسوں سے چلتیلیکن ہم نے یہ بھی دیکھنا کہ عوام کے ساتھ زیادتی نہ ہو، عدالت نے یہ دیکھنا ہے یہ عوام سے زائد قیمت وصول نہیں کی جارہی، اگر قیمت زائد وصول ہوبھی رہی ہے تو اس میں بدنیتی تو شامل نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب ! میرا دل کہتا آپ مسلہ حل کر لیں گے ۔ چیف جسٹس نے ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا اور کہا کہ ماہرین 2 گھنٹے میں امپورٹ کا آڈٹ کر سکتے ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمتوں کا فرانزک آڈٹ ہو تو سب سامنے آجائے گا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے کل سیل ٹیکس کم کیا ہے، اب بھی پٹرولیم پر سیل ٹیکس میں کمی کی گنجائش ہے، اوگرا کے انسپیکشن سسٹم آؤٹ سورس ہونے میں شفافیت نظر نہیں آرہی، ہم نے ہمیشہ معذرو ادارے ہی پیدا کیے ۔

چیف جسٹس نے چیئرمین اوگرا سے کارکردگی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ناقص پٹرول کے باعث میری سرکاری گاڑی کئی بار خراب ہوئی، اوگرا کے پاس چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہیں، جب تک اداروں کے سربراہ ٹھیک نہیں ہونگے کام نہیں چلے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہرجگہ جاکر معائنہ کرنا میرا کام ہے، قیمتوں کے تعین کا جامع فریم ورک بتایا جائے ۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آئل کی امپورٹ کے آڈٹ کے لیے ماہرین سے رابطے کریں اور آگاہ کریں کہ امپورٹ میں کمیشن تو نہیں لیا جارہا ۔ عدالت نے کہا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسسز کی وضاحت کرے ۔ عدالت نے اوگرا سے انسپکشن ٹیم آؤٹ سورس کرنے پر بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے 6 ہفتوں میں کئے جانے والے  معائنوں کا ریکارڈ طلب کر لیا ۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 14 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے